30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا ہے، نیزحضرت سیدناامام شافعیعلیہ رحمۃ اللہ الکافی نے جونص بیان کی ہے وہ مغصوبہ شئے کے چوتھائی دینارتک ہونے کی قیدکاکمزورہوناثابت کرتی ہے۔
مزید ارشاد فرمایا: صاحب العُدَّۃکایہ قول کہ ’’ زکوٰۃ ادا نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘ ثابت کرتا ہے کہ اس میں کوئی فرق نہیں خواہ تھوڑی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے یا زیادہ، یہی ظاہرمذہب ہے۔
علامہ ہروی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہوغیرہ کے اس قیاس کہ ’’ مغصوبہ چیزکے چوتھائی دینار کی مقدار ہونے ‘‘ سے مرادیہ ہے کہ اس سے کم قیمت چیزغصب کرنا کبیرہ نہیں ،لیکن یہ تعریف مستندنہیں ۔بلکہ علامہ ابن عبد السَّلام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے : ’’ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیکا اس بات پر اجماع ہے کہ ایک دانہ بھی غصب یاچوری کرناکبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘ امام قرطبی علیہ رحمۃاللہ القوی کا قول بھی اس کی تائیدکرتا ہے : ’’ اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ جس نے مال حرام کھایا اگرچہ اس پر کھانے کی تعریف صادق نہ آتی ہوپھربھی یہ فسق ہے۔ ‘‘ علامہ بشربن المعتمراورمعتزلہ کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ’’ 200درہم غصب کرنے سے فسق کا حکم لاگو ہوگا۔ ‘‘ جبکہ ابن جبائی کے نزدیک ایک یا اس سے زائد درہم کے غصب پربھی فاسق ہوجائے گا۔
گویا علامہ ابن عبد السَّلام نے علامہ ہروی اور امام بغوی رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیکے گذشتہ کمزور استدلال کوکوئی وقعت ہی نہ دی جیساکہ ثابت ہوچکاہے کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ،کیونکہ غاصب،جھوٹی گواہی دینے والے،یتیم کامال کھانے والے،رشوت لینے والے،کم تولنے والے،چوراورزکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے بارے میں جتنی احادیثِ مبارکہ آئی ہیں وہ سب مطلق ہیں پس قلیل وکثیرہر مقدار کو شامل ہیں ،اس لئے محض کسی معروف دلیل سے ہی ان کو خاص کرناجائزہوگا کیونکہ شارع عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ سے یہ ثابت ہے کہ ہر وہ گناہ جس پر شدید وعیدآئی ہوکبیرہ ہے لہذایہاں بھی یہی صورت ہوگی،نیزجب کوئی شدیدوعیدقلیل وکثیرکی قیدسے مقیّدکئے بغیرصحیح ہوتواس کو اس کے اطلاق پر جاری کرنا واجب ہوتا ہے، نیزاسے کسی معروف صحیح دلیل کے بغیر مقید نہ کرنا بھی واجب ہے، یہی وجہ ہے کہ جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو اس کی کوئی حیثیت بھی نہیں ہوتی جیسا کہ علامہ اذرعی علیہ رحمۃاللہ العلی نے بھی فرمایا ہے، لہذااس ساری بحث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جنہوں نے مغصوبہ چیزکی مقدارکومقیّدکیا ہے ان کا یہ قول کمزور ہے اور قابلِ اعتماد بات یہی ہے کہ مغصوبہ چیز کی قلیل و کثیر مقدار میں کوئی فرق نہیں ، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی چیزاتنی حقیرہو جو اس بات کا تقاضاکرتی ہوکہ عرف کے اعتبار سے غاصب کومعاف کر دیا جائے ’’ مثلاًمنقّٰی وانگور کا ایک دانہ ‘‘ تواس کے غاصب کوگناہ ِصغیرہ کا مرتکب کہنا ممکن ہے، لیکن مذکورہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیکا اجماع، جسے علامہ ابن عبد السَّلام علیہ رحمۃاللہ السلام نے بیان فرمایاہے، اگر ہم اس کو حقیقی معنوں میں مراد لیں توبھی اکثرعلماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیکے اجماع کے مطابق ان کا مذکورہ قول ردہوجاتاہے اوراس بات کی تصریح ہو جاتی ہے کہ یہ مطلقاًکبیرہ گناہ ہے کیونکہ لوگوں کے اموال اور حقوق، اگرچہ قلیل ہی ہوں ، کسی بھی صورت میں معاف نہیں ہو سکتے، ہاں ،البتہ! کسی کے کتّے وغیرہ کوغصب کرلیناکبیرہ نہیں جیسا کہ چندعلماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیکا قول ہے حالانکہ یہ بھی محتمل ہے۔
علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے جب یہی بیان کردہ احادیثِ مبارکہ زمین کے غصب کے بارے میں بیان کیں تواس کے بعد ارشادفرمایا: ’’ کیا زمین کے غصب کے حکم کے ساتھ دوسری اشیاء کے غصب کو بھی ملایا جا ئے گا؟کیونکہ حرمت میں فرق کرنے والی کوئی چیزنہیں ،جب حرمت میں دونوں برابرہیں توشدید وعیدمیں بھی برابر ہوں گی یازمین کے غصب میں دوسری اشیاء کے برعکس ضرر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے فرق کیا جائے گا، جو صورت کہ محلِ نظرہے، اس کی دلیل یہ حدیثِ پاک ہے کہ ’’ میں بروزِقیامت تین افرادکا خصم (یعنی اُن سے مطالبہ کرنے والا) ہوں گا۔ ‘‘ اس میں اس شخص کا بھی تذکرہ ہے : ’’ جس نے کوئی مزدور اجرت پر لیااور کام مکمل کرانے کے بعد اُجرت پوری نہ دی۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب البیوع ، باب اثم من باع حرائ،الحدیث: ۲۲۲۷، ص۱۷۳)
تو اس کے لئے اس حدیثِ پاک میں اُجرت کا حق غصب کرنے کی وجہ سے شدید وعید آئی ہے۔
علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس بات کا ذکرمحض اس دلیل میں غوروفکر کرنے کی غرض سے کیا ہے ورنہ توسب کی تصریح کے مطابق اس میں کوئی فرق نہیں کہ ’’ غصب خواہ زمین ہو یا کوئی دوسری مالی چیزبہرحال یہ کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شاید علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکی نظرسے وہ حدیثِ پاک نہیں گزری جو میں نے سب سے آخر میں بیان کی ہے کیونکہ اس میں توصراحتاًایک ڈنڈاغصب کرنے پر بھی وعیدہے، لہذااگراس حدیثِ پاک کواس اُجرت والی حدیثِ پاک کے ساتھ ملا دیا جائے تو ثابت ہو جائے گا کہ وعید نہ صرف زمین میں ہے بلکہ زمین کے علاوہ دوسری مالی اشیاء میں بھی ہے۔
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
باب الاجارۃ
اجارہ کا بیان
کبیرہ نمبر228: اُجرت دینے میں تاخیر کرنا
یعنی مزدور کی مزدوری دینے میں تاخیر کرنا اور اس کے کام سے فارغ ہونے کے بعد بھی اس سے روکے رکھنا۔
{1}…حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عبرت نشان ہے: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے: قیامت کے دن میں 3افراد کاخصم ہوں گا (یعنی میں اُن سے مطالبہ کروں گا ) اور جن کا میں خصم ہوں گا ان پر غالب آ جاؤں گا: (۱) وہ شخص جسے میرے لئے دیا گیاپھر اس نے اس مال میں بددیانتی کی (۲) وہ شخص جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچااوراس کی قیمت کھا گیا اور (۳) وہ شخص جس نے کسی کو اُجرت پر رکھا پھر اس سے پوراپورا کام لیا مگر اس کی اُجرت نہ دی۔ ‘‘ (سنن ابن ماجۃ،ابواب الرھون ، باب اجر الاجر اء ، الحدیث: ۲۴۴۲ ، ص ۲۶۲۳)
{2}…حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ مزدورکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری اداکرو۔ ‘‘
(سنن ابن ماجۃ،ابواب الرھون ، باب اجر الاجراء ، الحدیث: ۲۴۴۳ ، ص ۲۶۲۳)
تنبیہ:
اسے کبیرہ گناہ شمار کرنا غصب اور غنی کے ٹال مٹول کرنے کے بیان میں ذکر کی گئی روایات سے بالکل واضح ہے چونکہ اس میں خاص طور پر ایک سخت وعید وارد ہوئی ہے اس لئے میں نے اسے علیٰحدہ ذکر کر دیا، پھر میں نے بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیکو دیکھا کہ انہوں نے میری طرح اسے علیٰحدہ کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷۷ ۷ ۷ ۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع