30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(صحیح مسلم ،کتاب الوصیۃ ، باب وصیۃ الرجل مکتو بۃ عندہ ، الحدیث: ۴۲۰۷ ، ص ۹۶۲)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا فرماتے ہیں : ’’ جب سے میں نے حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ حدیثِ پاک سنی میری کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں میرے پاس وصیت لکھی ہوئی نہ رکھی ہو۔ ‘‘ (المرجع السابق،تحت الحدیث: ۴۲۰۷)
وصیت کرنے کی فضلیت:
{8}…سرکارِمدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جو وصیت کر کے مرا وہ سنت پر مرا اور تقوی وشہادت پر مرا اور مغفرت یافتہ ہو کر مرا۔ ‘‘ (سنن ابن ماجۃ،ابواب الوصایا،باب الحث علی الوصیۃ ،الحدیث: ۲۷۰۱،ص۲۶۳۹)
{9}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُعظَّم ہے: ’’ محروم ہے وہ شخص جو وصیت سے محروم ہو۔ ‘‘
(المرجع السابق، الحدیث: ۲۷۰۰، ص ۲۶۳۹)
{10}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ وصیت ترک کر دینا دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب اور تباہی کا باعث ہے۔ ‘‘ ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۵۴۲۳، ج۴، ص ۱۲۲)
اگریہ حدیث مبارک درجہ صحت تک پہنچ جائے تو اس سے یہ فائدہ حاصل ہو گا کہ وصیت ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے اور یہ حدیثِ پاک اس شخص پر محمول ہو گی جو جانتا ہے کہ وصیت نہ کرنا اس کے مال پر ظالموں کے قابض ہونے اور ورثاء سے چھن جانے کا سبب بنے گا۔
{11}…نبی کریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ آدمی کا اپنی صحت اور زندگی میں ایک درہم صدقہ کرنا موت کے وقت 100درہم خرچ کرنے سے بہتر ہے۔ ‘‘
(سنن ابی داؤد،کتاب الوصایا ، باب ماجاء فی کراھیۃ الاضرار فی الوصیۃ،الحدیث: ۲۸۶۶،ص۱۴۳۷)
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
باب الودیعۃ
ودیعت کا بیان
کبیرہ نمبر238: ود یعت (امانت) میں خیانت کرنا
کبیرہ نمبر239: رہن رکھی ہوئی چیز میں خیانت کرنا
کبیرہ نمبر240: کرائے پرلی ہوئی چیزمیں خیانت کرنا
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ (پ۵، النسآء: ۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللہ تمہیں حکم دیتاہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔
{1}…یہ آیتِ مبارکہ حضرت سیدنا عثمان بن طلحہ حجبی داری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے حق میں نازل ہوئی، وہ فتح مکہ کے دن خانہ کعبہ کے خادم تھے، جب نبی کریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخانہ کعبہ شریف میں داخل ہونے لگے تو انہوں نے کعبہ کا دروازہ بند کر دیا اور یہ گمان کرتے ہوئے چابی دینے سے انکار کر دیا اگر وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول مانتے تو ہر گز انکار نہ کرتے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے اُن کے ہاتھ کو مروڑا (یعنی بل دیا) اور ان سے چابی لے لی اور کعبہ کا دروازہ کھول دیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکعبہ شریف میں داخل ہوئے اور اس میں نماز پڑھی، پھر جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمباہر تشریف لائے تو حضرت سیدنا عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’ چابی مجھے عنایت فرمایئے تا کہ میں کعبہ شریف کی خدمت اور اس میں حاجیوں کوپانی پلانے کی ذمہ داری لے لوں ۔ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی۔
پس رسول اکرم، شفیع مُعظَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو حضرت سیدنا عثمان بن طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو چابی واپس دینے اور اُن سے معذرت کرنے کا حکم دیا، اس پرحضرت سیدناعثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: ’’ پہلے تم نے نفرت دلائی، ایذاء پہنچائی اور اب نرمی کرنے لگے ہو۔ ‘‘ تو حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تیرے بارے میں قرآنِ کریم کی آیت مبارکہ نازل فرمائی ہے۔ ‘‘ پھر انہیں یہ آیتِ مبارکہ سنائی تو وہ مسلمان ہو گئے،اور چابی انہیں کے پاس رہی جب ان کے انتقال کا وقت ہوا تو انہوں نے وہ چابی اپنے بھائی شیبہ کے حوالے کر دی اور اب قیامت تک کعبہ کی خدمت انہیں کی اولاد میں رہے گی، کیونکہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں چابی عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا: ’’ اسے ہمیشہ کے لئے لے لو تم سے یہ چابی ظالم کے علاوہ کوئی نہیں چھین سکتا۔ ‘‘
(المعجم الاوسط ، الحدیث: ۴۸۸ ، ج۱ ، ص ۱۵۱)
اور ایک قول یہ ہے : ’’ اس آیتِ کریمہ میں تمام امانتیں مراد ہیں ۔ ‘‘ حافظ ابو نُعیَم ’’ حلیۃ الاولیاء ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’ جن علماء نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ آیتِ مبارکہ ہر قسم کی امانتوں کو عام ہے ان میں حضرت سیدنا براء بن عازب، عبداللہ بن مسعود اور اُبی ّ بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مبھی شامل ہیں ، یہ سب فرماتے ہیں : ’’ وضو، جنابت، نماز، زکوٰۃ، روزہ، ناپ تول اور ودیعت ہر چیز میں امانت ہے۔ ‘‘
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمافرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تنگدست یا فراخ دست کسی کو بھی امانت روک لینے کی رخصت نہیں دی۔ ‘‘
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمافرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کی شرمگاہ کو پیدا کیاتو فرمایا: ’’ یہ ایک امانت ہے جو میں نے تیرے سپرد کی ہے، اسے حق کے علاوہ قابو میں رکھ۔ ‘‘
کسی کا قول ہے : ’’ انسان کا معاملہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ یہ ہونا چاہئے کہ وہ مامورات پر عمل کرے اور منہیات سے اجتناب کرے کیونکہ انسان کا ہر عضو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی امانت ہے، زبان میں امانت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع