30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تین درہم کی بیچ دی، میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس کا ذکر کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اس نے دنیاکے بدلے اپنی آخرت بیچ دی۔ ‘‘ (صحیح ابن حبان،کتاب البیوع، الحدیث: ۴۸۸۹،ج۷،ص۲۰۵)
{10}…حضرت سیدنا واثلہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہماری طرف آتے جبکہ ہم تجارت کر رہے ہوتے توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے: ’’ اے تاجروں کے گروہ! جھوٹ سے بچو۔ ‘‘
(المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۳۲،ج۲۲،ص۵۶)
{11}… سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے: ’’ (جھوٹی) قسم،سامان کوفروخت کروانے والی لیکن کمائی کومٹانے والی ہے۔ ‘‘ (سنن النسائی ، کتاب البیوع، باب المنفق سلعتہ…الخ، الحدیث: ۴۴۶۶،ص۲۳۷۸)
اور ابو داؤد شریف میں ہے: ’’ لیکن برکت کومٹانے والی ہے۔ ‘‘
(سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، باب فی کراہیۃ الیمین فی البیع ،الحدیث: ۳۳۳۵،ص۱۴۷۳)
{12}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ خریدوفروخت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو! کیونکہ قسم مال توبِکواتی ہے لیکن اس کی برکت مٹادیتی ہے۔ ‘‘
(صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب النھی عن الحلف فی البیع، الحدیث: ۴۱۲۶،ص۹۵۷)
{13}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ سچاامانت دارتاجر انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام، صدیقین اور شہداء کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ‘‘
(جامع الترمذی ،ابواب البیوع، باب ماجاء فی التجار…الخ، الحدیث: ۱۲۰۹،ص۱۷۷۲)
{14}… سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ سچا، امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ، ابواب التجارات ، باب الحث علی المکاسب، الحدیث: ۲۱۳۹،ص۲۶۰۵)
{15}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ سچا تاجر قیامت کے دن عرش کے سائے کے تلے ہو گا۔ ‘‘ (کنزالعمال، کتاب البیوع، قسم الاقوال، باب الاول فی الکسب،الحدیث: ۹۲۱۴، ج۴،ص۵)
{16}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’ بے شک سب سے اچھی کمائی ان تاجروں کی ہے جو بات کریں تو جھوٹ نہ بولیں ، جب امین بنائے جائیں توخیانت نہ کریں جب وعدہ کریں تو وعدہ خلافی نہ کریں کوئی چیز خریدیں تو اس کی مذمت نہ کریں ، جب بیچیں تو اس کی بے جا تعریف نہ کریں اور جب ان پر قرض ہو تو (ادائیگی میں ) ٹال مٹول نہ کریں اور ان کا کسی پر قرض ہو تو اس پر (وصولی میں ) تنگی نہ کریں ۔ ‘‘ (شعب الایمان،باب فی حفظ اللسان،الحدیث: ۴۸۵۴،ج۴،ص۲۲۱)
{17}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُعظَّم ہے: ’’ خریدنے اور بیچنے والے کو جدا ہونے سے پہلے پہلے اختیار ہے، اگر دونوں نے سچ بولا اور گواہ بنائے تو ان کے سودے میں برکت دی جائے گی اور اگر دونوں نے چھپایا اور جھوٹ بولا تو ہو سکتاہے ان کو نفع تو ہو لیکن ان کے سودے سے برکت اٹھا لی جائے، کیونکہ جھوٹی قسم مال کو بِکوانے والی لیکن کمائی کی برکت مٹانے والی ہے۔ ‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، باب فی خیار المتبایعین ،الحدیث: ۳۴۵۹،ص۱۴۸۱،بدون ’’ فعسی ان یربحا ‘‘ )
{18}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز کے لئے تشریف لائے اور لوگوں کو دیکھا کہ وہ خرید و فروخت کر رہے ہیں ، تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اے تاجروں کے گروہ! ‘‘ انہوں نے نبی کریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جواب دیا اور اپنی گردنیں اورآنکھیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف اٹھا لیں (یعنی پوری طرح متوجہ ہو گئے) تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ تاجر قیامت کے دن فاجر (یعنی بدکار) اٹھائے جائیں گے مگر جو (اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے) ڈرے، لوگوں سے بھلائی کرے اور سچ بولے۔ ‘‘ (جامع الترمذی ،ابواب البیوع، باب ماجاء فی التجار…الخ، الحدیث: ۱۲۱۰،ص۱۷۷۲)
{19}…رسولِ اکرم، شفیعِ مُعظَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک تاجر ہی فاجر ہیں ۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان نے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے خرید و فروخت حلال نہیں فرمائی؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ کیوں نہیں ، لیکن وہ قسمیں کھاتے ہیں ،تو جھوٹے ہوتے ہیں اور بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں ۔ ‘‘
(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث عبد الرحمٰن بن شبل، الحدیث: ۱۵۵۳۰،ج۵،ص۲۸۸)
تنبیہ:
اس کو کبیرہ گناہ میں شمار کیا گیا ہے اگرچہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰینے اسے صرا حتًاذکر نہیں کیا، شدید وعید والی کثیر احادیثِ مبارکہ کی بناء پر اسے کبیرہ قرار دینا ظاہر اور واضح ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
کبیرہ نمبر202:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖؕ- (پ۲۲،فاطر$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع