دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

جبکہ ائمہ اربعہرَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کے بارے میں کلام اس لئے نہیں کیا کہ یہ ان کے زمانے میں نہ تھی بلکہ چھٹی صدی ہجری کے اواخر اور ساتویں صدی کے اوائل میں تاتاریوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد ظاہر ہوئی۔

                علامہ ماوردیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے ایک قول ذکر کیا ہے :  ’’ ایسی بوٹی جس سے بہت زیادہ نشہ طاری ہوجائے اس کے استعمال پر سزا واجب ہو گی۔ ‘‘

                میں نے جوزالطیب  (یعنی جائفل)  میں جو حکم بیان کیا ہے یہ وہی فتویٰ ہے جو میں نے بہت عرصہ پہلے حرمین شریفین اور اہلِ مصر کے نزاع کے وقت دیا تھا اور کافی تلاش کے بعد میں اس کا وہ جزئیہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا جسے یہ لوگ نہ پا سکے،

اسی لئے جب متاخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی ایک جماعت سے جوزالطیب  (یعنی جائفل ) کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کوئی شرعی دلیل پیش کئے بغیر اپنی مختلف آراء کا اظہار کیا اور پھر جب وہی سوال میرے پاس بھیجا گیا تو میں نے صریح جزئیہ اور صحیح دلیل کے ساتھ اپنے مؤقف کے مخالفین کا رد کرتے ہوئے جواب دیا اگرچہ وہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیبلند مرتبے والے تھے۔

سوال: اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰییا ان کے مقلدین میں سے کسی نے جوزالطیب کھانے کی حرمت کا قول کیا ہے؟ کیا آج کل کے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیمیں سے کسی نے اس کی حرمت کا فتوی دیا ہے؟ اگرچہ اس نے ان کے جزئیے پر اطلاع نہ پائی ہو، اگر آپ کا جواب اثبات میں ہے تو کیا ان کے فتویٰ پر عمل کرنا واجب ہے؟

جواب:  امام مجتہد، شیخ الاسلام ابن دقیق العید رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ ’’ جوزالطیب نشہ آور ہے۔ ‘‘  متاخرین شوافع اور مالکی علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ان کا یہ قول نقل کر کے اس پر اعتماد کیا ہے اور آپ کے لئے متاخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا اعتماد ہی کافی ہے، بلکہ ابن عمادرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس میں مبالغہ کیا اور بھنگ کوجوزالطیب کا مقیس علیہ (یعنی جس پر قیاس کیا جائے)  قرار دیا اوراس کی تفصیل یہ ہے کہ حشیش کے خشک اورترپتوں کے نشہ آورہونے کے بارے میں علامہ قرافی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے ہم عصر کسی فقیہ سے نقل کیاکہ ’’ ترپتوں میں نشہ نہیں ہوتاجبکہ خشک پتے نشہ آور ہوتے ہیں ۔ ‘‘ ابن عمادرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے یہ قول بیان کرنے کے بعدارشادفرمایا:  ’’ صحیح یہ ہے کہ ان کے خشک یا تر ہونے میں کوئی فرق نہیں کیونکہ یہ جوزالطیب  (جائفل) ، زعفران، عنبر، افیون اور بھنگ سے ملی ہوئی ہے اور یہ اشیاء نشہ آور اور اعضاء کو سن کرنے والی ہیں ، اسے علامہ ابن قسطلانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی کتاب ’’ تکریم المعیشۃ ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔

                ان کے صحیح قول کی تعبیرکرنے سے اور بھنگ کو جس کی حرمت پر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا اجماع ہے، جائفل کا مقیس علیہ ٹھہرانے پر غور کرنے سے آپ کو معلوم ہو گا کہ بھنگ کے نشہ آور اور سکون آور ہونے کی وجہ سے جوزالطیب کی حرمت میں کوئی فرق نہیں اور علماء حنابلہ رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کے نشہ آورہونے پر علماء مالکیہ و شافعیہ رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیسے اتفاق کیا ہے اوران کے متاخرین علماء میں سے  (بظاہرحنبلی کہلانے والے)  ابن تیمیہ نے اس کی حرمت کا فتوی دیا اور دیگر نے اسے حرام قرار دینے میں اس کی پیروی کی اور بعض علماء احناف رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکا بھی یہی مؤقف ہے جیسا کہ فتاوی مرغینانی میں ہے کہ ’’ نشہ آور اشیاء میں سے بھنگ اور گھوڑیوں کادودھ حرام ہے، مگر اسے پینے والے پرسزا جاری نہ ہو گی۔ ‘‘  یہ فقیہ ابو حفصرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا قول ہے اور شمس الائمہ امام سرخسی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے بھی اسی پر نص فرمائی ہے۔

                امام ابن دقیق العید رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاوردیگر کے کلام سے آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ جوزالطیب (یعنی جائفل ) بھنگ کی طرح ہوتا ہے، لہذا جب حنفی علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیبھنگ کے نشہ آور ہونے کے قائل ہیں تو لازمی طور پرجوزالطیب کے نشہ آور ہونے کے بھی قائل ہوئے، لہذا اس وضاحت سے ثابت ہوا کہ جائفل شافعی، مالکی اور حنبلی علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک نص کی وجہ سے حرام ہے جبکہ حنفی علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک اقتضاء ُالنص کی بناء پر حرام ہے  (مفتی بہ قول صفحہ ۶۸۵پرحاشیہ۲؎ میں دیکھیں )  ، کیونکہ یہ یا تونشہ آور ہے یا اعضاء سن کرنے والا ہے اور بھنگ میں اصل جوزالطیب پر قیاس کرنا ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں ۔

                شیخ ابو اسحاقرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی کتاب التذکرۃ میں ،سیدنا امام نوویرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنیشرح المہذب میں اور امام ابن دقیق العیدرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے جو یہ فرمایاکہ ’’ یہ نشہ آور ہے۔ ‘‘  اس کے بارے میں علامہ زرکشیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ اس میں ہمارے نزدیک کسی کا اختلاف معروف نہیں ، بعض اوقات علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی بیان کردہ تعریف میں مدہوش انسان بھی داخل ہوجاتا ہے اور اس سے مراد وہ انسان ہے کہ جس کے منظوم کلام میں خلل آ جائے، پوشیدہ راز ظاہر ہو جائے، جو زمین و آسمان میں امتیاز نہ کر سکے اور نہ ہی طول و عرض میں فرق کر سکے۔ ‘‘  پھر آپرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے علامہ قرافیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے سے یہ بات نقل کی کہ انہوں نے اس معاملہ میں اختلاف کیا ہے اور اس کے نشہ آور ہونے کا انکار کیااور اس کا مفسد ہونا ثابت کیا ہے۔ پھر انہوں نے ان کا رد کیا اور ان کے مؤقف کو خطا پر مبنی ثابت کرنے میں طویل کلام کیا ہے۔

                اس کے نشہ آور ہونے کی تصریح نباتات کے ماہر اَطباء نے بھی کی ہے، لہذا اس معاملہ میں انہیں کی طرف رجوع کیا جانا مناسب بھی ہے، اسی طرح ابن تیمیہ اور اس کے ہم مذہب متاخرین نے اسی قول کی پیروی کی ہے جبکہ اس معاملہ میں حق یہ ہے کہ دونوں باتیں یعنی اس کا نشہ آور ہونا اور مفسدِ عقل ہونا درست نہیں ، کیونکہ جب کسی چیز کے نشہ آور ہونے کا کہا جاتا ہے تو اس سے مطلق عقل کو ڈھانپنا مراد ہوتا ہے جو کہ ایک عام لفظ ہے، نیز جب یہ لفظ بولا جائے اور اس سے نشہ وبے خودی کے ساتھ عقل کو ڈھانپنا مراد ہوتو اس صورت میں یہ خاص ہوتا ہے، اوریہاں پر نشہ آور ہونے سے یہی مراد ہے، پہلی صورت میں نشہ اور سن کرنے والی چیز میں عموم وخصوص مطلق کی نسبت ہے کیونکہ ہر سُن کرنے والی شئے نشہ آور ہوتی ہے جبکہ ہر نشہ آور شئے سُن کرنے والی نہیں ہوتی، لہذا بھنگ، جوزالطیب اور ان جیسی دیگر اشیاء پر نشے کے اطلاق سے مراد محض سکون حاصل کرنا ہے اور جو علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیاس کی نفی کرتے ہیں ان کی مراد خاص معنی ہوتی ہے۔

                اس کی تحقیق یہ ہے کہ شراب وغیرہ کے نشے کی علامت یہ ہے کہ اس سے سرور و نشاط، بدخلقی اور نخوت پیدا ہو جائے، جبکہ بھنگ اورجوزالطیب کے نشے کی علامات اس کے خلاف ہوتی ہیں مثلاًجسم سن ہو جاتا ہے اور اس میں فتور پیدا ہو جاتا ہے، خاموشی طویل ہو جاتی ہے یا گہری نیند آتی ہے اور نخوت باقی نہیں رہتی، میرے یہ علامات ذکر کرنے سے علامہ زرکشی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی طرف سے علامہ قرافی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ پر کئے گئے اعتراضات کا جواب بھی ہو گیا کہ بعض شرابیوں میں بھنگ پینے والوں کی علامات پائی جاتی ہیں ، اسی طرح بعض بھنگ پینے والوں میں شرابیوں کی علامات موجود ہوتی ہیں ، جواب کی وجہ یہ ہے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن