30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سبب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اگلوں اور پچھلوں کے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ کیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاشکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ بے شک آج رات مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے کہ جو اسے پڑھ کر اس میں غور نہ کرے اس کے لئے ہلاکت ہے، وہ آیت مبارکہ یہ ہے:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ ۪-وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (۱۶۴) (پ ۲، البقرۃ : ۱۶۴)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدا ئش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان وزمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں ۔ (صحیح ابن حبان،باب ذکر البیان،بان المرء علیہ اذا خلا…الخ،الحدیث: ۶۱۹،ج۲،ص۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے! رونا یا تو غم کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر درد کی وجہ سے، کبھی گھبراہٹ کی وجہ سے ہوتا ہے تو کبھی خوشی کی وجہ سے ، کبھی شکر گزاری کے لئے رونا آتاہے تو کبھی خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کی وجہ سے۔ اور یہی رونا سب سے افضل اورآخرت میں گراں قدر ہو گا جبکہ دکھاوے اور جھوٹ سے رونا، رونے والے کی سرکشی، برائی اور رحمتِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ سے دوری میں اضافہ کرتا ہے،
لہٰذا جو شخص یہ نہیں جانتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے علمِ ازلی میں اس کے بارے میں اَبدی سعادت لکھی ہے یا دائمی شقاوت، بہرحال وہ ان دو حالتوں میں سے کسی میں بھی ہو وہ حرام ٹھہرائے گئے کاموں کی کشتی میں سوار ہے اوراس کے ساتھ ساتھ مخالفتِ الٰہیہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہوا بھی چل رہی ہے،اب اس پرلازم ہے کہ وہ اپنے رونے ، افسوس اور غم واندوہ میں کثرت کرے اور ظاہری و باطنی گناہوں سے دوری اختیار کرے نیز اپنے سابقہ گناہوں اور خطاؤں سے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں نجات طلب کرے، شاید اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے سچی توبہ کی توفیق مرحمت فرمائے اور اسے جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں سے نکال کر علم اور اطاعت کی دولت سے نواز دے اور ان دونوں کے ثمرات اس پر کھول دے۔
کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکا قول ہے : ’’ سب سے نرم دل آدمی وہی ہوتا ہے جس کے گناہ کم ہوتے ہیں ۔ ‘‘
{74}…حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اللّٰہ کے محبوب ، دانائے غیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں عرض کی: ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنجات کیا ہے؟ ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ نجات یہ ہے کہ تم اپنی زبان پرقابو پا لو، اپنے گھر کو وسیع کرلواور اپنے گناہوں پر آنسو بہایا کرو۔ ‘‘ (جامع الترمذی،ابواب الزھد ، باب ماجاء فی حفظ اللسان، الحدیث: ۲۴۰۶،ص۱۸۹۳ ’’ امسک ‘‘ بدلہ ’’ املک ‘‘ )
{75}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ میں تم سب سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں ۔ ‘‘ (صحیح البخاری ،کتاب الایمان،باب قول النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اناا علمکم باللہ ،الحدیث: ۲۰،ص۳ ،بدون ’’ اشدکم لہ خشیۃ ‘‘ )
اسی وجہ سے انبیاء ورسل عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام اور علماء واولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیپر خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا غلبہ رہتا ہے جبکہ ظالم و سرکش، فرعون خصلت، بیوقوف، جاہل، عام اور کمینے و رذیل لوگوں پراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے بے خوفی غالب رہتی ہے حتی کہ وہ سخت عتاب، جہنم کے عذاب اور حجاب کی دوری سے اس طرح بے خوف رہتے ہیں جیسے حساب و کتا ب سے فارغ ہو چکے ہوں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کی حالت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ (۱۹) (پ ۲۸، الحشر : ۱۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے انہیں بَلامیں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں ۔
{76}…ایک انصاری خاتون حضرت سیدتنا اُم علاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے : ’’ جب پہلے پہل مہاجر صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان ، انصار کے پاس تشریف لائے تو انصار نے (ان کی معاشی پریشانیوں کا بوجھ بانٹنے کے لئے) ان سب مہاجرین کوآپس میں قرعہ کے ذریعے تقسیم کر لیا تو جلیل القدر، عبادت گزار صحابی حضرت سیدنا عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہمارے حصہ میں آئے، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اہلِ بدر میں سے ہیں ، جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کی تیمارداری کی یہاں تک کہ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے وصال فرمایا اور ہم نے انہیں کفن پہنا دیاتو رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائے تومیں نے کہا: ’’ اے ابو سائب! اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمہیں عزت عطا فرما دی ہے۔ ‘‘ توخاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں عزت عطا فرمادی ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرقربان،یہ تو میں نہیں جانتی۔ ‘‘ تو سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تو انتقال کر گئے، اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں ان کے لئے خیر کی امید رکھتا ہوں ۔ ‘‘ (نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ان کی گواہی پر انکار اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے کسی قابل اعتماد وقطعی دلیل کے بغیر یقینی گواہی دی تھی حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ گواہی یقین کے انداز میں نہیں بلکہ اُمید کے انداز میں دیتیں جیسا کہ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے طرزِعمل سے دکھایا)
اس کے بعد مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول ہونے کے باوجود اپنے (ذاتی ) علم سے نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا ۔ ‘‘ تو حضرت سیدتنا ام علاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں اس کے بعد کبھی کسی کی تعریف ( جزم ویقین کے ساتھ) نہیں کروں گی (بلکہ امید اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے ہی اس کی تعریف کروں گی) ۔ ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے مزید فرمایا: ’’ اس واقعہ نے مجھے غمزدہ کردیا پھرجب میں سوئی تو میں نے خواب میں حضرت سیدنا عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے ایک جاری چشمہ دیکھا تو آقائے دو جہاں ، مکینِ لامکاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس حاضر ہو کر اس خواب کا تذکرہ کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ وہ اُن کا عمل ہے۔ ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الشھادت ، باب القر عۃ فی المشکلات ، الحدیث: ۲۶۸۷ ، ص ۲۱۳،مختصراً)
{77}…جب حضرت سیدنا عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا انتقال ہوا تو نبی ٔکریم،رء ُوف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے گال کا بوسہ لیااور رونے لگے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک آنسو حضرت سیدنا عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گال پر بہنے لگے اور صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان بھی رو دئیے، پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اے ابو سائب! تم اس دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ تم نے اس کی کسی چیز سے تعلق نہ رکھا۔ ‘‘ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے انہیں ’’ اَلسَّلَفُ الصَّالِح ‘‘ کے نام سے پکارا، نیز یہ وہ پہلے صحابی تھے جنہیں بقیعِ غرقد میں دفن کیا گیا۔ ‘‘ (کنزالعمال، کتاب الفضائل، الحدیث: $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع