30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{12}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شریک ٹھہرانا اور جھوٹی قسم اٹھانا بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہیں ۔ ‘‘ (المعجم الاوسط،الحدیث: ۳۲۳۷،ج۲،ص۲۶۵)
{13}… سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ سن لو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اولیاء وہ لوگ ہیں جو ان پانچ نمازوں کو قائم کرتے ہیں جنہیں اُس نے اپنے بندوں پر فرض فرمایا ہے اور رمضان کے روزے یہ سوچ کر خالص رضائے الٰہی عَزَّ وَجَلَّ کے لئے رکھتے ہیں کہ ان پر روزوں کا لازم ہو نا حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے مال کی زکوٰۃ خوشدلی سے ادا کرتے ہیں اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں جن کے ارتکاب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے منع فرمایاہے۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’ یارسول اللہ عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکبیرہ گناہ کتنے ہیں ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ یہ نوہیں ، ان میں سے بڑے گناہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا، کسی مؤمن کو ناحق قتل کرنا، میدانِ جہاد سے فرار ہونا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، جادو کرنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا اور اپنے قبلہ یعنی بیت الحرام کی آباد اور بنجر زمین کو حلال سمجھنا ہیں ، جب کوئی ایسا بندہ مرتاہے جس نے یہ کبیرہ گناہ نہ کئے ہوں اور نماز قائم کی ہوا ور زکوٰۃ ادا کی ہو تو وہ جنت کے درمیان (حضرت سیدنا ) محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ایسی جگہ رفیق ہو گا جس کے دروازوں کے پَٹ سونے کے ہوں گے۔ ‘‘
(المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۰۱،ج۱۷،ص۴۸، بدون ’’ یری أنہ علیہ حق ‘‘ )
{14}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اے ابنِ خطاب! جاؤ۔ ‘‘ اور ایک روایت میں ہے : ’’ اے عمر! اٹھو اور جاکر لوگو ں میں اس بات کا اعلان کردو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔ ‘‘ (جامع الترمذی ، ابواب السیر،باب ماجاء فی الغلول،الحدیث: ۱۵۷۴،ص۱۸۱۴،بدون ’’ فی الناس ‘‘ )
ٍ اسے حضرت سیدناامام احمد، امام مسلم ا ور امام ترمذیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہم نے روایت کیا اور فر مایا: ’’ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ‘‘
{15}…رسولِ کائنات، فخرِموجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مغفرت نشان ہے : ’’ اے ابن عوف! اپنے گھوڑے پر سوار ہوکراعلان کر دو کہ جنت صرف مؤمن ہی کے لئے حلال ہے۔ ‘‘
(سنن ابی داؤد، کتاب الخراج، باب فی تعشیر اھل الذمۃ…الخ،الحدیث: ۳۰۵۰،ص۱۴۵۲)
{16}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اے بلال! اُٹھو اورا علان کر دو کہ جنت میں صرف مؤمن ہی داخل ہوگا اور بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس دین کی مدد فاجر شخص کے ذریعے بھی فرماتا ہے۔ ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب القدر، باب العمل بالخواتیم،الحدیث: ۶۶۰۶،ص۵۵۲)
{17}… اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جنت میں مسلمان ہی داخل ہوگا۔ ‘‘ ایک اور روایت میں ہے : ’’ جنت میں مسلمان جان ہی داخل ہوگی اور بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس دین کی مدد فاجر شخص کے ذریعے بھی فرما دیتا ہے۔ ‘‘
(صحیح البخاری،کتاب الجھاد، باب ان اللہ لیؤیدالدین …الخ،الحدیث: ۳۰۶۲،ص۲۴۶)
{18}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جو اپنا دین بدل لے اسے قتل کر دو۔ ‘‘
(صحیح البخاری،کتاب الجھاد، باب لایعذب بعذاب اللہ ،الحدیث: ۳۰۱۷،ص۲۴۲)
{19}… نبی کریم ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جو اپنے دین سے پھر جائے یعنی مرتد ہوجائے اسے قتل کردو۔ ‘‘ (سنن ابی داؤد،کتاب الحدود،باب حکم فیمن ارتد ، الحدیث: ۴۳۵۱،ص۱۵۴۰، ’’ من ارتد ‘‘ بدلہ ’’ من بدّل ‘‘ )
{20}… حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ (اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں ) سرِ تسلیم خم کر دو اگرچہ تم اس کو ناپسندہی کرو۔ ‘‘ (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند انس بن مالک، الحدیث: ۱۲۰۶۱،ج۴،ص ۲۱۸)
{21}… اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ میں تمہیں تین باتوں کاحکم دیتا ہوں اورتین باتوں سے منع کرتا ہوں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لوا ور جدا جدا مت رہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جسے تمہارے معاملے کاوالی بنا دیا ہو اس کی اطاعت کرو۔اور میں تمہیں تین باتو ں سے منع کرتاہوں ،فضول گفتگو سے، مال ضائع کرنے سے اور کثرت سے سوال کرنے سے۔ ‘‘
(کنزالعمال،کتاب الایمان والاسلام،قسم الاقوال فصل الخامس،الحدیث: ۴۴۵،ج۱،ص۶۵،بدون ’’ وتسمعوا ‘‘ )
{22}… شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جو شخص اسلام سے پھر جائے تو اسے اسلام کی طرف بلا ؤ، اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کر لو اور اگر توبہ نہ کرے تو اس کی گردن مار دو اور جو عورت اسلام سے پھر جائے اسے اسلام کی دعوت دو اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کرلو اور اگر توبہ نہ کرے تو اسے قید کر دو۔ ‘‘
(المعجم الکبیر،الحدیث: ۹۳،ج۲۰،ص۵۳)
اس حدیثِ مبارکہ کاظاہری مفہوم اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ مرتدہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا جبکہ ہمارے نزدیک مندرجہ ذیل صحیح حدیث کے عام حکم کی وجہ سے مندرجہ بالا حدیث کامفہوم صحیح ترین مذہب کے خلاف ہے۔
{23}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جو اپنا دین بدل لے اسے قتل کردو۔ ‘‘ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع