30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ریا یا تو جلی یعنی واضح ہوتی ہے یا خفی ہوتی ہے۔ جلی ریا سے مراد وہ ریا ہے جو عمل پر ابھارے اور اس کا باعث بنے۔جبکہ خفی ریا سے مراد وہ ریا ہے جو عمل پر تو نہ ابھارے البتہ مشقت میں کمی کر دے، جیسے کوئی شخص روزانہ نمازِ تہجد ادا کرنے کا عادی ہولیکن اس طرح کہ وہ نماز اس پر گراں گزرتی ہو، مگر جب اس کے ہاں کوئی مہمان آئے یا کوئی شخص اس کی تہجد پر مطلع ہو جائے تو اب اس کی چستی میں اضافہ ہو جائے اور اس پر وہ گراں بھی نہ گزرے، نیز اس کے ساتھ ساتھ اس کا یہ عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے بھی ہو (تو یہ خفی ریاہے) کیونکہ اگر ثواب کی امید نہ ہوتی تو وہ تہجد ہی ادا نہ کرتا۔ خفی ریاء کی پہچان کی علامت یہ ہے کہ وہ تہجدادا کرتا رہے اگرچہ کوئی اس کے عمل پر مطلع نہ بھی ہو۔
اس سے بھی زیادہ خفی ریا وہ ہے جو نہ تو آسانی مہیا کرے اور نہ ہی کسی تخفیف کا سبب بنے، اس کے باوجود وہ ریاکاری میں اس طرح مبتلا ہوجائے جیسے پتھر میں آگ پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس قسم کی خفی ریا کو پہچاننا علامات کے بغیر ممکن نہیں ہوتا اور اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ لوگوں کا کسی کی اطاعت اور عبادت پر مطلع ہونا اسے خوش کردے۔
کچھ بندے اپنے عمل میں ریاکاری کوناپسند کرتے ہیں اور اس کی مذمت بھی کرتے ہیں ، انہیں ریاکاری نہ تو کسی عمل کی ابتداء پر ابھارتی ہے نہ ہی کسی عمل پر قائم رکھتی ہے، البتہ جب لوگ ان کی عبادت پر مطلع ہوتے ہیں تو انہیں خوشی حاصل ہوتی ہے اس صورت میں ریا ان کے دل میں اس طرح پوشیدہ ہوتی ہے جیسے پتھر میں آگ پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ خوشی خفی ریا پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر دل لوگوں کی طرف متوجہ نہ ہوتا تو وہ اپنی عبادت پر ان کے آگاہ ہونے سے خوشی کا اظہار نہ کرتا، چونکہ ’’ لوگوں کے اس کے عمل سے آگاہ ہونے کوناپسندنہ کرنے نے ‘‘ اس کے سکون کو حرکت دی تو یہی چیز خفی ریا کی رگ کی غذا بن گئی، اس قسم کی ریا میں وہ کسی ایسے سبب کو تلاش کرتا ہے جو لوگوں کے آگاہ ہونے کا با عث بن سکے، خواہ وہ سبب تعریض ہو یا پست آواز کرنا ہو یا ہونٹوں کو خشک رکھنا یا طویل تہجد گزاری پر دلالت کرنے والی انگڑائیوں اور جمائیوں کے غلبے کا اظہار ہو۔
اس سے بھی بڑھ کر خفی ریایہ ہے کہ نہ تو لوگوں کے آگاہ ہونے کی خواہش ہو اور نہ ہی عبادت کے ظاہر ہونے پر خوشی ہو، البتہ اس بات پر خوشی ہو کہ ملاقات کے وقت لوگ سلام کرنے میں پہل کریں اوراُسے خندہ پیشانی سے ملیں ، نیز اس کی تعریف کریں اور اس کی ضروریات پوری کرنے میں جلدی کریں ، خریدوفروخت میں اس کی رعایت کریں اور جب وہ ان کے پاس آئے تو وہ اس کے لئے جگہ چھوڑ دیں ۔ جب کوئی شخص ان معا ملات میں ذرہ بھر کوتاہی کرے تو یہ بات اسے اُس عبادت کے عظیم ہونے کی وجہ سے ناگوار گزرے جو وہ پوشیدہ طور پر کر رہا تھا۔ گویااس کا نفس اس عبادت کے مقابلہ میں اپنا احترام چاہتا ہے یہاں تک کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اس نے یہ عبادات نہ کی ہوتیں تو وہ اس احترام کی خواہش بھی نہ رکھتا۔
نوٹ: جب بھی مخلوق سے متعلق چیزوں میں اطاعت کا پایا جانا اس کے نہ پائے جانے کی طرح نہ ہوجائے توبندہ نہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم پرقناعت کرسکتا ہے اور نہ ہی چیونٹی کی چال سے زیادہ خفیف ریا کے شائبہ سے خالی ہو سکتا ہے۔
سیدنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیارشاد فرماتے ہیں : ’’ ان تمام صورتوں میں اَجر ضائع ہوسکتا ہے اوراس سے صرف صدیقین ہی محفو ظ رہ سکتے ہیں ۔ ‘‘
حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْمارشاد فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن قاریوں سے ارشاد فرمائے گا کیا تمہیں سودا سستا نہیں دیا جاتا تھا؟ کیا تمہیں سلام کرنے میں پہل نہیں کی جاتی تھی؟ کیاتمہاری حاجتیں پوری نہیں کی جاتی تھیں ؟۔ ‘‘
{64}…ایک حدیث (قُدسی) میں ہے : ’’ تمہارے لئے کوئی اَجر نہیں کیونکہ تم نے اپنا اَجر پورا پورا وصول کرلیا۔ ‘‘
لہٰذا مخلص بندے ہمیشہخفی ریا سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ان کے نیک اعمال کے سلسلہ میں انہیں دھو کا نہ دے سکیں دیگر لوگ جتنی کو شش اپنے گناہ چھپانے میں کرتے ہیں یہ ان سے زیادہ اپنی نیکیاں چھپانے کے حریص ہوتے ہیں اوراس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی نیکیوں کو خالص کرنا چاہتے ہیں تا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن لوگوں کے سامنے انہیں اَجر عطا فرمائے کیونکہ انہیں اس بات پر یقین ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ صرف وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو اخلاص کے ساتھ کئے ہوتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ سخت محتاج اور بھوکے ہوں گے اوران کا مال و اولاد انہیں کچھ کام نہ آئے گا سوائے اس کے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں قلبِ سلیم (یعنی گناہوں سے محفوظ دل ) لے کر حاضر ہو گااور نہ کوئی باپ اپنی اولاد کے کام آئے گا یہاں تک کہ صدیقین کو بھی اپنی ہی فکر ہو گی ہر شخص نفسی نفسی پکار رہا ہو گا، جب صدیقین کا یہ حال ہوگا تودیگر لوگ کس حال میں ہوں گے؟
ہر وہ شخص جو اپنے دل میں بچوں ، دیوانوں اور دیگر لوگوں کے اپنے عمل پرآگاہ ہونے سے فرق محسوس کرتا ہو وہ ریا کے شائبے میں مبتلا ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ یہ جان لیتا کہ نفع ونقصان دینے والااور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے اور دوسرے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے تو اس کے نزدیک بچوں اور دیگر لوگوں کا آگاہ ہونا برابر ہوتا اور بچوں یا بڑوں کے مطلع ہونے سے اس کے دل پر کوئی فرق نہ پڑتا۔ ریاء کاہرشائبہ عمل کو فاسد اور اَجر کو ضائع کرنے والا نہیں ہوتا، اپنے اعمال پر خوشی کبھی قابل تعریف ہوتی ہے اور کبھی قابلِ مذمت۔
قابلِ تعریف خوشی جیسے (۱) …کسی کو یہ مشاہدہ حاصل ہو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے اچھے عمل کوظاہر کرنے کے لئے لوگوں کو اس کے عمل پر مطلع کیا ہے اور اس پر کرم فرمایا ہے، حالانکہ وہ اپنی عبادت و معصیت کو دل میں چھپائے ہوئے تھا لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے محض اپنے کرم سے گناہوں پر پردہ ڈال کر اس کی عبادت کو ظاہر فرما دیا اور اس سے بڑااحسان کسی پر کیا ہو گا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندے کے گناہوں کو چھپا دے اور عبادت کو ظاہرکردے لہٰذا بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اس پر نظرِ رحمت کی وجہ سے خوش ہو لوگوں کی تعریف اور ان کے دلوں میں اس کے لئے جو مقام و مرتبہ ہے اس کی وجہ سے خوش نہ ہو (تو یہ ریا نہیں ) جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ- (پ۱۱، یونس: ۵۸)
تر جمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خو شی کریں ۔
(۲) …یا خوشی کا قابلِ تعریف ہونا اس وجہ سے ہے کہ بندہ یہ سو چ کرخوش ہو جاتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جب دنیا میں اس کے گناہوں کو چھپایا اور اس کی نیکیوں کو ظاہر فرمایا تو آخرت میں بھی اس کے ساتھ یہی سلوک فرمائے گا، چنانچہ،
{65}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس بندے کے گناہ کی دنیا میں پردہ پوشی فرماتاہے آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع