دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

روزے کی کمی اور پنیر کے ٹکڑے صدقہ کرنے کے باعث پہچانی جاتی ہے اور اپنے پڑوسیوں کو ایذاء بھی نہیں دیتی۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ وہ جنتی ہے۔ ‘‘      ( المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند ابی ھریرۃ، الحدیث:  ۹۶۸۱، ج۳ ، ص ۴۴۲)

{21}… ایک اور روایت میں ہے:  ’’ فلاں عورت دن بھر روزہ رکھتی ہے اور ساری رات قیام کرتی ہے لیکن اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے۔ ‘‘  توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ وہ جہنمی ہے۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! فلاں عورت صرف فرض نمازہی اداکرتی ہے اورپنیرکے ٹکڑے بھی صدقہ کرتی رہتی ہے لیکن اپنے کسی پڑوسی کوتکلیف نہیں پہنچاتی۔ ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ وہ جنتی ہے۔ ‘‘                 (المرجع السابق)

پڑوسیوں کے حقوق:

{22}…حضرت سیدنا معاویہ بن حیدہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ میں نے بارگاہِ رسالت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  آدمی پر پڑوسی کے کیا حقوق ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو، اگر مر جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو، اگر قرض مانگے تو اسے قرض دے دو اور اگر وہ عیب دار ہو جائے تو اس کی پردہ پوشی کرو۔ ‘‘          ( المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۱۰۱۴ ، ج۱۹ ، ص ۴۱۹)

{23}… حضرت ابوشیخ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی روایت میں ہے:  ’’ اگر وہ تم سے مدد طلب کرے تو اس کی مدد کرو اور اگر وہ محتاج ہو تو اسے عطا کرو، کیا تم سمجھ رہے ہوجومیں تمہیں کہہ رہاہوں ؟پڑوسی کاحق کم لوگ ہی اداکرتے ہیں جن پراللہ  عَزَّ وَجَلَّکارحم وکرم ہوتاہے۔ ‘‘     (الترغیب والترہیب،کتاب البروالصلۃ،باب الترہیب من اذیالخ،الحدیث: ۳۹۱۵ (۲۱) ،ج۳،ص۲۴۳)

{24}…ایک اور روایت میں ہے:  ’’ اگر وہ تنگدست ہو جائے تو اسے تسلی دو، اگر اسے خوشی حاصل ہو تو مبارک باد دو، اگراُسے مصیبت پہنچے تو اس سے تعزیت کرو، اگر وہ مر جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو، اس کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے اونچی عمارت بنا کر اس سے ہوا نہ روکو، بھنے ہوئے گوشت سے اسے تکلیف نہ پہنچاؤہاں یہ کہ اسے بھی مٹھی بھر دے دوتو صحیح ہے، اگر پھل خرید کر لاؤ تو اسے بھی اس میں سے کچھ تحفہ بھیجو اور ایسا نہ کر سکو تو اسے چھپا کر اپنے گھر لاؤ اور اپنے بچوں کو پھل دے کر باہرنہ جانے دوکہ کہیں اس سے پڑوسی کے بچے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ۔ ‘‘   (شعب الایمان، باب فی اکرام الجار ، الحدیث: ۹۵۶۰،ج۷، ص۸۳)

{25}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جو جانتا ہو کہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہے پھر بھی شکم سیر ہو کر رات گزارے تو اس کا مجھ پر ایمان نہیں ۔ ‘‘            (  المعجم الکبیر ، الحدیث:  ۷۵۱ ، ج۱ ، ص ۲۵۹)

{26}…سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جو خود شکم سیر ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو وہ ایمان دارنہیں ۔ ‘‘                         ( المرجع السابق ، الحدیث:  ۱۲۷۴۱ ، ج۱۲ ، ص ۱۱۹)

{27}…ایک شخص نیسرکارِمدینہ،سرور قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  لباس عطا فرمایئے۔ ‘‘  تو مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے اپنا رُخِ انور پھیر لیا، اس نے پھر عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  مجھے لباس عطا فرمایئے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ کیا تمہارا کوئی پڑوسی نہیں جس کے پاس دوکپڑے حاجت سے زائد ہوں ؟ ‘‘  اس نے عرض کی:  ’’ کیوں نہیں ، ایسے بہت سے پڑوسی ہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے تمہارے ساتھ جنت میں اکٹھا فرمائے گا۔ ‘‘            ( المعجم الاوسط ، الحدیث:  ۷۱۸۵، ج۵ ، ص ۲۳۶)

{28}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ بہت سے پڑوسی قیامت کے دن اپنے پڑوسیوں کادامن پکڑ لیں گے، مظلوم پڑوسی عرض کرے گا:  ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ !  اس سے پوچھ کہ اس نے مجھ پر اپنا دروازہ بند کر رکھا تھااور اپنی ضرورت سے زائد چیزیں مجھ سے روکی تھیں ۔ ‘‘

 ( کنز العمال ،کتاب الصحبۃ ، قسم الاقوال ، باب الرابع فی حقوق  الخ ،الحدیث:  ۲۴۸۹۴، ج۹ ، ص ۲۳ ،لفظ آخر ’’ فاخرق ‘‘ )

{29}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ کون ہے جو مجھ سے یہ کلمات سیکھے پھر ان پر عمل کرے یا ان پر عمل کرنے والے کو یہ کلمات سکھائے۔ ‘‘  تو میں نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میں ہوں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے میرا ہاتھ پکڑ کر پانچ چیزیں ارشاد فرمائیں :  ’’  (۱) حرام کاموں سے بچتے رہنا لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے  (۲) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے رزق کا جو حصہ تمہارے لئے تقسیم فرمایا ہے اس پر راضی رہنا سب سے زیادہ غنی ہو جاؤ گے  (۳) اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرنا مؤمن ہو جاؤ گے  (۴) لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو مسلمان ہو جاؤ گے اور  (۵) زیادہ مت ہنسنا کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔ ‘‘                (جامع الترمذی ،ابواب الزھد ، باب من اتقی المحارمالخ، الحدیث:  ۲۳۰۵ ، ص۱۸۸۴)

{30}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بہترین رفیق وہ ہے جو اپنے دوست کے لئے زیادہ اچھا ہے اوراللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں دوسروں سے زیادہ اچھاہے۔ ‘‘   ( جامع الترمذی ،ابواب البر و الصلۃ ، ماجاء فی حق الجوار ، الحدیث:  ۱۹۴۴ ، ص ۱۸۴۷)

{31}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جن لوگوں سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ محبت فرماتا ہے ان میں وہ شخص بھی شامل ہے جس کا برا پڑوسی اسے ایذاء دے تو وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے یہاں تک کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی زندگی یا موت کے ذریعے کفایت فرمایئے۔ ‘‘         (المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۶۳۷، ج۲، ص۱۵۲ ) $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن