30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{2}…حضرت سیدناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی کریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے غیر معروف نسب کا دعوی کیا اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کفرکیا اور جواپنے نسب سے الگ ہواخواہ ا تھوڑا ہی الگ ہواہو اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کفر کیا۔ ‘‘ ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۸۵۷۵،ج۶ ، ص ۲۲۱)
{3}…رسول اکرم، شفیع مُعظَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ جن سے وہ قیامت کے دن نہ تو کلام فرمائے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ ہی ان پر نظرِ رحمت فرمائے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! وہ کون لوگ ہوں گے؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اپنے والدین سے منہ موڑتے ہوئے بیزاری ظاہر کرنے والا، اپنے بیٹے سے براء ت اختیار کرنے والا اور وہ شخص جس پر کسی قوم نے احسان کیا تو وہ اس کے احسان سے انکار کر کے اس سے براء ت اختیار کر بیٹھا۔ ‘‘
( المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث معاذبن اٌنس الجھنی، الحدیث: ۱۵۶۳۶،ج۵،ص۳۱۲)
{4}…مسلم شریف کی ایک روایت کے مطابق یہاں پر انعام (یعنی احسان کرنے) سے مراد آزاد کرنا ہے اور وہ روایت یہ ہے: ’’ جو کسی قوم کے معزز لوگوں کی اجازت کے بغیر سردار بنا اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور قیامت کے دن نہ اس کا کوئی فرض قبول ہو گا نہ نفل۔ ‘‘ (صحیح مسلم ،کتاب العتق ، باب تحریم تولی العتیق غیر موالیہ ، الحدیث: ۳۷۹۲ ، ص ۹۳۸)
تنبیہ:
ان دونوں صحیح احادیثِ مبارکہ اور اس سخت وعید پر مشتمل دیگر احادیثِ مبارکہ سے میرے بیان کی تائید ہوتی ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس بات کی صراحت کرتے ہوئے نہیں پایا کہ یہ دونوں کبیرہ گناہ ہیں ۔
ان دونوں کے عظیم ضر ر، ان پر مرتب ہونے والی برائیوں ، مفاسد اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ارشاد فرمائے ہوئے احکام میں تبدیلی کے پیش نظر ان کے کبیرہ ہونے میں تو کوئی شک نہیں کیونکہ بیٹا اگر جھوٹ بولتے ہوئے اپنے نسب کاانکار کردے تو وہ ظاہری احکام کے اعتبار سے اجنبی کی مثل ہو جائے گا اور اجنبی اگر کسی کو اپنا بیٹا کہے تو ظاہراً اس کے لئے بیٹے کے احکام ثابت ہو جائیں گے اور ان صورتوں کے مفاسد اور نقصانات بالکل عیاں ہیں ، پھر میں نے علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکو دیکھا کہ انہوں نے اس کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے کہ جان بوجھ کر غیرکواپناباپ بتائے اوربخاری و مسلم کی اس روایت سے استدلال کیاکہ،
{5}…حضورنبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ جس نے حالتِ اسلام میں ایسے شخص کے لئے باپ ہونے کا دعوی کیا جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں اس پر جنت حرام ہے۔ ‘‘
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان حال ایمان…الخ،الحدیث: ۲۱۹،ص۶۹۱)
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
باب العاریۃ
عاریت ([1]) کا بیان
کبیرہ نمبر224: مستعار چیز کا مقصد سے ہٹ کر استعمال کرنا
کبیرہ نمبر225: مالک کی اجازت کے بغیر اسے عاریتًا دے دینا
کبیرہ نمبر226: مدَّتِ مقرّرہ کے بعد پاس رکھنا یا واپس نہ کرنا
ان تینوں کے کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح بالکل ظاہر ہے کیونکہ یہ غصب اور ظلم پر مشتمل ہیں اور یہ دونوں ( یعنی ظلم و غصب) بالاجماع کبیرہ گناہ ہیں کیونکہ ان میں مالک پر ظلم اور اس کے حق اور مال کو ناحق دبانا پایا جاتا ہے۔آئندہ غصب و ظلم کی مذمت میں آنے والی تمام سخت وعیدیں ان تینوں کو بھی شامل ہیں ۔
باب الغصب
غصب کابیان
کبیرہ نمبر227: غصب یعنی غیر کے مال پر ظلمًا قابض ہونا
{1}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ جس نے بالشت بھر زمین کے معاملے میں ظلم کیا اسے 7زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔ ‘‘
( صحیح البخاری ،کتاب المظالم ، باب اثم من ظلم شیٔامن الارض ، الحدیث: ۲۴۵۳ ، ص ۱۹۳)
ایک قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے: ’’ اسے تکلیف کا طوق پہنایا جائے گا نہ کہ 7زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا بلکہ قیامت کے دن اس کی گردن پر ان کا بوجھ ڈالا جائے گا۔ ‘‘ جبکہ اَصح قول وہی ہے جوسیدنا امام بغوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے بیان کیا ہے کہ ’’ اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو زمین کا وہ حصہ اس کی گردن میں طوق کی طرح پھنس جائے گا۔ ‘‘
آئندہ آنے والی روایات بھی اسی قو ل کی تائید کرتی ہیں :
غصب کی مذمت پراحادیث مبارکہ :
{2}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے زمین کا بالشت بھر ٹکڑا ناحق لے لیا قیامت کے دن اسے 7زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔ ‘‘
[1] صدر الشریعہ،بدرالطریقہ مفتی امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ’’عاریت ‘‘کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’دوسرے شخص کو چیز کی منفعت کا بغیر عوض مالک کردینا عاریت ہے، جس کی چیز ہے اُسے مُعیرکہتے ہیں ، اور جس کو دی گئی مُستعیرہے، اور چیز کو مستعار کہتے ہیں ۔‘‘(بہارشریعت،حصہ ۱۴،ص۴۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع