دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

اس پر حرام کا لباس ہو۔ ‘‘      (المرجع السابق)

{32}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے 10درہم کا ایک کپڑا خریدا جن میں ایک درہم حرام کا ہے تو جب تک وہ کپڑا اس پر رہے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی نماز قبول نہیں کرے گا۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ  بن عمر بن الخطاب،الحدیث: ۵۷۳۶،ج۲،ص۴۱۶تا۴۱۷)

{33}…سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ جس سے محبت کرتاہے اسے بھی دنیا عطا کرتا ہے اور جس سے محبت نہیں کرتا اسے بھی دیتا ہے لیکن دین صرف اسے دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اور جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے دین عطا کیا پس اس سے محبت کی اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!  کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا پڑوسی اس کے بَوَائِق سے محفوظ نہ ہو جائے۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  یہ بَوَائِق کیا ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اس کا دھوکا اور ظلم۔ ‘‘

 (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ  بن مسعود،الحدیث:  ۳۶۷۲،ج۲،ص۳۳تا۳۴)

{34}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’  قیامت کے دن کو ئی بندہ اس وقت تک قدم نہیں ہٹا سکے گاجب تک کہ اس سے4سوال نہ کر لئے جائیں :   (۱) عمر کے بارے میں :  کس کام میں فناکی  (۲) جوانی کے بارے میں :  کس کام میں صرف کی  (۳) مال کے بارے میں :  کہاں سے کمایااور کہاں خرچ کیا اور  (۴) علم کے بارے میں :  اس پر کتنا عمل کیا۔ ‘‘             (جامع الترمذی،ابواب صفۃ القیامۃ  (والرقائق والورع ، باب فی القیامۃ ،الحدیث:  ۲۴۱۶،ص۱۸۹۴)

{35}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:  ’’ جس نے دنیا میں حرام مال کمایااور غیر حق میں خرچ کیا اسے ذلت کے گھر میں پھینکا جائے گا، پھر کتنے ہی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مال میں خیانت کرنے والے ہیں جن کے لئے قیامت کے دن عذاب ہو گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا (۹۷)   (پ۱۵، الاسراء: ۹۷)

ترجمۂ کنز الایمان :  جب کبھی بجھنے پر آئے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔

 (شعب الایمان، باب فی قبض الید عن الاموال المحرمۃ ، الحدیث:  ۵۵۲۷،ج۴،ص۳۹۶)

{36}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُعظَّم ہے:  ’’ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو لایاجائے گا جن کے پاس تہامہ پہاڑوں کی مثل نیکیاں ہوں گی یہاں تک کہ جب ان کو لایا جائے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان نیکیوں کو اُڑتی ہوئی خاک کی طرح کر دے گا پھر انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ عرض کی گئی:  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  یہ کیسے ہوگا؟ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ وہ نماز پڑھتے ، زکوٰۃ دیتے ، روزے رکھتے اور حج کرتے ہوں گے لیکن جب انہیں کوئی حرام چیز پیش کی جاتی تو لے لیتے تھے پس اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان کے اعمال کو مٹا دے گا۔ ‘‘    (حلیۃ الاولیاء،سالم مولی ابی حذیفۃ،الحدیث: ۵۷۵،ج۱،ص۲۳۳،بتغیرٍ قلیلٍ)

                پس اے مکار، دھوکے باز، ملاوٹ کرنے والے اور ان باطل بیوعات اور فاسد تجارات کے ذریعے لوگوں کا مال کھانے والے جان لے !  تیری کوئی نماز نہیں ، نہ زکوٰۃ، نہ روزہ اور نہ ہی حج جیسا کہ اس صادق و مصدوق نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ  عالیشان ہے جو اپنی مرضی سے نہیں بولتے اوردھوکے باز خاص طورپر اس فرمانِ عبرت نشان میں غور و فکر کرے ۔چنانچہ،

 {37}…آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب قول النبی صلی اللہ  علیہ و سلَّم  (من غشنا فلیس منا) الحدیث:  ۲۸۳،ص۶۹۵)

                اس سے معلوم ہوتاہے کہ دھوکے کا معاملہ عظیم اور اس کا انجام بہت خطرناک ہے کیونکہ اکثر اوقات یہ چیز اسے اسلام سے نکلنے کی طرف لے جاتی ہے کیونکہ رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسی چیز کے بارے میں لَیْسَ مِنَّا فرماتے ہیں جو بہت زیادہ قبیح ہو اور اپنے کرنے والے کو خطرناک معاملے کی طرف لے جائے اور اس سے کفر کا خوف ہو کیونکہ جو اپنے دین کو زوال کی طرف لے جاتاہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان سنتاہے:  ’’ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘  پھر بھی دنیا کی محبت کو دین پر ترجیح دیتے ہوئے اور گمراہوں کے راستے پر رضامند رہتے ہوئے ملاوٹ سے باز نہیں آتا۔

                ملاوٹ کرنے والے تاجروں اور عطر بیچنے والوں کو بھی غور کرنا چاہئے جو کہ اپنی چیزوں میں ایسی ملاوٹ کرتے ہیں جو خریدنے والے پر پوشیدہ ہوتی ہے یہاں تک کہ غیر شعوری طور پر وہ اس میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اگر اسے اس ملاوٹ کا علم ہو تو اس قیمت سے وہ چیز کبھی نہ خریدے جیسا کہ،

{38}…نبی کریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے صحیح حدیثِ پاک مروی ہے:  ’’ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک آدمی کے پاس سے گزرے جس کے سامنے اناج کاڈھیر رکھاہواتھا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف وحی کی کہ اس میں اپنا دستِ اقدس داخل کریں ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایسا کیاتو اس ڈھیرکے اندر کی تری سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مبارک ہاتھ بھیگ گیا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دستِ رحمت باہرنکال کر فرمایا:  ’’ اے صاحبِ طعام!  (یعنی اناج والے) یہ کیا ہے؟اس نے عرض کی:  ’’ اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس پر بارش ہو گئی تھی، تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ تم نے بھیگے ہوئے اناج کو اوپر کیوں نہ رکھا کہ لوگ دیکھ لیتے ،جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘ (المرجع السابق،الحدیث:  ۲۸۳،ص۶۹۵ )

{39}… ایک اور روایت میں ہے:  ’’ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماناج  (کے ڈھیر) کے پاس سے گزرے جس کو اس کے مالک نے خوبصورت ظاہر کر رکھا تھا، لیکن جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا دستِ اقدس اس میں ڈالا تو نیچے والے کو ردی پایاتو اس سے ارشاد فرمایا:  ’’ اِس کوالگ اوراُس کوالگ بیچو!  جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘                         (جامع الترمذی،ابواب البیوع، باب ماجاء فی کراہیۃ الغش فی البیوع ، الحدیث:  ۱۳۱۵،ص۱۷۸۴)

 (سنن ابی داؤد،کتاب الاجارہ، باب فی النھی عن الغش ، الحدیث:  ۳۴۵۲،ص۱۴۸۱)

{40}… ایک اور روایت میں ہے:  ’’ جب آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنا دستِ مبارک اس غلے میں ڈالااور بھیگا ہوا باہر نکلا، اس سے استفسار فرمایا:  ’’  تمہیں ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟ ‘‘  اس نے جواب دیا:  ’’ یا رسول $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن