دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

٭…کسی نے کہا:   ’’ قرآن کریم، نماز یا ذکر یا ایسی ہی کسی عبادت سے میرا دل بھر گیاہے۔ ‘‘  

٭…یا کہا:   ’’ محشر کیا ہے؟، جہنم کیا ہے؟ ‘‘  

٭…یا گناہ کرکے کہا :  ’’ میں نے کیا کیا ہے؟ ‘‘  

٭…کسی کو علم کی مجلس میں حاضر ہونے کی دعوت دی گئی تو اس نے کہا :  ’’ علم کی مجلس میں آ کر کیاکروں گا۔ ‘‘ ان سب صورتوں میں اگر استخفا ف کی نیت تھی تو کہنے والا کافر ہے۔

٭…کسی نے کہا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہر عالِم پر لعنت فرمائے۔ ‘‘  تو اگر استغراق کی نیت نہ تھی تو کفر کے لئے استخفاف کی نیت شرط ہے اور اگر استغراق کی نیت تھی تو استخفاف کی نیت نہ بھی ہو تب بھی کافر ہے کیونکہ اس صورت میں انبیاء وملائکہ بھی اس کی زدمیں آ جائیں گے۔

٭…کسی عالِم کا فتویٰ پھینک دیا۔

            نیز اس طرح کہنے سے بھی کافر ہوجائے گا:

٭… ’’ یہ شریعت کیا چیز ہے؟ ‘‘  تو اگر استخفاف کی نیت تھی تو کہنے والا کافر ہے۔

٭… کسی فقیہ کے بارے میں کہا :  ’’ یہ وہی چیز ہے۔ ‘‘  اگر علم کے استخفا ف کی نیت تھی تو کفر ہے۔

٭… ’’ روح قدیم ہے۔ ‘‘  

٭… ’’ جب ربوبیت ظاہر ہوگئی تو بندگی مٹ گئی۔ ‘‘  اور اس سے مراد یہ لیاکہ شریعت کے احکام اٹھ گئے۔

٭… ’’ میں اپنی ناسوتی یعنی بشری صفات سے لاھوتی  (یعنی الہی صفات)  میں فنا ہو گیا ہوں ۔

٭… ’’ میری صفات صفاتِ حق میں بدل گئی ہیں ۔ ‘‘  

٭… ’’ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو دنیا میں عیاں دیکھتا ہوں ۔ ‘‘  

٭… ’’ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے آمنے سامنے کلام کرتا ہوں ۔ ‘‘  

٭… ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ایک حسین صورت میں حلول کر گیا ہے۔ ‘‘  

٭… ’’ اس نے مجھ سے شرع کی تکلیف ساقط کر دی ہے۔ ‘‘  

٭… کسی سے کہا :  ’’ مخفی عمل کے حصول کے لئے ظاہری عبادات چھوڑ دے۔ ‘‘  

٭… ’’ گانا سننا دین میں سے ہے ۔ ‘‘

٭… ’’ گانا دلوں میں قرآن سے زیادہ اثر کرتا ہے۔ ‘‘  

٭… ’’ بندہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا وصال عبادت کے بغیر بھی حاصل کر لیتا ہے۔ ‘‘  

٭… ’’ روح اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا نور ہے لہٰذا نور جب نور کے ساتھ ملتاہے تو ایک ہو جاتا ہے۔ ‘‘  یہ تمام صورتیں کفر ہیں ۔

                ان کے علا وہ بہت سی فروع رہ گئیں جنہیں میں نے تفصیلی کلام کے ساتھ گذشتہ بیان کردہ قیودات، اختلاف وبحث اور مذاہبِ اربعہ کے نزدیک تمام اقوال کو جمع کر دیا ہے بلکہ ہر اس بات کو جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ کفر ہے اگرچہ وہ ضعیف قول کے مطا بق ہی کیوں نہ ہو اپنی کتاب  ’’ اَلْاِعْلَامُ بِمَا یَقْطَعُ الْاِسْلَامَ ‘‘  میں جمع کردیا ہے کوئی طالب علم اس کتاب سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔

                گذشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ جس نے اپنے مسلمان بھائی کو  ’’ اے کافر ‘‘  کہہ کر پکارا تو شرط پائے جانے یعنی مخاطب کے کافر نہ ہونے کی صورت میں کہنے والا کافر ہو جائے گا اور اسی طرح جس نے کہاکہ  ’’ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں بارش حاصل ہوئی۔ ‘‘  تو اگر یہ ارادہ کیا کہ فلا ں ستا رے کوتاثیر کی قوت حاصل ہے تو یہ کہنے والا کافر ہے ۔چنانچہ،

{29}… دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدمی جب اپنے بھائی سے کہتاہے :  ’’ اے کافر!  ‘‘  تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے اگر جسے کافر کہا گیا وہ کافر تھا  (تو ٹھیک)  ورنہ کفراس کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گا۔ ‘‘                (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال الاکمال،الحدیث: ۸۲۷۵،ج۳،ص۲۵۴)

{30}… رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو آدمی کسی شخص کے کافر ہونے کی گواہی دیتاہے تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے اگر وہ شخص جسے کافر کہا گیا، واقعی اس کے کہنے کے مطابق کافر تھا تو صحیح ہے اور اگر وہ کافرنہ تھا تو اسے کافر کہنے کی وجہ سے کہنے والا خود کافر ہو جائے گا۔ ‘‘      (المرجع السابق، الحدیث: ۸۲۷۶)

{31}… خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ دومسلمانوں کے درمیان اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ایک پردہ ہے لہٰذا جب ان میں سے کوئی ایک اپنے دوست سے کہتا ہے کہ مجھ سے جدا ہو جا تو وہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس پردے کو پھاڑ دیتا ہے اور جب اسے  ’’ اے کافر ‘‘  کہتاہے تو ا ن دونوں میں سے ایک شخص کافر ہو جاتا ہے۔ ‘‘  

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۰۵۴۴،ج۱۰،ص۲۲۴)

{32}… سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب آدمی اپنے بھائی کو  ’’ اے کافر ‘‘  کہہ کر پکارے تو گویا اس نے اسے قتل کر دیا اور مؤمن پر لعنت بھیجنا بھی اسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۴۶۳،ج۱۸،ص۱۹۴)

{33}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جومسلمان کسی مسلمان کی تکفیر کرتا ہے تو اگر وہ واقعی کافر ہے  (تب تو ٹھیک ہے) ورنہ کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے۔ ‘‘  

 (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ،الحدیث: ۴۶۸۷،ص۱۵۶۷)

{34}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کہا :  ’’ میں اسلام سے بیزار ہوں ۔ ‘‘  تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہااور اگر سچا ہے تو بھی سلامتی کے ساتھ اسلام میں نہ لوٹ سکے گا۔ ‘‘                                     (صحیح ابن ماجہ،کتاب الکفارات، باب من حلف بملۃ غیر الاسلام،الحدیث: ۲۱۰۰،ص۲۶۰۳)

{35}…حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب کسی نے اپنے بھائی کو  ’’ اے کافر ‘‘  کہہ کر پکارا توان دونوں میں سے ایک شخص کافر ہو جاتا ہے۔ ‘‘   (صحیح البخاری، کتاب الادب،باب من اکفراخاہالخ،الحدیث: ۶۱۰۳،ص۵۱۵)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن