دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

                سیدنا عطاء رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  ’’ قریش اور عرب جو جانور بتوں پر چڑھاوے کے لئے ذبح کیا کرتے تھے ان سے منع کیا گیا ہے۔ ‘‘

                ایک قول یہ ہے:  ’’ وَاِنَّہُ لَفِسْقٌ سے مراد ہر وہ مردار ہے جس پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا نام نہ لیا گیا ہو اور فسق سے مراد دین سے خارج ہو جانا ہے۔ ‘‘

                اس آیتِ مبارکہ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْۚ-  (پ: ۸، الانعام: ۱۲۱) کا مطلب یہ ہے کہ شیطان اپنے دوستوں کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے کہ وہ مردار کے بارے میں باطل طریقے سے ایمان والوں سے جھگڑیں ۔

                حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ شیطان نے اپنے انسانی دوستوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم اس ذات کی عبادت کیسے کرتے ہو؟ جس کے مارے ہوئے کو نہیں کھاتے جبکہ اپنا مارا ہوا کھا لیتے ہو تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی :

وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ (۱۲۱)   (پ: ۸، الانعام: ۱۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اوراگرتم ان کاکہنامانوتواس وقت تم مشرک ہو۔

                حضرت سیدنا زجاج رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِکہتے ہیں :  ’’ آیتِ کریمہ اس بات پر دلیل ہے کہ جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ شئے کو حلال جانا یا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی حلا ل کردہ شئے کو حرام جانا وہ مشرک ہے بشرطیکہ اس حلت یا حرمت پر اجماع ہو اور اس کا ضروریاتِ دین میں سے ہونا معلوم ہو۔ ‘‘

سوال: آپ نے مسلمان کے ذبیحہ کو (بسم اللہ  ترک ہونے کے باوجود)  مباح کیسے قرار دیا حالانکہ آیتِ مبارکہ حرمت میں نص کی طرح ہے؟

جواب: مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس آیتِ کریمہ کی تفسیر صرف مردار سے کی ہے کسی نے بھی اسے بِسْمِ اللّٰہ نہ پڑھنے  کی صورت میں مسلمان کے ذبیحے پر محمول نہیں کیا۔

                اوراس آیتِ مبارکہ سے مردارمرادہونے پراللہ  عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان وَاِنَّہُ لَفِسْقٌ بھی دلالت کرتا ہے کیونکہ تسمیہ ترک کرنے والے مؤمن کو حرمت کے اعتقاد کی صورت میں فاسق نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کی حلت میں قوی اختلاف کی وجہ سے مناسب ہے کہ یہ حرمت کے قائل کے نزدیک بھی صغیرہ ہو اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’  وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْۚ-  ‘‘ کیونکہ مفسرین کے اجماع کی وجہ سے اختلاف تو مردار میں ہے نہ کہ تسمیہ ترک کرنے والے مسلمان کے ذبیحہ میں اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠   اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ شرک مردار کو حلال جاننے میں ہے نہ کہ اس ذبیحہ کو حلال جاننے میں جس پر تسمیہ نہ پڑھی گئی ہو یہ بات علامہ واحدی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاوربعض دوسرے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ کی ہے۔

                علامہ واحدی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی سند سے کچھ احادیثِ مبارکہ روایت کی ہیں جن میں سے بعض میں بھول کر تسمیہ ترک کئے گئے ذبیحہ کی حلت اور بعض میں مطلقاًحلت کاذکرہے۔ ([1] )

                ہمارے اصحابِ شوافع رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ذبح کے وقت، ’’ بِسْمِ اللّٰہ وَاِسْمِ مُحَمَّدٍیابِاِسْمِ مُحَمَّدٍرَّسُوْلِ اللّٰہِ ‘‘ کہنے کو حرمت کا سبب قراردیاہے۔ ([2] )

                اسی طرح کتابی اپنے کَنِیْسَہ،صلیب، حضرت سیدنا موسیٰ یا حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام کے لئے ذبح کرے اور مسلمان کعبہ، رسولِ اکرم  (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) ، بادشاہ یا جِن وغیرہ کے نام پر تقرب کی نیت سے ذبح کرے تو ان تمام صورتوں میں ذبیحہ حرام اور کبیرہ گناہ ہے،البتہ! اگرکسی کے آنے پر خوشی یااللہ  عَزَّ وَجَلَّکاشکر ادا کرنے کے ارادے سے ذبح


 



[1] ۔۔۔۔ فقہائے احناف کے نزدیک:’’ذبح کرنے میں قصداًبِسْمِاللّٰہ نہ کہی جانور حرام ہے اور اگر بھول کر ایسا ہوا جیسا کہ بعض مرتبہ شکار کے ذبح میں جلدی ہوتی ہے اور جلدی میں بِسْمِ اللّٰہ کہنا بھول جاتا ہے اس صورت میں جانور حلال ہے۔‘‘

[2] ۔۔۔۔ احناف کے نزدیک:’’ذبح کرتے وقت’’بِسْمِ اﷲِ‘‘کے ساتھ غیرخدا کا نام بھی لیا اس کی دوصورتیں ہیں اگر بغیر عطف ذکرکیا ہے مثلاً یوں کہا’’بِسْمِ اﷲِ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اﷲِیابِسْمِ اﷲَِ تَقَبَّلْ مِنْ فُلَانٍ‘‘ایسا کرنامکروہ ہے مگر جانور حرام نہیں ہوگا ۔اور اگر عطف کے ساتھ دوسرے کا نام ذکر کیا مثلاً یوں کہا’’بِسْمِ اﷲِوَاِسْمِ فُلاَنٍ‘‘اس صورت میں جانور حرام ہے کہ یہ جانور غیر خدا کے نام پر ذبح ہوا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ذبح سے پہلے مثلاً جانور کولٹانے سے پہلے اس نے کسی کا نام لیا یا ذبح کرنے کے بعد نام لیا تو اس میں حرج نہیں جس طرح قربانی اور عقیقہ میں دعائیں پڑھی جاتی ہیں اور قربانی میں ان لوگوں کے نام لئے جاتے ہیں جن کی طرف سے قربانی ہے اور حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماورحضرت سیدناابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے نام بھی لئے جاتے ہیں ۔

                    صدرالشریعہ علیہ الرحمہ مزید فرماتے ہیں :’’یہاں سے معلوم ہوا’’وَمَآاُھِلَّ لِغَیْرِاﷲِ بِہٖ ‘‘جو حرام ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ذبح کے وقت جب غیرِخدا کا نام اس طرح لیا جائے گا اس وقت حرام ہوگا اوروہابیہیہ کہتے ہیں کہ آگے پیچھے جب کبھی غیر خدا کا نام لے دیا جائے حرام ہو جاتا ہے بلکہ یہ لوگ تو مطلقاًہرچیزکوحرام کہتے ہیں جس پر غیر خدا کا نام لیا جائے ان کا یہ قول غلط اور باطل محض ہے اگر ایسا ہو تو سب ہی چیزیں حرام ہو جائیں گی۔ کھانے پینے اور استعمال کی سب چیزوں پر لوگوں کے نام لے دیئے جاتے ہیں اور ان سب کو حرام قرار دینا شریعت پر افترا اور مسلم کو زبردستی حرام کا مرتکب بنانا ہے معلوم ہوا کہ بعض مسلمان گائے،بکرا،مرغ جو اس لئے پالتے ہیں کہ ان کو ذبح کر کے کھانا پکواکر کسی ولی اﷲ کی روح کو ایصال ثواب کیا جائے گا یہ جائز ہے اور جانور بھی حلال ہے اس کو’’مَااُھِلُّ بِہٖ لِغَیْرِاﷲ‘‘میں داخل کرنا جہالت ہے کیوں کہ مسلمان کے متعلق یہ خیال کرنا کہ اس نے’’تقرُّب الیٰ غیرِاﷲ‘‘کی نیت کی ہٹ دھرمی اور سخت بدگمانی ہے،مسلم ہرگز ایساخیال نہیں رکھتا۔عقیقہ اور ولیمہ اور ختنہ وغیرہ کی تقریبوں میں جس طرح جانور ذبح کرتے ہیں اور بعض مرتبہ پہلے ہی سے متعین کر لیتے ہیں کہ فلاں موقع اور فلاں کام کے لئے ذبح کیا جائے گا جس طرح یہ حرام نہیں ہے وہ بھی حرام نہیں ۔‘‘

(بہارِشریعت،ج۲،حصہ۱۵،ص ۷۵۔۷۶)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن