30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
باب اللقطہ
لقطہ کا بیان
کبیرہ نمبر234: لقطہ میں ناجائز تصرف کرنا
یعنی لقطہکے اعلان اور اپنے استعمال میں لانے کی
شرائط پوری ہونے سے قبل اس میں تصرّف کرنا
کبیرہ نمبر235: اُس کے مالک کو جاننے کے باوجود اس سے چھپانا
ان دونوں کا کبیرہ گناہ ہونا بالکل واضح ہے کیونکہ ان میں لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانا پایاجارہاہے۔
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
باب اللقیط
لقیط کابیان
کبیرہ نمبر236: گرے پڑے بچے کواٹھاتے وقت گواہ نہ بنانا
علامہ زرکشی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی صراحت فرمائی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ میں نے گذشتہ ابواب میں جو کبائر بیان کئے ہیں ان کا کبیرہ گناہ ہونا اس سے زیادہ ظاہر ہے، کیونکہ اس کے مقابلہ میں ان کا کبیرہ ہونا ان کی بڑی خرابیوں کی وجہ سے زیادہ مناسب ہے اگرچہ اس میں بھی خرابی پائی جاتی ہے کیونکہ گواہ نہ بنانا کبھی اس بچے کے غلام ہونے کادعویٰ کرنے پر اُکساتاہے۔پس جب فساد کی طرف لے جانی والی چیز کبیرہ گناہ ہے تو یہ عمل بھی کبیرہ گناہ ہوگا کیونکہ یہ کبیرہ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور وہ آزادکے غلام ہونے کادعویٰ کرناہے ۔خواہ وہ کہے کہ ’’ یہ نسل درنسل میراغلام ہے۔ ‘‘ یاکہے کہ ’’ میں نے اُسے خریدا ہے۔ ‘‘ جیساکہ لقیط میں ہوتا ہے۔اور اس بچے کی آزادی کا حکم بھی اسی طرح ہے اور ہم نے یہ اس لئے کہا کیونکہ وسائل کا بھی وہی حکم ہوتاہے جو مقاصد کا ہوتاہے پس اولیٰ وہی ہے جومیں نے ذکر کردیا ہے۔ کیونکہ یہ عمل بذاتِ خود فساد ہے یا اس سے بڑے فساد کی طرف لے جانے والاہے یا واقع ہونے کے اعتبار سے فسادکے زیادہ قریب ہے۔
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
باب الوصیۃ
وصیت کابیان
کبیرہ نمبر237: وصیت میں ورثاء کو نقصان پہنچانا
{۱}اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍۙ-غَیْرَ مُضَآرٍّۚ-وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ (۱۲) تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (۱۳) وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا ۪- وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ (۱۴)
(پ۴، النساء: ۱۲تا۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان : میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو یہ اللہ کا ارشاد ہے، اور اللہ علم والا حلم والا ہے۔یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ، ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس اور مجاہد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مکے قول کے مطابق اس سے مراد وراثت ہے اور خُلُوْد فِی النَّار سے مراد یہ ہے کہ ’’ اگر وہ اسے حلال سمجھ کر کریں تو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ورنہ طویل مدت تک جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ ‘‘
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمانے اس آیتِ مبارکہ سے یہ استدلال کیا ہے : ’’ وصیت میں نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس شدید وعید کو وراثت کے بعد ذکر کیا ہے۔ ‘‘ جیسا کہ،
{1}…حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہماسے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ وصیت میں ورثاء کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہی آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ’’ تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ یعنی یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حدیں ہیں ۔ ‘‘ ( سنن دارقطنی ،کتاب الوصایا ، الحدیث: ۴۲۴۹ ، ج۴ ، ص ۱۷۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع