30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭… ہر اس شخص کی تکفیر میں شک کرنا بھی کفر ہے جس کی بات سے ساری اُمت کے گمراہ ہونے کا تأثرملتا ہو۔
٭…نیز صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان کو کافر کہنے والے کے کفر میں شک کرنابھی کفر ہے۔
٭… مکہ مکرمہ ، خانہ کعبہ یا مسجد حرام کے وجود میں شک کرنے والا بھی کافر ہے۔
٭… حج کے طریقہ یااس کی معروف صورت نیز نماز اور روزے کی کیفیت وہیئت میں شک کرنے والا بھی کافر ہے۔
٭…ایسے حکمِ شرعی میں شک کرنا بھی کفر ہے جس کے ضروریاتِ دین میں سے ہونے پر اجماع ہو اوروہ مشہور ہو جیسے ٹیکس کی حرمت (اس کی تفصیل کبیرہ نمبر۱۳۱میں دیکھئے) یا سنتوں کی مشروعیت جیسے عید کی نماز وغیرہ میں شک کرنا۔
٭… کسی ایسی حرام چیز کو حلا ل سمجھنے والے کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے جس کی حرمت کا ضروریاتِ دین سے ہونا مجمع علیہ اور مشہور ہو، جیسے وضوکے بغیر نماز پڑھنا، البتہ اگر کوئی شخص نجاست و پلیدگی کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کے کفر میں اختلاف ہے ۔
٭…کسی مسلمان یا ذمی کافر کو بلاعذر شرعی جائز سمجھتے ہوئے ایذاء دینا بھی کفر ہے۔
٭… کسی حلا ل کو حرام سمجھنے والے کے کفر میں شک کرنابھی کفر ہے جیسے خرید وفروخت یا نکاح کو حرام کہنا۔
٭… اللّٰہ کے محبوب، دانائے غیوب ،منزہ عن العیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں یہ کہنے والے کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے کہ معا ذاللہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکارنگ مبارک سیاہ تھا یا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال داڑھی نکلنے سے پہلے ہی ہو گیا تھا یا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممعاذا للہ قرشی، عربی یا انسان نہیں تھے، کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایسے وصف سے موصوف کرنا جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں نہ ہو آپ کی تکذیب کے مترادف ہے۔
اس سے یہ قاعدہ ثابت ہوتا ہے : ’’ ہروہ وصف جس کے دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے ثبوت پرامت کا اجماع ہو اس کا انکار کفر ہے۔ ‘‘ جیسے
٭…کوئی بدبخت خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد کسی نبی کے مبعوث ہونے کو جائز مانے۔
یا اس طرح کے کلمات کہے :
٭… ’’ میں نہیں جانتا کہ یہ نبی وہی ہیں جو مکہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ میں پردہ فرما گئے یا کوئی اور ہیں ۔ ‘‘
٭… ’’ نبوت کسبی ہے۔ ‘‘
٭… ’’ دل کی صفائی سے نبوت کے مرتبہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ‘‘
٭… ’’ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے۔ ‘‘
٭… ’’ میری طرف وحی آتی ہے۔ ’’ اگرچہ وہ نبوت کادعوی نہ بھی کرے۔ ‘‘
٭… ’’ میں مرنے سے پہلے جنت میں داخل ہوجاؤں گا۔ ‘‘
٭…یاکوئی بدبخت شخص اللّٰہکے محبوب، مُنَزَّہٌ عن العُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ ستودہ صفات میں یا کسی دوسرے نبی بلکہ فرشتوں میں بھی کوئی عیب تلاش کرے۔
مثال کے طور پر:
٭…اُن پر لعنت بھیجے …یا گالی دے… یاا ن کو حقیر جانے ،
٭… ان کا یاان کے کسی فعل کا مذاق اڑائے جیسے انگلیاں چاٹنے کا مذاق اڑائے ،
٭… ان کی ذات ، نسب ، دین یا کسی فعل کو ناقص کہے ،
٭… نقص کی تعریض کرے ،
٭… انہیں عیب لگاتے ہوئے کسی چیز سے تشبیہ دے ،
٭… ان کی تصغیر کرے یعنی انہیں چھوٹاسمجھے یا ( زبان سے ) کہے ،
٭… ان کی قدر گھٹائے ،
٭…ان کے نقصان کی تمناکرے ،
٭…ان کی برائی کے طور پر ان کی جانب کوئی ایسی بات منسوب کرے جو ان کی شان کے لائق نہ ہو ،
٭… ان کی کسی بات کو ناقص، ہذیان اور جھوٹ کہہ کران کی توہین کرے ،
٭…یاایسی بات کہے جس میں ان کی کسی آزمائش یا ان کے بعض جائز عوارضِ بشریہ کو حقیر جاننا پایا جائے تویہ سب صورتیں بالاجماع کفر ہیں اور ان کے قائل کوقتل کیا جائے گا اوراکثر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیکے نزدیک اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔
حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا تھا جس نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے ’’ تمہارا صاحب ‘‘ کہا تھا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس شخص کے اس کلمہ کو مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی توہین قرار دیتے ہوئے اسے قتل کردیا۔
٭…اسی طرح کفر پر راضی ہونا اگرچہ ضمناً ہی کیوں نہ ہو جیسے کوئی کافر کسی مسلمان سے اپنے اسلام لانے کے بارے میں مشورہ چاہے یا نہ چاہے اور وہ مسلمان اسے یہ کہے : ’’ مسلمان مت ہونا۔ ‘‘
٭…یا کا فرنے اس سے کہا کہ مجھے کلمہ پڑھا دو تو اس نے کلمہ پڑھانے میں تاخیر کی، مثلاً خطیب نے کہا : ’’ صبر کرو میں خطبہ سے فارغ ہو جاؤں پھر کلمہ پڑھاؤں گا۔ ‘‘
٭…بددعا میں یہ معاملہ نہیں جیسے کسی کو بددعا دی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے ایمان نصیب نہ فرمائے ،
٭…یا اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے کفر پر قائم رکھے ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع