دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

سزا دیں ؟

 (۵) … کیا یہ اس صورت کے علاوہ صورتوں میں بھی ممکن ہے؟ مثلاً

٭…بعض عطر بیچنے والے اور تاجر بعض چیزوں کو پانی کی طرف لے جاتے ہیں پس اس سے پانی لے لیتے ہیں جو اس کے وزن

 میں ایک تہائی تک کا اضافہ کر دیتا ہے مثلاً زعفران۔  (یعنی پانی ملاکر وزن میں اضافہ کردیتے ہیں )

٭…ان میں سے بعض چیزوں کو اس طرح تیار کرتے ہیں کہ وہ مکھن کی طرح ہو جاتی ہیں پس وہ اسے مکھن ظاہر کر کے بیچتے ہیں ۔

٭…بعض کپڑا بیچنے والے کپڑوں کو تھوڑ اسا پیوند لگا دیتے ہیں پھر اسے بیان کئے بغیر بیچ دیتے ہیں ، اور یہی طریقہ چٹائیوں وغیرہ میں بھی اپنایا جاتا ہے۔ (مگر آج کل گانٹھوں والے کپڑے عیب بیان کئے بغیر بیچے جاتے ہیں )

٭…اسی طرح بعض خام کپڑے کو اس طرح لپیٹتے ہیں کہ اس کی تمام قوت چلی جاتی ہے پھراسے نچوڑتے ہیں اور اس میں ایک خاص قسم کی خوشبو رکھ دیتے ہیں جس سے وہم ہوتا ہے کہ یہ نیا ہے اور اسے نیا ظاہر کر کے بیچ دیتے ہیں ۔

٭…بعض اپنی دکان میں بہت زیادہ اندھیرا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ گہرا رنگ ہلکا اور بھدّرنگ حسین نظرآئے۔ (مگر آج کل بعض دکاندار بہت تیز روشنی والے بلب لگاکر ایساکرتے ہیں )

٭…بعض اپنے ہتھیار موم کے ساتھ صیقل کر لیتے ہیں یہاں تک کہ موم کی کثرت اور اس کی عمدہ چمک کی وجہ سے وہ مکمل طور پر نظر نہیں آتے۔

٭…بعض سنار سونا چاندی کے ساتھ کھوٹ ملا دیتے ہیں پھر تمام کو سونا یا چاندی ظاہر کر کے بیچتے ہیں ۔ (ملاوٹ کی یہ صورت فی زمانہ معروف ہے)

٭…بعض سکے یا زیورات کی تیاری کے لئے سونااور چاندی کا معلوم وزن لیتے ہیں لیکن اس وزن میں سے سونا چاندی کم کر کے اس کی جگہ کھوٹ ملا دیتے ہیں ۔ (جیسا کہ آج کل کاغذی جعلی نوٹ بنائے جاتے ہیں )

٭…گرم مصالحوں اوردانوں والے اکثرتاجراپنے مال میں سے اعلیٰ کواوپر اورادنیٰ کو نیچے رکھ دیتے ہیں ، گھٹیا کو اعلیٰ سے ملا دیتے ہیں یہاں تک کہ خریدنے والے کو معلوم نہیں ہو سکتااور وہ گھٹیا لے لیتا ہے اگر وہ جان لے تونہ خریدے۔

                اور اس کے علاوہ بھی ملاوٹ کی بہت سی صورتیں ہیں یہاں ہم نے جو چند صورتیں ذکر کی ہیں تو محض اس لئے کہ ان کا آپ حکم جان لیں اور بقیہ ان تمام صورتوں کو انہی پر قیاس کر لیں جن کا ہم نے تذکرہ نہیں کیا۔

                اگر آپ کارخانوں ، پیشوں ، تجارتوں ، خرید وفروخت، عطر، سونا اور درہم ودینا ربنانے والوں میں غور کریں گے تو ان کے ہاں دھوکا، ملاوٹ، خیانت، مکر اورجھوٹے حیلوں سے حیلہ بازی کرنے والوں کو پائیں گے جس سے طبیعت نفرت کرتی ہے۔کیو نکہ ہم انہیں اپنے معاملات میں ایسا پاتے ہیں جیسا کہ دو آدمی ہیں جن کے پاس ایک دوسرے کا مقابلہ کر نے کے لئے دو تلواریں ہیں جب بھی کوئی ایک دوسرے پر قادر ہو گا تو دوسرے کو قتل کر دے گا، اسی طرح تاجر اور خرید و فروخت کرنے والوں میں سے ہر ایک کی نیت ہوتی ہے کہ اگر وہ اپنے ساتھی پر کامیاب ہو جائے توجائزوناجائزہرطریقے سے اس کا تمام مال لے لے اور اسے ہلاک کر دے اور فقیر بنا دے، لہذا جب ان میں سے کسی کو یہ بات حاصل ہو جاتی ہے تو بہت زیادہ خوش ہو تا ہے اور اپنے خبیث نفس کو تسلی دیتاہے کہ وہ غالب آ گیا اور دھوکا دینے میں کامیاب ہو گیا ہے یہاں تک کہ اس کا تمام مال بھی لے لیا ہے اور اس کتے کی طرح کامیاب ہو گیا ہے جو مردار پر جھپٹتا ہے اور اس کوکھا جاتاہے یہاں تک کہ اس کی کو ئی چیز نہیں چھوڑتا۔

                لہذا مسلمانوں پر مہربانی کرتے ہوئے ان کے احکا م بیان کر دیں یہاں تک کہ لوگ جان لیں تا کہ مخالفت کرنے والے پر عذاب ثابت ہو جائے اور وہ حجت سے ہلاک ہو جائے اورجس کو آگاہ ہونے کے بعد عمل کی توفیق ملے وہ حجت سے زندہ ہو جائے اور علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس پر تفصیلی کلام کیا ہے لیکن لوگ ان تمام کے اَحکام کی وضاحت کے محتاج ہیں اور ان میں سے بعض اس کی حرمت کو نہ جانتے ہوئے ایسا کرتے ہیں ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ آپ کو اپنے احسان اور کرم سے جنت عطا فرمائے (آمین) ۔

جواب: برتن کو اس میں موجود چیز کے ساتھ بیچنے کے مسئلے میں شوافع رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا اتفاق ہے کہ جب اکیلے برتن کا وزن معلوم نہ ہو تو اس میں ڈالی ہوئی چیز کے ساتھ اسے بیچا گیا تو وہ بیع باطل ہے کیونکہ اس صورت میں دھوکا ہے اور سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ہے، اسی طرح اگر جو چیز برتن میں ڈالی جا رہی ہے اس کا وزن معلوم نہ ہو یا برتن کی قیمت طے نہ ہو یعنی عقد میں ایسی چیزکے مقابلے میں مال خرچ کرنا شرط ہو جو مال نہیں ہے (تویہ بیع بھی باطل ہو گی) ۔ جب یہ ثابت ہو گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ علمائے شوافع رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ اس بیع کے باطل ہونے پر متفق ہیں ۔ کیونکہ مسئلہ کی صورت جس طرح کہ سائل نے ذکر کی ،یہ ہے کہ فاسق تاجربہت سے پیوند لگے ہوئے تھیلے میں مرچ ڈالتے ہیں جس سے اس کا وزن بڑھ جاتا ہے،پھر اس مرچ وغیرہ کو برتن سمیت بیچتے ہیں مثال کے طور پر ہر من 10درہم کا، پھر مرچ کا برتن سمیت وزن کرتے ہیں جب یہ تمام 100من ہو جاتا ہے تو 1000درہم کا بیچ دیتے ہیں اور اس میں باطل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے برتن کو بھی بیچنے والی چیز میں شمار کیا حالانکہ اس کا وزن مجہول ہے بلکہ اس میں ملاوٹ اور ان کی طرف سے دھوکا ہے کیونکہ وہ اس برتن کے اندر مرچ کے لئے خانے بناتے ہیں جو اس کے وزن میں اضافہ کرتے ہیں اور ظاہرا ًاس کو ایسا رکھتے ہیں کہ خریدنے والے کو کم وزنی ہونے کا وہم ہوتاہے اس حیثیت سے کہ اگر آپ اسے ظاہری طور پر دیکھیں گے تو یہ 4من سے زیادہ نہیں ہو گا اور جب معلوم ہونے کے بعد اسے اندر سے دیکھیں گے تو 20من ہو گا، پس اس عظیم دھوکے کی وجہ سے ان تمام میں بیع باطل ہے یہ دھوکا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس کام میں خیانت پر مشتمل ہے جس کا انہوں نے حکم دیا اور جس سے منع فرمایا۔

                اور ایساکام وہ شخص کیسے کر سکتا ہے جو یہ جانتا ہے کہ اسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگا ہ میں پیش ہونا ہے اور فانی زندگی میں جو جمع کیا اسے وارثوں کے لئے چھوڑ کر جانا ہے اور اس کا بھی علم نہیں کہ وہ اس سے نفع بھی اٹھائیں گے یا نہیں بلکہ اکثر تاجروں کی اولاد اسے نافرمانیوں اور بری عادتوں میں ضائع کر دیتی ہے جو کسی پر مخفی نہیں توکیسے کوئی اس باطل جھوٹے حیلے سے اپنے بھائی کو دھوکا دے کر اس سے اس کے مال کا 80گناوصول کر لیتا ہے۔

                یہ سوال میں مذکور اس بات کی تائید کرتاہے کہ اس زمانے میں خرید و فروخت کرنے والے ایک دوسرے کے ساتھ دو مدِمقابل لڑنے والوں کی طرح ہیں جن کے ہاتھ میں تلواریں ہوں کہ ان دونوں میں سے جو بھی اپنے ساتھی پر قادر ہوتا ہے اسے قتل کر دیتا ہے حالانکہ یہ مسلمانوں کی شان نہیں اور نہ ہی مؤمنین کا قانون ہے کیونکہ،

{26}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ مؤمن مؤمن کے لئے دیوار کی طرح ہے جس کا بعض بعض کو پختہ کرتا ہے۔ ‘‘    (صحیح البخاری، کتاب الصلوٰۃ ، باب تشبیک الاصابع فی المسجدوغیرہ ، الحدیث: ۴۸۱،ص۴۰)

{27}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ مؤمن مؤمن کا بھائی ہے اس پر ظلم نہیں کرتا، نہ اسے گالی دیتا ہے اور نہ ہی اس سے بغاوت کرتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ،باب تحریم الظلم،الحدیث: ۶۵۷۸،ص۱۱۲۹،بتغیرقلیل)

                ہم تجارت یا خرید و فروخت کو حرام قرار نہیں دیتے تحقیق ہمارے پیارے آقا، دو عالم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  باہم خرید و فروخت کرتے اور کپڑے وغیرہ کی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن