دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

ترجمہ کنزالایمان: اور میں مسلمان ہوں ۔

کہاتو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے عتاب کرتے ہوئے اس سے ارشاد فرمایا:  

وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ (۹۱)   (پ۱۱، یونس: ۹۱)

ترجمۂ کنز الایمان : اورپہلے سے نافرمان رہا اور توفسادی تھا۔

یعنی یہ بات اب تجھ پر ظاہر ہوئی تونے پہلے اسے کیوں نہ جان لیا؟

پھر اس کی روح قبض کرنے سے پہلے اس سے ارشاد فرمایا:  

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةًؕ-  (پ۱۱، یونس: ۹۲)

ترجمۂ کنزا لایمان: آج ہم تیری لاش کو اترا دیں  (یعنی باقی رکھیں )  گے کہ تو اپنے پچھلوں کیلئے نشانی ہو۔

                یعنی تا کہ نجات اس کی علامت ہو جائے کیونکہ جب اس نے وہی کہا جو میں نے اسے کہا تھا تو اس کی نجات بھی میری طرف سے ایسی ہی ہو گی جیسی تمہاری ہو گی، کیونکہ عذاب کا تعلق صرف ظاہر سے ہوتا ہے اور یقینا میں نے مخلوق کو اس کا عذاب سے نجات پانا دکھا دیا، لہٰذا غرق ہونا ابتدائی وقت میں عذاب تھا اور اس میں مرنا خالص شہادت تھی تا کہ کوئی بھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ،

اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ (۸۷)   (پ۱۳، یوسف : ۸۷)  

ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللہ  کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔

اور اعمال کادارومدار تو خاتمہ پر ہی ہے۔ اور اللہ  تعالیٰ کایہ فرمانِ عالیشان:

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَاؕ-  (پ۲۴، المؤمن: ۸۵)

ترجمۂ کنز الایمان : تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیاجب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔

                نہایت واضح ہے کہ حقیقی نفع دینے والا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہی ہے لہٰذا انہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی نے نفع پہنچایا اوراللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان:

سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖۚ-  ( پ۲۴،المؤمن : ۸۵)

 

ترجمۂ کنز الایمان : اللہ  کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا

سے مراد مایوسی کے وقت ایمان لانا ہی ہے، نیز فرعون کی روح قبض کر لی گئی اور حالتِ ایمان میں اس کی موت میں تاخیر اس وجہ سے نہیں کی گئی کہ کہیں وہ اپنے سابقہ دعوی پر نہ لوٹ آئے۔ اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے اس فرمانِ عالیشان:   

فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَؕ-  (پ۱۲، ھود: ۹۸)

ترجمۂ کنز الایمان : تو انہیں دوزخ میں لااُتا رے گا۔

میں اس بات کی دلیل کہاں ہے کہ فرعون بھی ان لوگو ں کے ساتھ جہنم میں داخل ہو گا؟ بلکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے تو ارشاد فرمایا:  

اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ  (پ۲۴، المؤمن: ۴۶)

ترجمہ کنزالایمان: حکم ہوگا فرعون والوں کو داخل کرو۔

                یہ نہیں فرمایا :  ’’ اے فرعون!  جہنم میں داخل ہو جا۔ ‘‘  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رحمت اس بات سے بہت وسیع ہے کہ وہ مضطر کاایمان قبول نہ فرمائے اور فرعون کے غرق ہوتے وقت کے اضطرار سے بڑا اضطرار کونسا ہو سکتا ہے؟ چنانچہ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:  

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ  (پ۲۰، النمل: ۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان: یاوہ جولاچار کی سنتا ہے جب اسے پکارے اور دور کر دیتا ہے برائی۔

                اس آیتِ کریمہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے مضطر کی پکار کے ساتھ مقبولیت اور برائی ہٹا دینے کو ملا دیا، لہٰذا فرعون کا عذاب  صرف غرق ہونا ہی تھا۔ ‘‘  

 سوال: یہ ہے کہعلامہ ابن عربی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کا یہ کلام صحیح ہے یا غلط؟ اگر صحیح نہیں ہے تواس کے رد کی وجہ بیان فرمائیے؟

جواب: یہ کلام صحیح نہیں ، اگرچہ ہم اس کے قائل کی جلالت کو تسلیم کرتے ہیں ، مگر معصوم توصرف انبیاء کرام  علیہم الصلاۃ والسلام  (اور ملائکہ)  ہی ہیں ، سیدنا امام مالک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  وغیرہ نے مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پُرانوار کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا :  ’’ ان صاحبِ مزار ( یعنی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)  کے علاوہ ہرایک سے اس کے قول کے بارے میں مؤاخذہ ہو گا اور اس کا قول اس پر لوٹا دیا جائے گا۔ ‘‘  

                نیزبعض کتب میں امام ابن عربی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے خود یہ بات نقل فرمائی ہے :  ’’ ہامان وقارون کے ساتھ فرعون بھی جہنم میں ہے۔ ‘‘  لہٰذا جب اما م کے کلام ہی میں اختلاف ہو گیا تو اب اسی کلام کو لیاجائے گا جو ظاہری دلائل کے مطابق ہو گا اور جو اس کے خلاف ہو گا اسے چھوڑ دیا جائے گا، بلکہ ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں کہ آیتِ مبارکہ اور ترمذی شریف کی صحیح حدیث، مایوسی کے وقت ایمان کے باطل ہونے پر صراحۃً دلالت کرتی ہیں ۔ لہٰذا اس آیت مبارکہ:  

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ  (پ۲۴، المؤمن : ۸۵)

ترجمۂ کنز الایمان : توان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا۔

میں اس تأویل :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی نفع دینے والا ہے۔ ‘‘  کی طرف توجہ ہی نہیں کی جائے گی۔ اس تأویل کے بطلان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قرآن وسنت کی اصطلاح میں اشیاء کی اضافت ان کے اسباب کی طرف کی جاتی ہے، لہٰذا جب یہ کہہ دیا گیا کہ ایمان نفع نہ دے گا، تو اس کاشرعی معنی یہی ہے کہ اس شخص پر یہ حکم لگا دیا گیا کہ اس کا ایمان باطل اور ناقابلِ اعتناء ہے۔ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہی ہر وقت حقیقی نافع ہے، تو وقوعِ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن