30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کراہیۃ…الخ،الحدیث: ۱۵ ۱۳، ص۱۷۸۴)
{4}…سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماناج بیچنے والے ایک شخص کے پاس سے گزرے تو اس سے دریافت فرمایا: ’’ کیسے بیچ رہے ہو؟ ‘‘ اس نے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوبتایاپس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف وحی فرمائی کہ اپنا دستِ مبارک اس میں داخل کیجئے ،جب آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایسا کیا تواسے ترپایا چنانچہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘
( سنن ابی داؤد ،کتاب البیوع ،باب فی النہی عن الغش، الحدیث: ۳۴۵۲ ، ص۱۴۸۱ )
{5}…شاہِ ابرار، ہم غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمایک اناج کے پاس سے گزرے جس کے مالک نے اسے اچھا ظاہر کیا ہوا تھا،پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپناہاتھ اس میں داخل کیا تو وہ گھٹیا ثابت ہوا، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ یہ علیحدہ بیچ! اور یہ علیحدہ بیچ! جس نے ہمیں دھوکادیاوہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘
( المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللہ بن عمر بن الخطاب ، الحدیث: ۵۱۱۳ ، ج۲ ،ص ۳۰۹)
{6}…رسولِ انور، صاحبِ کوثر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبازار تشریف لے گئے وہاں غلّے کا ایک ڈھیر دیکھا تو اس میں اپنادستِ اقدس داخل کیا اور بارش سے بھیگے ہوئے اناج کو باہر نکال کر ارشاد فرمایا: ’’ تمہیں کس نے اس (ملاوٹ) پر اُکسایا؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ اس ذات کی قسم جس نے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! یہ ایک ہی کھاناہے۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ تو نے تراورخشک اناج کو علیحدہ علیحدہ کیوں نہ رکھا تا کہ خریدنے والے جس کو جانتے خرید لیتے، جس نے ہمیں دھوکادیا وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘ ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۳۷۷۳ ،ج۳، ص ۲۹)
{7}…نبی ٔکریم،رء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک شخص کے پاس سے گزرے جواناج بیچ رہاتھا،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے استفسار فرمایا: ’’ اے غلّے کے مالک! کیا نیچے والااناج اُوپروالے اناج جیسا ہی ہے؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہاں ایسا ہی ہے۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے مسلمانوں کو دھوکادیاوہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘ ( المعجم الکبیر ، الحدیث: ۹۲۱، ج۱۸ ،ص ۳۵۹)
{8}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک مرتبہ ایک کچی کھائی کے کنارے سے گزرے تو دیکھاکہ ایک انسان دودھ بیچ رہاہے، حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس میں پانی ملا ہوا ہے، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے فرمایا: ’’ اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب قیامت کے دن تجھے کہا جائے گا کہ دودھ سے پانی علیحدہ کر۔ ‘‘ ( شعب الایمان للبیہقی ، باب فی الامانات ووجوب ادائھاالی اہلھا،الحدیث: ۵۳۱۰ ،ج ۴ ،ص ۳ ۳ ۳ )
{9}…نبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے: ’’ بیچنے کے لئے جودودھ ہواس میں پانی نہ ملاؤ۔ ‘‘
(المرجع السابق، الحدیث: ۵۳۰۸،ج۴،ص۳۳۳)
{10}…رسولِ اَکرم،شفیعِ معظَّم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ تم سے پہلے (یعنی سابقہ امتوں میں جبکہ شراب حرام نہ تھی) ایک شخص تھا وہ ایک گاؤں میں شراب بیچنے کی خاطر لے گیا، اس نے اس میں پانی ملاکر اسے دُگناکردیاپھر اس نے ایک بندر خرید لیااور سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہو گیا، جب سمندر میں پہنچا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بندر کودیناروں کی تھیلی کے بارے میں الہام فرمایا، لہٰذا اس نے وہ تھیلی لی اور بادبان کے ڈنڈے پر چڑھ گیا، اس نے تھیلی کھولی جبکہ اس کا مالک بھی اسے دیکھ رہا تھا،وہ ایک دینارسمندر میں اور ایک کشتی میں پھینکنے لگایہاں تک کہ تمام دیناروں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ‘‘ (المرجع السابق)
{11}…حضرتِ سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،سولِ اکرم، شفیعِ معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ تم سے پہلے ایک شخص تھا اس نے شراب لے کر اس میں آدھا پانی ملایا اور پھر اسے بیچ دیا، جب رقم اکٹھی ہو گئی تو ایک لومڑی آئی اور اس نے نقدی کی وہ تھیلی لے لی اور بادبان کے ڈنڈے پر چڑھ گئی اوروہ ایک دینارکشتی میں پھینکتی اورایک سمندرمیں یہاں تک کہ بٹوہ خالی ہو گیا۔ ‘‘ (المرجع السابق ، الحدیث: ۵۳۰۹ ،ج۴، ص۳۳۳)
کئی واقعات کے احتمال کی وجہ سے اس میں اور اس سے پہلے والی روایت میں کوئی منافات نہیں ۔
رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘
( صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب قول النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممن غشنا فلیس منا، الحدیث: ۲۸۳ ، ص ۶۹۵)
{12}…حضرت سیدنا ابو سباع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنا واثلہ بن اسقع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی، جب میں اسے لے کر نکلاتوحضرتِ سیدناواثلہ مجھے ملے جبکہ وہ اپناتہہ بندگھسیٹ رہے تھے اور دریافت فرمایا: ’’ آپ اسے خریدنا چاہتے ہیں ؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ تو انہوں نے کہا: ’’ کیا آپ کو اس کے (عیب کے) بارے میں وضاحت کر دی گئی ہے؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اس میں کیا عیب ہو سکتا ہے، بے شک یہ ظاہراًموٹی تازی صحت مند ہے۔ ‘‘ آپ نے دریافت فرمایا: ’’ آپ کا اس سے سفر کا ارادہ ہے یا گوشت کھانے کا؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ میرا تو حج کا ارادہ ہے۔ ‘‘ آپ نے کہا: ’’ آؤ واپس لوٹانے چلیں ۔ ‘‘ تواُونٹنی (بیچنے) والے نے کہا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کی اصلاح فرمائے،آپ کیاچاہتے ہیں ؟کیاآپ بیع توڑنا چاہتے ہیں ؟ ‘‘ توحضرتِ سیدناواثلہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک میں نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ کسی کے لئے جائز نہیں کہ کسی چیز کو عیب بیان کئے بغیر بیچے اور جس کو عیب معلوم ہو اس کے لئے عیب بیان نہ کرنابھی جائز نہیں ۔ ‘‘
( شعب الایمان ،باب فی الامانات ووجوب ادائھاالی اھلھا،الحدیث: ۵۲۹۵ ، ج۴،ص۳۳۰)
{13}…ابن ماجہ شریف میں یہی واقعہ قدرے اختصار کے ساتھ اس فرق کے ساتھ ہے کہ حضرت سیدناواثلہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ میں نے اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِالْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’ جس نے عیب والی چیز عیب بیان کئے بغیر بیچی وہ ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی میں رہتا ہے یا ہمیشہ فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ ‘‘
( سنن ابن ماجۃ، ابواب التجارات، باب من باع عیبا فلیبینہ ، الحدیث: ۲۲۴۷ ، ص ۲۶۱۱ )
{14}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی کو عیب والی چیز عیب بیان کئے بغیر بیچنا جائز نہیں ۔ ‘‘ ( المرجع السابق،الحدیث: ۲۲۴۶ ، ص ۲۶۱۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع