30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غیرت کانہ ہونا۔ پس انسان پر اس کا کھانا حرام کر دیا گیا تا کہ وہ ایسی بری کیفیت سے متصف نہ ہو جائے اور یہی وجہ ہے کہ جب عیسائیوں اوربالخصوص فرنگیوں نے اس کو کھانے پر ہمیشگی اختیار کی تو وہ بڑے حرص، ممنوعات میں شدید رغبت اور بے غیرتی وبے حیائی کا شکار ہو گئے۔
خنزیر اپنے کسی نر ہم جنس کو اپنی مادہ سے وطی کرتے ہو ئے دیکھتا ہے تو غیرت نہ ہونے کی وجہ سے اسے کچھ نہیں کہتا بخلاف بکری وغیرہ کے کیونکہ یہ جانورتمام صفاتِ ذمیمہ سے خالی ہوتے ہیں ، پس ان کے کھانے سے انسان کو اپنے احوال سے ہٹ کرکوئی کیفیت حاصل نہیں ہوتی اورآیتِ مبارکہ میں اس لئے اس کے گوشت کا ذکر خاص طور پر کیا گیاحالانکہ خنزیرتو سر تا پا حرام ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ کھانے میں اصل مقصودگوشت ہوتاہے۔
امام قرطبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں : ’’ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ بالوں کے علاوہ سارا خنزیر حرام ہے، پس اس کے بالوں سے ستالی (جوتا سینے کا آلہ) بنانا جائزہے ([1] ) ۔ ‘‘ اور ہمارا مذہب بھی یہی ہے کہ جائز ہے بخلاف اُس شخص کے جس نے سیدنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے اس کی حرمت کا قول نقل کیا اور پانی کاخنزیر ہمارے نزدیک کھایا جاسکتاہے ([2] ) ۔
(۴) …وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ: (یعنی وہ جانور جو بت کے نام پر ذبح کیا جائے)
اھلال کالغوی معنی آواز بلند کرنا ہے مثلاً جب کوئی تلبیہ کہے تو کہتے ہیں کہ فُلَانٌ اَھَلَّ بِالْحَجِّ اورجب ولادت کے وقت بچہ چیخے تو کہتے ہیں اِسْتَھَلَّ الصَّبِیُّ اور چاند کو ہلال اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اسے دیکھ کر بھی چِلایا جاتا ہے اورکفار ذبح کے وقت کہتے تھے: ’’ بِاِسْمِ اللَّاتِ وَ الْعُزٰی۔ ‘‘ پس ان پر ایسے جانور حرام کر دئیے گئے۔
علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیکے ایک گروہ نے کہاکہ ’’ وَمَا اُھِلُّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ ‘‘ کا معنیٰ ہے ’’ وہ جانور جو معبودانِ باطلہ اور بتوں کے نام پر ذبح کیا جائے۔ ‘‘ اوردوسرے گروہ نے یہ معنی کیاکہ ’’ ذبح کے وقت جس جانور پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام کے علاوہ کسی کانام ذکر کیا جائے۔ ‘‘ سیدنا امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں : ’’ یہ دوسرا قول اَولیٰ (یعنی زیادہ بہتر) ہے کیونکہ یہ آیتِ مبارکہ کے لفظ سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ ‘‘
علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰینے ارشاد فرمایا: ’’ اگر مسلمان نے ایک جانور ذبح کیا اور اس سے غیر اللہ کاقرب حاصل کرنے کا قصد کیا تو وہ مرتد ہو گیا اور اس کا ذبیحہ بھی مرتد کا ذبیحہ کہلائے گا۔ ‘‘
البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کی وجہ سے اہل کتاب کے ذبیحے حلال ہیں ۔ ([3] )
وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ۪- (پ۶،المائدۃ: ۵)
ترجمۂ کنز الایمان : اور کتابیوں کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے۔
اگر انہوں نے حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبیناو عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ کے نام پر کوئی جانور ذبح کیا تو ائمہ اربعہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالیٰ وغیرہ کے نزدیک حلال نہیں اور ایک گروہ نے کہا: ’’ مطلق حلال ہے۔ ‘‘ تو ان کو جواب دیا گیا : ’’ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ ‘‘ خاص ہے، پس
اسے ’’ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ۪- ‘‘ کے عموم پر مقدم کیا جائے گا اورعلامہ ابن عطیہ نے کسی سے نقل کیا ہے کہ اس سے ایک عورت کے بارے میں فتوی پوچھا گیا جس نے اپنے کھلونوں کے لئے اونٹ ذبح کر دیا تھا تو اس نے فتویٰ دیا کہ اس کا کھانا حلال نہیں کیونکہ اس نے بت کے لئے ذبح کیا۔
(۵) …اَلْمُنْخَنِقَةُ: (اس سے مراد وہ جانور ہے جو گلا گھونٹنے سے مر جائے)
اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ انسان یاغیرِانسان کے فعل سے جانورکے سانس کوروک دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے اور زمانہ جاہلیت کے لوگ حیوان کا گلا گھونٹ دیتے تھے، جب وہ مر جاتا تو اسے کھا لیتے۔
(۶) …اَلْمَوْقُوْذَةُ: ( یعنی جسے ڈنڈا مار کر ہلاک کیا جائے)
یہ وَقَذَہٗ ا لنُّعَاس سے ہے یعنی جس پر اونگھ غالب آجائے اور گویا کہ اس کا مادہ سکون اور لٹکنے پر دلالت کرتا ہے، پس موقوذہ وہ جانور ہوتا ہے جس کو اتنا مارا جائے کہ وہ ڈھیلاپڑجائے لٹک جائے اور مر جائے،نیزبندوق کی گولی سے مارا ہوا بھی اس میں شامل ہے اور یہ مردار کے معنی میں ہے اور منخنقہمیں بھی شامل ہے کیونکہ یہ مر جاتا ہے لیکن اس کا خون نہیں بہتا۔
(۷) …اَلْمُتَرَدِّیَةُ: (جو بلندی سے گرے )
مثال کے طور پر پہاڑ یا درخت سے زمین پر یا کنوئیں میں گرا اور مر گیا تو حرام ہے، اگرچہ اسے کوئی تیر لگا کیونکہ پہلی (یعنی زمین پر گرنے کی) صورت میں اس کی زندگی کسی ایسے تیز دھار آلے کے ساتھ زائل نہ ہوئی جو اسے زخمی کر دے جس کے سبب خون بہہ پڑے، جبکہ دوسری (یعنی کنوئیں میں گرنے کی) صورت میں تیز دھار آلے کے ساتھ ایک اور چیز (یعنی پانی میں ڈوبنا) شریک ہو گیا، پس غیر اس کی حرمت میں مؤ ثر ہو گیا (اس لئے حرام ہے) کیونکہ حلال ہونے کی شرط یہ ہے کہ زندگی محض تیز دھا ر آلے کے ساتھ زخمی کرنے سے ختم ہو۔
[1] ۔۔۔۔ اعلیٰحضرت،امام اہلِ سنت،مجدد دین وملت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمنخلاصۃ الفتویٰ کے حوالے سے ’’فتاویٰ رضویہ شریف‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’اس(یعنی خنزیر کے بالوں )کے ساتھ سلائی کرنا ضرورت کے تحت جائزہے۔‘‘ سیدی اَعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکچھ آگے ارشادفرماتے ہیں :’’ضرورت کے زائل ہونے کی صورت میں اس(یعنی خنزیرکے بالوں ) کی حرمت اورنجاست پرسب کااتفاق ہے جیساکہ علامہ مقدسی (کے کلام)سے اس بات کافائدہ حاصل ہوا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ،نجاستوں کابیان،ج۴،ص۴۲۶۔۳۰ ۴)
[2] ۔۔۔۔ حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃ اللہ المنان تفسیرِخازن کے حوالے سے تحریرفرماتے ہیں :’’دریائی کتا،دریائی سور،دریائی انسان حرام ہے۔‘‘
(تفسیرِنعیمی،ج۷،ص۷۸)
[3] ۔۔۔۔ اعلیٰحضرت،امام اہلِ سنت،مجدد دین وملت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ’’فتاویٰ رضویہ شریف‘‘ میں کتابیوں سے نکاح اوران کے ذبیحہ کے جوازاورعدمِ جوازکے قائل علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیکے اقوال ذکر کرنے کے بعدارشاد فرماتے ہیں :’’فتح القدیرمیں ہے کتابیات سے نکاح جائزہے،اوراولیٰ یہ ہے کہ نہ کیاجائے اورنہ ہی ان کاذبیحہ بغیرضرورت کھایا جائے …الخ
اوراگراُنہیں علماء کامذہب حق ہواوریہ لوگ بوجہ اپنے اعتقادوں کے عنداللہ مشرک ٹھہرے توپھرزنائے محض ہوگااورذبیحہ حرام مطلق والعیاذباللہ تعالیٰ ، توعاقل کاکام نہیں کہ ایسافعل اختیارکرے جس کی ایک جانب نامحمودہواوردوسری جانب حرام قطعی،فقیرغَفَرَاللّٰہُ لَہٗ ایساہی گمان کرتاتھایہاں تک کہ بتوفیق الٰہی مجمع الانہر میں اسی مضمون کی تصریح دیکھی،جہاں اُنہوں نے فرمایاکہ’’ اس بناء پرہمارے ملک کے حُکَّام پرلازم ہے کہ وہ لوگوں کونصاریٰ کے ذبیحہ سے منع کریں کیونکہ ہمارے زمانہ کے نصاریٰ عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے ابن اللہ ہونے کی تصریح کرتے ہیں ،جبکہ ضرورت بھی متحقق نہیں ہے تواحتیاط واجب ہے کیونکہ ان کے ذبیحہ میں علماء کااختلاف ہے جیساکہ ہم نے بیان کیاہے توحرمت والی جانب اپنانابہترہے جبکہ ضرورت نہیں ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ،ج۱۴،ص۱۲۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع