30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب احیاء الموات
بے جان اشیاء کابیان
ضرورت سے زائدپانی روک لیناکبیرہ گناہ ہے جیسا کہ حدیث پاک نے اس کی تصریح فرمائی، اس کابیان گزرچکاہے۔
کبیرہ نمبر229: حرمت کے قائل کے نزدیک عرفہ،
مزدلفہ یا منیٰ میں عمارت بنانا
جس نے عرفہ،مزدلفہ یا منیٰ میں عمارت بنانا حرام قرار دیا ہے اس کے نزدیک یہ کبیرہ گناہ ہے، اس کی حرمت کی بناء پر اسے کبیرہ گناہ قراردینا بالکل ظاہر ہے کیونکہ اس قول کے مطابق یہ زمین غصب کرنے کے زمرے میں آتا ہے اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ زمین غصب کرنا کبیرہ گناہ ہے اور اس کی وعید بھی بیان ہو چکی ہے اور جو شخص اس عمل کی حرمت کا اعتقاد رکھتے ہوئے ایسا کرے گا یہ وعیدیں اسے شامل ہوں گی۔
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
کبیرہ نمبر230: مباح اشیاء کے استعمال سے لوگوں کوروکنا
خواہ وہ اشیاء عام ہوں یا خاص۔لوگوں کو ان کے استعمال سے روکنا مثلاً ایسی بنجر زمین جسے آباد کرنا
ہر ایک کے لئے جائز ہو اسی طرح شاہراؤں ، مسجدوں ، گھوڑے باندھنے کی جگہوں
اور ظاہری و باطنی معدنیات سے روکنا۔
ان میں سے ہر ایک کے جائز استعمال سے روکنا کبیرہ گناہ ہونا مناسب ہے کیونکہ یہ غصب کے مشابہ ہے اور آدمی کو اس کی ملکیت میں تصرف سے روکنے کے مترادف ہے کیونکہ ا س کے لئے اس طرح کی چیزوں سے نفع اٹھانا اپنی ملکیت سے نفع اٹھانے کی طرح ہے پس جس طرح جیسے ملکیت سے روکنا کبیرہ گناہ ہے اسی طرح اس سے روکنا بھی کبیرہ گناہ ہے۔
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
کبیرہ نمبر231: سڑک کرائے پرد ینا
یعنی سڑک کرائے پر دے کر اس کی اُجرت لیناخواہ وہ اپنے گھریادُکان کی حدودمیں ہی کیوں نہ ہوں ۔
اس موضوع پر ہمارے کئی ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیکے قول کی بناء پر اسے کبیرہ گناہ قرار دینا بالکل واضح ہے، وہ فرماتے ہیں : ’’ یہ عمل فسق اور گمراہی ہے۔ ‘‘ اسی لئے علامہ اذرعیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے سڑکوں پر بیٹھنے والوں سے اُجرت وصول کرنے والے بیت المال کے عاملین کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں میں نہیں جانتا کہ وہ کون سا منہ لے کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ ‘‘
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
کبیرہ نمبر232: مباح پانی پرقابض ہوکرمسافرکواس سے روکنا
{1}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِمدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن 3افراد سے نہ کلام فرمائے گا اور نہ انہیں پاک فرمائے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا، ان میں ایک وہ شخص ہے جو کسی بیابان میں موجود پانی پر قابض ہو اور مسافر کو اس کے استعمال سے روک دے۔ ‘‘
( صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب بیان غلظ تحریم اسبال…الخ، الحدیث: ۲۹۷ ، ص ۶۹۶)
تنبیہ:
یہ کبیرہ گناہ اس حدیث ِپاک سے واضح ہے اسی لئے بہت سے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰینے اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا ہے مگر یہاں یہ قید لگانا ضروری ہے کہ منع کرنے کی صورت میں اُس (مسافر) کو شدید نقصان پہنچے ،ورنہ صرف منع کرنا یاتھوڑا سا نقصان پہنچنا اس کے کبیرہ گناہ ہونے کوثابت نہیں کرتا۔
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
باب الوقف
وقف کا بیان
کبیرہ نمبر233: واقف کی شرط کی مخالفت کرنا
میرا اسے کبیرہ گناہ شمار کرنا بالکل ظاہر ہے اگرچہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰینے اس کے کبیرہ ہونے کی وضاحت نہیں فرمائی کیونکہ اس کی مخالفت لوگو ں کا مال باطل طریقے سے کھانے کا سبب بنتی ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع