30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ فلاں مسلمان کا ایمان چھین لے جبکہ ان صورتو ں میں اس پر سختی کا ارادہ ہو۔
٭…اسی طرح کسی مسلمان کے لئے کفر کا سوال کرنا بھی کفر ہے کیونکہ یہ کفر پر راضی ہونا ہے۔
٭…اسی طرح کسی مسلمان کو بغیر تاویل کے کافر کہہ کر پکارنے سے قائل خود کافر ہو جائے گا کیونکہ اس نے اسلام کو کفر کہا۔ ٭…یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کسی اسم یا اس کے کسی نبی کے نام کا مذاق اُڑانا مثلا ًاس کی تصغیر کرنا ۔
٭…یاان کے کسی امرو نہی، وعدہ یا وعید کا مذاق اڑانا جیسے کوئی کہے : ’’ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی مجھے فلا ں کام کرنے کا حکم دے تب بھی میں اسے نہیں کروں گا۔ ‘‘
٭…یا کہے ’’ اگر فلاں جگہ کو قبلہ بنا دیا جائے تو میں اس کی طرف رُخ کر کے نماز نہیں پڑھوں گا۔ ‘‘
٭…یا استخفاف وعناد کے طور پر کہے : ’’ اگر مجھے جنت عطا فرمادی تب بھی میں اس میں داخل نہ ہوں گا۔ ‘‘
٭…یایہ کہنا : ’’ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرے مرض یا تنگدستی کے باوجود نماز نہ پڑھنے پر میری پکڑ فرمائی تو اس نے مجھ پرظلم کیا۔ ‘‘
٭…اسی طرح اگر کسی مظلوم نے ظالم سے یہ کہا : ’’ کیا یہ ظلم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر سے ہے۔ ‘‘ تو ظالم نے جواب دیا کہ ’’ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر کے بغیر یہ کام کرتا ہوں ۔ ‘‘ تو ظالم کافر ہوجائے گا۔
٭…یا یہ کہنا : ’’ اگر کوئی فرشتہ یانبی بھی میرے پاس آ جائے تب بھی میں اس کی تصدیق نہ کروں گا۔ ‘‘
٭…یا یہ کہنا : ’’ اگر فلاں شخص نبی بھی ہوتا تو میں اس پر ایمان نہ لاتا۔ ‘‘
٭…یا یہ کہنا : ’’ نبی نے جو کہاہے اگر وہ سچ ہے تو ہم نجات پا جائیں گے۔ ‘‘
٭…یا ان پرجھوٹ کا الزام لگایا تویہ بھی کفر ہے کیونکہ اس میں مرتبۂ نبوت کی تنقیص ہے۔
٭…یا اسے کہاگیا : ’’ اپنے ناخن کاٹ لوکہ یہ سنت ہے۔ ‘‘ تو اس نے استہزاء کے طور پرکہا : ’’ میں ایسا نہیں کروں گا اگرچہ یہ سنت ہے۔ ‘‘
٭…یا یہ کہے : ’’ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھنے سے بھوک نہیں مٹتی۔ ‘‘
٭…اسی طرح دیگر اذکار کے بارے میں یہ جملہ کہنے کا بھی یہی حکم ہے۔
٭…یا ( اذان کے کلمات کے بارے میں اس طرح ) کہنا : ’’ مؤذن جھوٹ بولتا ہے ۔ ‘‘
٭…یا کہے : ’’ مؤذن کی آواز گھنٹے کی آواز جیسی ہے۔ ‘‘ او راس قول کے ذریعے کفر کے ناقوس سے تشبیہ کا ارادہ کرے یا اذان کے استخفاف کی نیت کرے ۔
٭…اسی طرح بطوراستہزاء کسی حرام چیزپر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نا م لے جیسے شراب پیتے وقت بسم اللہ پڑھے ۔
٭…یا استہزاء کے طور پر کہے : ’’ میں محشر یا قیامت سے نہیں ڈرتا۔ ‘‘
٭…یہ کہنا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی چور کو تلاش نہیں کر سکتا۔ ‘‘ تو چونکہ اس نے عجز کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف منسوب کیالہٰذا یہ کفر ہے ۔
٭…یا علمائ، واعظین اورمعلِّمین کو حقیر جانتے ہوئے ان کا بھیس بدل کر کسی جماعت کے پاس آیا تا کہ وہ اس پر ہنسیں یا کھیل کود کریں ۔
٭…یا علم کو ہلکا جانتے ہو ئے کہنا : ’’ ثرید کا پیالہ علم سے بہتر ہے۔ ‘‘
٭…کسی شخص کا مرض شدت پکڑ گیا یا بیٹا مرگیا تو وہ کہے : ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ ! اگر تو چاہے تو مجھے کافر بناکرمار یا مسلمان بنا کر۔ ‘‘
٭…یا کہے : ’’ تو نے میرا بیٹا لے لیا تو اب باقی کیابچا تُو نے ایسا کیوں کیا؟ ‘‘
٭…کسی شخص سے کہا گیا: ’’ اے کافر! ‘‘ اس نے اپنے کافر ہونے کی نیت سے ’’ جی ‘‘ کہا تو کافر ہے اور اگر صرف جواب کی نیت سے کہا تو کافرنہیں ۔
٭…درہم ملنے کی امید پر پہلے کفر کی تمنا کی پھر اسلام کی۔
٭…کسی ایسی چیز کے حلال ہونے کی تمنا کرنا جو کسی زمانہ میں بھی حلال نہ تھی جیسے قتل ، زنا ، ظلم وغیرہ۔
٭…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف بعض اشیاء کو حرام فرمانے کی وجہ سے ظلم کی نسبت کرنا۔
٭…اگر کسی شخص نے کُفَّار کے دین کی طرف مائل ہو کر ان کا لباس پہنا تو وہ کافر ہوگیا۔
٭…کسی نے کہا: ’’ یہودی مسلمانوں سے اچھے ہیں ۔ ‘‘ تو وہ کافر ہے اور اگر نصاریٰ کو مجوسیوں سے اچھا کہا تو کافر نہیں لیکن اگر حقیقت کے اعتبار سے کہا تو کافر ہے۔
٭…کسی نے چھینکنے والے عمر رسیدہ شخص سے کہا ’’ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ‘‘ تو کسی نے اس سے کہا: ’’ ایسا مت کہو۔ ‘‘ ا گر ارادہ یہ تھا کہ یہ رحمت سے بے نیاز ہے تو یہ کفرہے۔
٭…غلام نے کہا: ’’ میں نماز نہیں پڑھوں گا کیونکہ ثواب تو میرے آقا کو ملے گا۔ ‘‘ اس کے کفرہونے میں اختلاف ہے کیونکہ ایسی باتوں کی قباحت سے اکثر غلام جاہل ہوتے ہیں لہٰذا یہ کلام غلاموں کے بارے میں نہیں بلکہ حکم شرعی جاننے والے لوگو ں سے متعلق ہے، لہٰذامسئلہ جاننے کی صورت میں اس کے کفریہ جملہ ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ۔
٭…کسی سے پوچھا گیا: ’’ ایمان کیا ہے؟ ‘‘ اس نے استخفافاً کہا : ’’ میں نہیں جانتا۔ ‘‘
٭…کسی نے اپنی بیوی سے کہا: ’’ تو مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ او راس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے زیادہ محبوب ہے۔ ‘‘ تو اگر محبتِ تعظیمی کا ارادہ تھا تو کافر ہے اور اگر میلانِ قلبی مراد تھا تو کفر نہیں ۔ جیسا کہ بخاری شریف کی شروحات میں مذکور ہے۔
٭…حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے صحابی ہونے کا منکر اور حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا پر تہمت لگانے والا بھی کافر ہے کیونکہ یہ قرآن کریم کو جھٹلانے والا ہے البتہ دیگر صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان کے صحابی ہونے کا انکار کرنا کفر نہیں ۔
٭…کسی نے کہا : ’’ میں ہی اپنے افعال کا خالق ہوں ۔ ‘‘ اور وہ معنی مراد نہ لیا جو معتزلہ لیتے ہیں تو ایسا کہنے والا کافر ہے ۔
٭…کسی نے کہا: ’’ میں اللہ ہوں ۔ ‘‘ اگرچہ مِزاح میں کہا کہنے والا کافر ہو گیا۔
٭…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرائض کا انکار کرتے ہوئے کہا: ’’ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حق کو نہیں جانتا۔ ‘‘ تو ایسا کہنے والا کافر ہے۔
٭…کسی نے جھوٹ بول کر کہا، ’’ اللہ جانتا ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے۔ ‘‘ تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف جہالت کو منسوب کیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع