دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

                ان دونوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا ان احادیثِ مبارکہ سے ظاہر ہے اگرچہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے خصوصیت کے ساتھ انہیں کبیرہ گناہوں میں ذکر نہیں کیا کیونکہ انہوں نے ایسے کبائر ذکر کر دئیے ہیں جو ان دونوں کو بھی شامل ہیں جیسا کہ آئندہ آنے والے بہت سے مقامات سے معلوم ہو گا اور عنقریب امانت کے باب میں اس سے متعلقہ دیگر احادیثِ مبارکہ بھی ذکر کی جائیں گی۔

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

باب الاقرار

اِقرارکا بیان

 کبیرہ نمبر220:                                             جھوٹااقرارکرنا

یعنی وارث یا کسی اجنبی کے لئے قرض یا کسی مال کا جھوٹا اقرار کرنا۔

{1}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ وصیت میں نقصان دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ‘‘                       ( سنن الدار قطنی ، کتاب الوصایا ، الحدیث:  ۴۲۴۹ ، ج۴ ، ص ۱۷۸)

{2}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  روایت کرتے ہیں کہسرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:  ’’ ایک آدمی 70سال تک نیک عمل کرتاہے پھر جب وصیت کرتا ہے تو اپنی وصیت میں ظلم کر بیٹھتا ہے اس طرح اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور ایک آدمی 70سال تک برے لوگوں جیسے عمل کرتا ہے مگراپنی وصیت میں عدل سے کام لیتا ہے،پس اس کا خاتمہ اچھے عمل پر ہوتا ہے تو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ ‘‘  پھر حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرمانے لگے اگر چاہو تو یہ آیتِ مبارکہ پڑھ لو:

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (۱۳)  وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا ۪- وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ (۱۴)   (پ۴، النساء: ۱۳۔۱۴)

ترجمۂ کنز الایمان : یہ اللہ  کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ  اور اللہ  کے رسول کا اللہ  اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی اور جو اللہ  اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ  اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے۔

 ( سنن ابن ماجۃ ،ابواب الوصایا ، باب الحیف فی الوصیۃ ، الحدیث:  ۲۷۰۴ ، ص۲۶۳۹)

{3}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے، نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُعظَّم ہے:  ’’ مرد یا عورت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبرداری کے کام کرتے ہیں پھر جب ان پر نزع کا عالم طاری ہوتا ہے تو وہ دونوں وصیت میں ورثاء کو نقصان پہنچا کر اپنے لئے جہنم واجب کر لیتے ہیں ۔ ‘‘  پھر حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت مبارکہ پڑھی:

مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍۙ-غَیْرَ مُضَآرٍّۚ-وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ (۱۲)  تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (۱۳)    (پ۴، النساء: ۱۲۔۱۳)

ترجمۂ کنز الایمان :  میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو یہ اللہ  کا ارشاد ہے اور اللہ  علم والا حلم والا ہے۔یہ اللہ  کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ  اور اللہ  کے رسول کا اللہ  اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی۔

 ( جامع الترمذی ، ابواب الوصایا ، باب ماجاء فی الضرار فی الوصیۃ ، الحدیث:  ۲۱۱۷، ص۱۸۶۳)

تنبیہ:

                وصیت میں ورثاء کو نقصان پہنچانے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنے کی وجہ کثیر علمائے عظام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی تصریح ہے، اس میں سے کچھ تو میں نے ذکر کر دیا اور عنقریب وصیت کے باب میں اس آیتِ کریمہ پرمکمل کلام ہو گا جس کی طرف حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اشارہ فرمایا ہے۔

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

کبیرہ نمبر221:          مرض موت میں مقروض کااقرارنہ کرنا

یعنی حالتِ مرض میں مریض کا اپنے مقروض ہونے یااپنے پاس مال ہونے کا اقرار نہ کرنا بشرطیکہ ورثاء کے

علاوہ اس شخص کو اس کا علم نہ ہو سکے جو اس مریض کے قول ہی سے اپناحق ثابت کرسکتاہو۔

                میرااس گناہ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا بالکل واضح ہے اگرچہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کی صراحت نہیں کی کیونکہ اس حالت میں اقرارترک کرنے میں غیرکے حق کے ضیاع کاسبب ظاہرہے اور غیرکا حق ضائع کرناکبیرہ گناہ ہے، اسی طرح اس کا سبب پیدا کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ وسائل کا بھی وہی حکم ہوتا ہے جو مقاصد کا ہوتا ہے اور عنقریب شراب بنانے والے کے بیان میں اس کی وضاحت ہو گی۔

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

کبیرہ نمبر222:                                               نسب کاانکارکرنا

کبیرہ نمبر223:                                جھوٹے نسب کا اقرارکرنا

{1}…نبی کریم ،رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے اپنے نسب سے بر اء ت اختیار کی یا جس نے غیر معروف نسب کا دعوی کیا اس نے کفر کیا اگرچہ تھوڑ اہی الگ ہوا ہو۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد ابن حنبل،مسند عبداللہ  بن عمر و بن العاص،الحدیث: ۷۰۳۹،ج۲،ص۶۷۳)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن