دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

تنبیہ:

                اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ میں نے کسی کو اس کی صراحت کرتے ہوئے نہیں پایامگر احادیثِ مبارکہ اورآثارصحابہ اس کے کبیرہ ہونے کی صراحت کرتے ہیں کیونکہ ایسی باتیں اپنی رائے سے نہیں کہی جاتیں ۔

                اس طرح کے معاملات میں صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کے اقوال مرفوع حدیث کے حکم میں ہوتے ہیں کیونکہ ان میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں آخری چند احادیثِ مبارکہ تو اس کے کبیرہ ہونے پر صریح دلیل ہیں کیونکہ ان میں اس عمل پر صریح وعید بیان کی گئی ہے اور کچھ باتیں اس وعید کی طرف اشارہ کرتی ہیں مثلاًمَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا غضب فرمانا، سلام کا جواب نہ دینا اور اسے گرائے بغیر راضی نہ ہونا اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر صریح دلیل ہے مگر اسے اس صورت پر محمول کرنا مناسب ہے جسے میں نے عنوان میں ذکر کر دیا ہے کہ اگر اس سے مقصود تکبر اور فخر ہو تو یہ کبیرہ گناہ ہے اسی طرح اسے وبال، رسوائی اورمکمل شر سے تعبیر کرنا یا تو سخت وعید پر صریح دلیل ہے یا صریح دلیل کی طرح ہے۔

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

کبیرہ نمبر212:                               زمین کے نشانات مٹا دینا

{1}…امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ  تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْمارشاد فرماتے ہیں :  ’’ رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دل کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے چارباتیں ارشاد فرمائیں ۔ ‘‘  راوی فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا:  ’’ یا امیر المومنینرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  !  وہ باتیں کیا ہیں ؟ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:  ’’  (۱) جو غیر اللہ  کے لئے ذبح کرتا ہے اس پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ لعنت فرماتا ہے  (۲) جو اپنے والدین پر لعنت بھیجتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر لعنت بھیجتا ہے (۳) جو کسی بدعتی کو پناہ دیتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر لعنت فرماتا ہے اور  (۴) جو زمین کے نشانات مٹا دیتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر لعنت فرماتا ہے۔ ‘‘

 ( صحیح مسلم ،کتاب الاضاحیی ، باب تحریم الذبح الخ، الحدیث:  ۵۱۲۴، ص۱۰۳۱)

                حدیثِ مبارکہ میں زمین کے نشانات سے مراد اس کی حدود کے نشانات ہیں جیسا کہ لواطت کے بیان میں آنے والی حدیثِ پاک میں اس کی صراحت ہے،اس کے الفاظ کچھ یوں ہیں :  ’’  جو زمین کی حدود تبدیل کرے وہ ملعون ہے۔ ‘‘

 ( المعجم الاوسط ، الحدیث:  ۸۴۹۷، ج۶، ص ۱۹۹)

تنبیہ:

                اس حدیثِ پاک کی صراحت کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا اور ائمہ کی ایک جماعت نے بھی اس کے کبیرہ ہونے کی صراحت کی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانا یا مسلمانوں کی شدید ایذارسانی پائی جاتی ہے یا ان دونوں میں سے ایک کا سبب پایا جاتا ہے اور وسائل کا حکم بھی وہی ہوتا ہے جو مقاصد کا ہوتا ہے لہذایہ حکم اس کے علاوہ دیگر صورتوں جیسے شریک زمین یا اطراف کی زمین والوں کوبھی شامل ہوگااور جو اس کا سبب بنے جیسے کوئی غیر کی زمین پر آمد ورفت رکھے جس سے اسے راستہ بنا لیا جائے اور اگر ضرر نہ ہو تو غیر کی زمین سے گزرنا جائز ہے۔ جیسا کہ ہمارے ائمہ میں سے حضرت قفال کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا کہ وہ بادشاہ کی ایک جانب سوار ہو کر گزر رہے تھے جبکہ دوسری جانب حنفی امام تھے جب راستہ تنگ ہو گیا تو حضرت قفال دوسرے راستے پر سے گزر کر آئے تو حنفی عالم نے بادشاہ سے کہا کہ شیخ سے پوچھئے کہ کیا غیر کی زمین سے گزرنا جائز ہے بادشاہ نے شیخ سے یہ سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا :  ’’ اگر اسے راستہ نہ بنا لیا جائے تو جائز ہے،جبکہ اس میں کھیتی وغیرہ نہ ہو جسے چلنے سے نقصان پہنچتا ہو جیسا کہ یہ بالکل ظاہر ہے۔

کبیرہ نمبر213:                                نابینا کو راستہ بُھلا دینا

{1}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نابینا کو راستہ بھلا دینے والے پر لعنت فرمائی۔ ‘‘

 (الادب المفرد للبخاری،باب: ۳۹۸ من کمہ اعمی ، الحدیث:  ۹۱۶، ص ۲۴۱)

تنبیہ:

                اسے بعض ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیعنہ کے اقوال کی بناء پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے گویا انہوں نے میری ذکر کردہ گذشتہ احادیثِ مبارکہ سے استدلال کیا ہے کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ لعنت کا وارد ہونا کبیرہ گناہ کی علامات میں سے ایک علامت ہے اور اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے کیونکہ جو ایذاء عادۃً برداشت نہ کی جاتی ہو وہ لوگوں کی ایذاء رسانی میں داخل ہے کیونکہ اندھے کو راستے سے بھٹکا دینا اسے نقصان اور بے شمار خدشات میں مبتلا کرنے کا سبب ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے لہذا اس کے سبب کا کبیرہ ہونا بعید نہیں ۔

 

 

 

٭…٭…٭…٭…٭…٭ ۷

کبیرہ نمبر214:    کسی راستے میں بلااجازتِ مالک تصرف کرنا

یعنی ایسا راستہ جسے مالک نے اپنی ملکیت سے الگ نہ کیا ہو۔

کبیرہ نمبر215:          شارع عام میں غیرشرعی تصرف کرنا

یعنی ایساتصرف کرنا جس سے گزرنے والوں کو سخت نقصان پہنچے۔

کبیرہ نمبر216:              قائلین حرمت کے نزدیک مشترکہ دیوار

میں بلااجازتِ شریک تصرف کرنا

یعنی ایسا تصرف کرنا جسے عادۃًبرداشت نہ کیا جاتا ہو۔

                ان تینوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام سے ظاہر ہے مگر انہوں نے ان کے کبیرہ گناہ ہونے کی صراحت نہیں کی کیونکہ ان میں سے ہر ایک میں لوگوں کی ایذا رسانی اور ان کے حقوق کو ظلم و تعدی کی بناء پر دبانا پایا جاتا ہے، اور بلاشبہ یہ دونوں باتیں یعنی ایذارسانی اور حق تلفی ان تینوں کو شامل ہے، لہذا اسے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام سے سمجھی جانے والی تصریح کی بناء پر کبیرہ گناہ کہا گیا ہے اور ظلم و غصب کی آئندہ آنے والی ابحاث اور دیگرا بحاث میں آنے والے دلائل ان تینوں صورتوں کو شامل ہیں ، لہذا انہیں اس جگہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے اور عنقریب غصب کے بیان میں ایک حدیثِ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن