30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{30}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ جس نے ظالم شخص کی باطل کام میں اعانت کی تا کہ حق کو مٹائے تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذمہ سے بری ہو گیا اور جس نے سود کا ایک درہم کھایاتویہ 33بار زنا کرنے کی طرح ہے اورجس کاگوشت حرام سے پلابڑھا آگ اس کی زیادہ حق دار ہے۔ ‘‘
(المعجم الاوسط ، الحدیث: ۲۹۴۴ ، ج۲ ، ص ۱۸۰)
{31}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ بے شک سود کے 70سے زائد دروازے ہیں ان میں سب سے ہلکا اس طرح ہے جیسے آدمی حالتِ اسلام میں اپنی ماں سے زناکرے اور سود کا ایک درہم 35بار زنا کرنے سے زیادہ بُرا ہے۔ ‘‘ ( الترغیب والترہیب ،کتاب البیوع وغیرھا ، باب الترھیب من الربا ،الحدیث: ۲۸۸۴ ، ج۲ ، ص۴۰۶)
{32}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ بے شک سود کا گناہ 72درجے ہے، ان میں سب سے ہلکا اس طرح ہے جیسے آدمی اپنی ماں سے زناکرے اور سب سے بڑھ کر زیادتی کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔ ‘‘
( مجمع الزوائد، کتاب البیوع ، باب ماجاء فی الربا ، الحدیث: ۶۵۷۵،ج۴ ، ص ۲۱۱ )
{33}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ بے شک سود 70 گناہوں کامجموعہ ہے ،ان میں سب سے ہلکایہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے۔ ‘‘
( سنن ابن ماجۃ ،ابواب التجارات ، باب التغلیظ فی الربا ،الحدیث: ۲۲۷۴ ، ص۲۶۱۳)
{34}…حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے : ’’ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے پکنے سے پہلے کھجوریں خریدنے سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ’’ جب کسی گاؤں میں زنا اور سود عام ہوگئے تو ان لوگوں نے اپنی جانوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب کا مستحق کر دیا۔ ‘‘
( المستدرک،کتاب البیوع ، باب اذا ظہر الزنا والربافی قریۃ …الخ ، الحدیث: ۲۳۰۸ ، ج۲ ، ص ۳۳۹)
{35}…حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق وامین عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ جب بھی کسی قوم میں زنا اور سود ظاہر ہوئے تو ان لوگوں نے اپنی جانوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب کا حق دار ٹھہرا لیا۔ ‘‘ ( مسندابی یعلیٰ الموصلی ، مسد عبداللہ بن مسعود ،الحدیث: ۴۹۶۰ ، ج۴ ، ص ۳۱۴)
{36}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ جس قوم میں بھی سود ظاہر ہوا ان کو قحط سالی نے آ لیا اور جس قوم میں بھی رشوت ظاہر ہوئی وہ دشمن سے مرعوب ہو گئے۔ ‘‘
( المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث عمروبن العاص، الحدیث: ۱۷۸۳۹، ج۶، ص ۲۴۵)
{37}…حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ میں نے معراج کی رات دیکھا کہ جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میں نے اپنے اوپر کڑک، چمک اور گرج دیکھی، پھر میں ایک ایسی قوم کے پاس آیاجن کے پیٹ گھروں کی طرح تھے جن میں سانپ تھے جوپیٹوں کے باہر سے نظر آرہے تھے، میں نے جبرئیل (عَلَیْہِ السَّلَام) سے دریافت فرمایا: ’’ یہ کون ہیں ؟ ‘‘ تو انہوں نے بتایا: ’’ یہ سود کھانے والے ہیں ۔ ‘‘ ( المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند ابی ھریرۃ، الحدیث: ۸۶۴۸، ج۳ ، ص ۲۶۹، ’’ قواصف ‘‘ بدلہ ’’ صواعق ‘‘ )
{38}…حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ جب مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا تو میں نے آسمانِ دنیا کی طرف دیکھا، اچانک مجھے ایسے لوگ دکھائی دیئے جن کے پیٹ بڑے بڑے گھروں کی طرح تھے اور ان کی توندیں لٹکی ہوئی تھیں ، وہ ان فرعونیوں کی گزرگاہ پر پڑے ہوئے تھے جو صبح و شام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : ’’ اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ ! قیامت کبھی قائم نہ کرنا۔ ‘‘ میں نے جبرئیل (عَلَیْہِ السَّلَام) سے پوچھا: ’’ یہ کون ہیں ؟ ‘‘ تو انہوں نے بتایا: ’’ یہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اُمت میں سے سود کھانے والے ہیں ، یہ کھڑے نہیں ہو سکتے مگر جیسے وہ کھڑا ہوتا ہے جسے آسیب نے چھو کرپاگل بنا دیا ہو۔ ‘‘
(الترغیب والترھیب، کتاب البیوع ، باب الترہیب من الربا…الخ ،الحدیث: ۲۸۹۱ ، ج۲ ،ص ۴۰۷)
{39}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ قیامت کے قریب زنا، سود اور شراب عام ہو جائیں گے۔ ‘‘ ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۷۶۹۵، ج۵ ، ص ۳۸۶)
{40}…حضرت سیدنا قاسم بن عبد اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو سکے بنانے والوں کے بازار میں دیکھا ،آپ فرما رہے تھے: ’’ اے سکے بنانے والو! تمہیں خوشخبری ہو۔ ‘‘ انہوں نے کہا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو جنت کی خوشخبری دے ،اے ابو محمد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ! آپ نے ہمیں کس بات کی خوشخبری دی ہے۔ ‘‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا: سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ سکے بنانے والوں کو جہنم کی بشارت دے دو۔ ‘‘ (مجمع الزوائد،کتاب البیوع ، باب ماجاء فی الربا،الحدیث: ۶۵۸۷، ج۴ ، ص ۲۱۴)
{41}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ ایسے گناہوں سے بچو جن کی بخشش نہیں : (۱) لوٹ مار یعنی جس نے کوئی چیز چوری کی قیامت کے دن اسے لانی پڑے گی اور (۲) سود کھانا یعنی جس نے سود کھایا وہ قیامت کے دن مخبوط الحواس مجنون بن کر اٹھے گا، پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :
اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ- (پ۳، البقرۃ: ۲۷۵)
ترجمۂ کنز الایمان $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع