30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تجارت بھی کرتے تھے،اور اسی طرح ان کے بعدعلماء اور صلحاء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیبھی تجارت کرتے رہے لیکن شرعی قانون اور اس حال کے مطابق جس کی طرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان سے اشارہ کیا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا (۲۹) (پ۵، النساء: ۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔
پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے واضح فرما دیا کہ تجارت اسی صورت میں جائز ہو سکتی ہے جبکہ فریقین کی رضامندی سے ہو اور رضامندی تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جبکہ وہاں نہ تو ملاوٹ ہو اور نہ ہی دھوکا۔
اور یہاں پر ملاوٹ اور دھوکا اس حیثیت سے ہے کہ اس شخص کا اکثر مال لے لیا گیا اور وہ اپنے ساتھ ہونے والے اس باطل حیلے سے بے خبر ہے جو ملاوٹ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ دھوکا دہی پر دلالت کرتا ہے، پس یہ شدید حرام اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناراضگی کا سبب ہے،اور ایسا کرنے والا سابقہ و آئندہ احادیثِ مبارکہ کی وعیدوں کے تحت داخل ہے۔
پس جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا، اپنے دین اور دنیا کی سلامتی، مُرُوَّت، عزت اور اپنی آخرت چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے دین کے لئے کوشش کرے اور اس دھوکے اور ملاوٹ پر مبنی کاروبار میں سے کوئی چیز اختیار نہ کرے اور تحریری طور پر اور سچائی کے ساتھ برتن کا وزن خریدنے والے کو بیان کر دے پھر جب اس نے اس کا وزن بیان کر دیا تو اس کے لئے جائز ہے کہ برتن اوراُس میں موجود شیء کوایک قیمت میں بیچ دے، یہاں تک کہ فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰینے ارشاد فرمایا: ’’ اگر خریدنے والے کو کستوری کے برتن اور اس کے وزن کے بارے میں بتا دیا یعنی کہا کہ یہ برتن دَس 10من وزنی ہے اور یہ کستوری بیس 20من ہے اور میں تمہیں یہ تیس 30من ایک ہزاردرہم کا بیچوں گااور خریدنے والے نے دیکھنے اور اطمئنانِ قلب کے بعد خرید لیا تو یہ بیع جائز ہے اور یہ ملاوٹ،دھوکا اور خیانت کی تمام وجوہ سے خالی ہونے کی وجہ سے مقبول ہو گی کیونکہ برتن اور کستوری کا وزن بیان کرنے کے بعد ایک من کوایک ہزاریاسودرہم کا بیچنے میں کوئی حرج نہیں ۔
بے شک دنیا وآخرت میں ہلاک کرنے والا بڑا عذاب اس کے لئے ہوگا جو برتن میں دھوکا دیتا ہے، پس ظاہراً اسے ہلکا ظاہر کرتاہے جبکہ حقیقت میں وہ بھاری ہوتا ہے، پھر تمام کو ایک ہی قیمت میں بیچتا ہے اور خریدنے والا اس سے بے خبر ہوتا ہے جبکہ بیچنے والا اس سے مکاری کرتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا وزن کم ہے اور اس وقت زیادہ معلوم ہو رہا ہے۔یہ پہلے سوال کا جواب ہے یعنی ایک ہی قیمت میں برتن اور اس میں موجود شیء کو بیچنا۔
اس کے علاوہ ملاوٹ اور دھوکے بازی کی دوسری بہت سی صورتیں ، جو سائل نے بیان کی ہیں ان عجیب اُمور میں سے ہیں جن کی مثال کفار سے بھی پیش نہیں کی جاسکتی چہ جائیکہ کوئی مسلمان اس طرح کرے بلکہ کفار جو تجارت کرتے ہیں اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے لعنت فرمائی ہے حالانکہ اتنی زیادہ ملاوٹ وہ بھی نہیں کرتے۔اس سے میری مراد ملاوٹ کی وہ صورتیں جو تاجر، عطر بیچنے والے، کپڑا بیچنے والے، سونے کا کام کرنے والے، سکے بنانے والے،بنائی کا کا م کرنے والے اورتمام کارخانوں اور صنعت و حرفت والے کرتے ہیں ، یہ تمام کی تمام شدید حرام ہیں اور ایسا کرنے والا فاسق، ملاوٹ اور خیانت کرنے والاہے جو باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھاتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بھی اور اپنے آپ کو بھی دھوکا دیتا ہے کیونکہ اس کا عذاب اسی کو ہو گا اور اس کی کثرت زمانے کے فساد، قیامت کے قرب، مالوں اور معاملات کے فساد، کارخانوں اور کھیتیوں سے بلکہ کاشتکاری کی زمینوں سے بھی برکات کے اُٹھ جانے کی موجب ہے اور اس فرمانِ عبرت نشان میں غور و فکر کرو کہ،
{28}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ حقیقت بنیادہے: ’’ بارش کا نہ ہونا قحط نہیں بلکہ قحط تو یہ ہے کہ بارش تو ہو لیکن اس میں تمہارے لئے برکت نہ ہو۔ ‘‘
(مسند ابی داؤد الطیالسی،الجزء العاشر،ابوصالح عن ابی ہریرۃ، الحدیث: ۲۴۲۸،ص۳۱۸بتغیرٍقلیلٍ)
تجارت اور معاملات میں تاجر اور صنعت و حرفت والے جن برائیوں کاشکار ہیں ان کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر تاریکی مُسلَّط کر دی پس ان کے مال لے لئے گئے، گھر تباہ کر د ئیے گئے بلکہ ان پر کفار کو مُسلَّط کر دیاگیا پس انہوں نے انہیں قید کر کے غلام بنا لیا اور انہیں عذاب کا مزا چکھایا، اس آخری زمانے میں اکثر جگہوں پر مسلمانوں کو کفار نے قید کر کے اور مال و اسباب چھین کر ان پر غلبہ پا لیا ہے کیونکہ تاجروں نے طرح طرح کی ملاوٹوں کو رائج کیا اور ظلم، دھوکا اور ناجائزطریقوں میں سے جس طریقے سے بھی لوگوں کا مال لینے پر قادر ہوئے لینے لگے، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ، جو ان کے اعمال سے آگاہ ہے، کی بھی پرواہ نہ کی اور نہ ہی اس کے بڑے عذاب اوراس کی ناراضگی سے ڈرے حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں دیکھ رہا ہے:
{۱}
یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ (۱۹) (پ۲۴، المؤمن: ۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔
{۲}
فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى (۷) (پ۱۶، طہ: ۷)
ترجمۂ کنز الایمان : وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے۔
{۳}
اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ- (پ۲۹، الملک: ۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان : کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا۔
اگر ملاوٹ کرنے والا، باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھانے والا خائن اس سزا میں غور و فکر کر لے جو قرآن و حدیث میں اس گناہ کی آئی ہے تو غالباً اس سے یا اس میں سے بعض سے ضرور رُک جائے۔
{29}…اس کی سزا کے طور پر یہی فرمان کافی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ بے شک بندہ اپنے پیٹ میں حرام کا ایک لقمہ ڈالتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا 40دن کا عمل قبول نہیں کرتا اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلے بڑھے آگ اس کے لئے زیادہ بہترہے۔ ‘‘
(مجمع البحرین،کتاب الزھد، باب فی من اطاب مطعمہ، الحدیث: ۵۰۱۸،ج۴،ص۳۶۸)
{30}…سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ بے شک جو امانتدار نہیں اس کا کوئی دین نہیں ۔ ‘‘ (البحرالزخاربمسند البزار، مسند علی بن ابی طالب ، الحدیث: ۸۱۹،ج۳،ص۶۱)
{31}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بات سے بلند وبرتر ہے کہ وہ بندے کاکوئی عمل یا نماز قبول کرے جبکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع