30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر بن الخطاب، الحدیث: ۵۱۱۳،ج۲،ص۳۰۹)
{41}…مروی ہے: ’’ جس نے مسلمانوں کو دھوکادیاوہ ان میں سے نہیں ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر ، الحدیث: ۹۲۱،ج۱۸،ص۳۵۹)
پیچھے روایت گزر چکی ہے کہ جس نے دودھ میں پانی ملایا پھر اسے بیچا اسے قیامت کے دن کہا جائے گا: دودھ سے پانی نکالو حالانکہ وہ اس پر قادر نہ ہو گا، لہذا اس کے ساتھ ایسے ہی ہو گا جیسا کہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن کہا جائے گا: تم نے جو تصویریں بنائی ہیں انہیں زندہ کرو یعنی ان صورتوں میں روح پھونکو جنہیں تم دنیا میں بناتے تھے انہیں حقیر اور ذلیل کرنے کے لئے اور ان کے عجز اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ان کی جرأت کو بیان کرنے کے لئے یہ کہا جائے گا، اسی طرح دودھ میں پانی ملانے والے کو بھی بروزِ قیامت تمام لوگوں کے سامنے حقارت اور شرمندگی دلانے کے لئے دنیا میں کی ہوئی ملاوٹ کی سزادیتے ہوئے دودھ سے پانی نکالنے کو کہا جائے گا۔ اسی طرح تمام ملاوٹ کرنے والوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ مسلمانوں سے دھوکا کرنے کی وجہ سے تمام لوگوں کے سامنے شرمسار کرے گانیز ملاوٹ کرنے والے اس فرمان میں بھی غور کرلیں کہ،
{42}…رسولِ اکرم، شفیعِ مُعظَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ کسی کے لئے عیب بیان کئے بغیر کوئی چیز بیچنا جائز نہیں اور جو عیب جانتاہو اس کے لئے عیب بیان نہ کرنا جائز نہیں ۔ ‘‘
(المسند لامام احمد بن حنبل، حدیث واثلۃ بن الاسقع، الحدیث: ۱۶۰۱۳،ج۵،ص۴۲۱)
{43}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے عیب والی چیز بیچی اور عیب بیان نہ کیا وہ ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی میں رہتا ہے یافرشتے ہمیشہ اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔ ‘‘ (سنن ابن ماجۃ،ابواب التجارات ، باب من باع عیباً فلیبینہ،الحدیث: ۲۲۴۷،ص۲۶۱۱)
{44}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ مؤمن ایک دوسرے کے لئے خیرخواہ ہیں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اگرچہ ان کے گھر اور اجسام دور دراز ہوں اور فاجر لوگ ایک دوسرے سے دھوکااورخیانت کرتے ہیں اگرچہ ان کے گھر اور اجسام قریب قریب ہوں ۔ ‘‘
(الترغیب والترہیب،کتاب البیوع وغیرہا ، الترہیب من الغش …الخ، الحدیث: ۲۷۵۰،ج۲،ص۳۶۸ )
دھوکے بازی اورملاوٹ کے بارے میں اس کے علاوہ بھی کئی احادیث ہیں جن میں سے چند ایک پہلے گزر چکی ہیں ، لہذا جس نے بھی ان پر غور و فکر کیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دی تو وہ ملاوٹ سے بچ جائے گا اور اس کی عظیم برائی اور خطرے کو جان لے گا اور یہ کہ ملاوٹ کرنے والے ملاوٹ کے ذریعے جو کچھ لیتے ہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے مٹا دے گا جیسا کہ بندر اور لومڑی کے قصے میں گزر چکا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کو ملاوٹ کرنے والوں پر مُسلَّط کر دیااور انہوں نے سمندر میں پھینک کر ملاوٹ کے ذریعے حاصل کیا ہوا مال ضائع کر دیا۔
جو ان احادیثِ مبارکہ میں غوروفکر کرے گا وہ جان لے گاکہ گذشتہ سوال میں مذکور اکثر صورتیں دھوکے بازی اور ملاوٹ میں سے ہیں جس کا حرام ہونااس حدیث سے ثابت ہو چکا ہے کہ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب غلے میں اپنا دستِ مبارک داخل کیا اور اس ڈھیر کے اندر کی تری دیکھی تو ایسا کرنے والے پر ناراض ہوئے اور اسے ارشاد فرمایا: ’’ تم نے تر حصہ علیحدہ اور خشک علیحدہ کیوں نہ کیااور علیحدہ کیوں نہ بیچا یا تر حصے کو ڈھیر کے اوپر کیوں نہ رکھا یہاں تک کہ لوگ اسے جان لیتے او ر دیکھ کر خریدتے۔ ‘‘
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر وہ آدمی جسے اپنی چیز کے بارے میں عیب معلوم ہو اس پرخریدار کو بیان کرنا لازم ہے اور اسی طرح اگر بیچنے والے کے علاوہ کسی کو عیب معلوم ہو جیسے اس کا پڑوسی یا دوست اور وہ کسی آدمی کو خریدتے دیکھے جو اس عیب کو نہ جانتا ہو تو اس پر بھی لازم ہے کہ اسے بیان کر دے۔
جیساکہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ کسی کے لئے عیب بیان کئے بغیر کوئی چیز بیچنا جائز نہیں اور جو عیب جانتاہو اس کے لئے عیب بیان نہ کرنا جائز نہیں ۔ ‘‘
(المسند لامام احمد بن حنبل، حدیث واثلۃ بن الاسقع، الحدیث: ۱۶۰۱۳،ج۵،ص۴۲۱)
اکثر لوگ خریدار کی رہنمائی نہیں کرتے یا پھر وہ خود بھی کسی عیب کو نہیں جانتے۔
ایک گزرنے والاشخص کسی کو عیب والی چیز خریدتے دیکھتاجو عیب کو نہیں جانتااور وہ جاننے والا خیر خواہی کرنے سے خاموش رہتاہے یہاں تک کہ بیچنے والا اس کو دھوکا دے کر باطل طریقے سے اس کا مال لے لیتاہے، حالانکہ خاموش رہنے والا شخص یہ شعور نہیں رکھتا کہ وہ بھی حرام، کبیرہ گناہ، فسق اور ا س پر مترتب ہونے والی شدید وعید میں اس بیچنے والے کا برابر کا شریک ہے، اور وہ وعید یہ ہے: ’’ ملاوٹ کرنے والا جو خریدنے والے کو شئے کاعیب نہیں بتاتا ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی میں رہتا ہے یا ہمیشہ ملائکہ اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔ ‘‘
{45}…اور یہ حدیثِ پاک بھی اس کی تائید کرتی ہے: ’’ جس نے اسلام میں برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اس کا گناہ ہے اور قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ ہے۔ ‘‘
(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث جریر بن عبد اللہ ،الحدیث: ۱۹۲۲۱،ج۷،ص۶۴،بدون ’’ الی یوم القیامۃ ‘‘ )
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملاوٹ کرنے والے نے برا طریقہ ایجاد کیا اور وہ مبیع (یعنی بیچی جانے والی چیز) کے عیب کو چھپانا ہے، پس اس مبیع میں جو بھی ایسا عمل کرے گا اس کا گناہ ایجاد کرنے والوں کو ہو گا اور عنقریب مَکْر اور خَدِیْعَہ کے باب میں ملاوٹ کرنے والوں کے بارے میں وعید آئے گی کیونکہ ملاوٹ، مکر اور دھوکا کی جگہ پر ہی ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:
وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَہْلِہٖ (پ۲۲، فاطر: ۴۳)
ترجمۂ کنز ا لایمان: اور برا داؤں (فریب ) اپنے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے۔
{46}…نبی ٔ کریم،رء وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں اور مکر اور دھوکا دینے والا جہنم میں ہے۔ ‘‘ (المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۰۲۳۴،ج۱۰،ص۱۳۸)
{47}… ایک اور روایت میں ہے کہ سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ مکروفریب اور خیانت کرنے والاجہنم میں ہے۔ ‘‘ (المستدرک،کتاب الاھوال،باب تحشر ھذہ الامۃ علی ثلاثۃ اصناف،الحدیث: ۸۸۳۱، ج۵، ص۸۳۳)
{48}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ دھوکا دینے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ‘‘ (یعنی ابتداء ً) (المسند لامام احمد بن حنبل، مسند ابی بکر الصدیق، الحدیث: ۲ ۳،ج۱،ص۲۷)
{49}…مَحبوبِ ربُّ العٰلَمِین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک جہنمیوں میں وہ آدمی بھی شامل ہے جو صبح شام تیرے اہل یامال میں تجھ سے دھوکا کرتاہے۔ ‘‘
(صحیح مسلم،کتاب الجنۃ،باب الصفات التی یعرف بھافی الدنیا…الخ،الحدیث: ۷۲۰۷،ص۱۱۷۴)
یہ بحث
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع