30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عرض کی: ’’ کیا مجھے اس سے عافیت نہ دیں گے؟ ‘‘ تو حضرت سیدناامیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ نہیں ، میں آپ کو ان کے اوصاف بیان کئے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔ ‘‘ تو حضرت ضرار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی : ’’ جب ان کے اوصاف بیان کئے بغیر کوئی چارہ نہیں تو سنئے : حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس قدر علوم ومعارف کے حامل تھے کہ اس میں ان کی انتہا کا اندازہ نہیں لگایاجا سکتا، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے معاملہ اور اس کے دین کی حمایت میں مضبو ط ارادے رکھتے تھے، فیصلہ کُن بات کرتے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرتے تھے، ان کے پہلوؤں سے علم کے سوتے پھوٹتے تھے اور دہن مبارک سے حکمت کے پھول جھڑتے تھے، دنیا اور اس کی رنگینیوں سے وحشت کھاتے اور رات اور اس کے اندھیروں سے اُنْس حاصل کرتے تھے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بہت زیادہ آنسو بہانے والے ،دور اندیش اور افسوس سے ہاتھ ملنے والے تھے، کیونکہ افسردہ اور غمگین شخص ایسا ہی کرتا ہے، اپنے نفس کو بے چینی واضطراب سے مخاطب فرماتے، لباس کھردرا پسند کرتے، جو سامنے آ جاتا وہی کھا لیتے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! جب ہم ان سے کچھ پوچھتے تو وہ اس کا جواب دیتے اور جب انہیں دعوت دیتے تو ہماری دعوت قبول فرماتے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! ہم ان کے قریب رہنے اور ان سے تعلق رکھنے کے باوجود ہیبت کی وجہ سے ان کے سامنے کلام نہ کر سکتے تھے، اگر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مسکراتے تو لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح (دندان مبارک چمکتے) ، دینداروں کی تعظیم کرتے اور مسکینوں سے محبت کرتے، طاقتورکو ظلم میں اُمید نہ دلاتے اور کمزور کو انصاف میں مایوس نہ کرتے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم کھا کر میں گواہی دیتا ہوں کہ آج بھی انہیں اس حال میں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں کہ جب رات اپنے پردے ڈال دیتی اور ستارے ظاہر ہو جاتے تو آپکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم جائے نماز پر آ کر اپنی ریش مبارک پکڑ لیتے اور اس شخص کی طرح تڑپتے جسے سانپ نے کاٹ لیا ہو اور غمزدہ شخص کی طرح روتے گویا میں انہیں گریہ وزاری کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں : ’’ یَا رَبَّنَا! یَارَبَّنَا! ‘‘ یعنی اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ ! اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ ! پھر فرماتے : ’’ اے دنیا! تو نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے یا ابھی کچھ شوق باقی ہے؟ ہائے افسوس! ہائے افسوس! میرے علاوہ کسی اور کو دھوکے میں ڈال، میں نے تجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اب میرا تجھ سے رجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ، کیونکہ تیری عمر کم ہے جب کہ تیری آسائشیں حقیر اور نقصانات بہت زیادہ ہیں ۔ آہ! زادِ راہ قلیل ہے اور سفر بہت دور کا ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔ ‘‘ اتنا سننے کے بعد حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی آنکھیں بھر گئیں اور ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنی آستین سے اپنے آنسو پونچھنے لگے اور لوگوں کی بھی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں ، پھر حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ابو الحسن یعنی حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر رحم فرمائے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایسے ہی تھے، اے ضرار! ان پر تمہارا غم کیسا ہے ؟ ‘‘ تو انہوں نے عرض کی: ’’ اس عورت جیساجس کے پہلو میں اس کے بیٹے کو ذبح کردیا گیا ہوتو نہ اس کے آنسو خشک ہوتے ہیں ، نہ غم میں کمی آتی ہے۔ ‘‘ (حلیۃ الاولیاء ،ذکر علی بن ابی طالب،رقم: ۲۶۱،ج۱،ص۱۲۶)
حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا اس قدر روئے کہ ٹپکنے والے مشکیزے کی طرح ہوگئے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے شاگرد حضرت سیدنا سعید بن جبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اتنی کثرت سے روئے کہ آنکھیں کمزور ہوگئیں ۔
حضرت سیدنا عبدالرحمن بن یزید بن جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے یزید بن مرثدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا: ’’ کیا بات ہے کہ میں نے آپ کی آنکھ کو کبھی خشک نہیں پایا؟ ‘‘ تو انہوں نے جواب دیا: ’’ تم یہ سوال کیوں کررہے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ اِس لئے کہ شاید اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ذریعے مجھے نفع بخشے۔ ‘‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ’’ اے میرے بھائی! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے خبردار کیا ہے کہ اگر میں نے اس کی نافرمانی کی تو وہ مجھے جہنم میں قید کر دے گا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر وہ مجھے حمام میں قید کرنے کی بھی وعید سناتا تب بھی میں اس بات کاحق دار تھا کہ میری کوئی آنکھ خشک نہ ہوتی۔ ‘‘ میں نے پوچھا: ’’ کیا تنہائی میں بھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا یہی حال ہوتاہے ؟ ‘‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ’’ تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کیا ’’ شاید اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اس سے نفع پہنچائے، تو انہوں نے جواب میں فرمایا: ’’ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! جب میں اپنی زوجہ کے پاس ہم بستری کے ارادے سے جاتا ہوں تو یہی خیال میرے ارادے کے درمیان حائل ہو جاتاہے اور جب میرے سامنے کھانا رکھا جاتا ہے تب بھی یہی خیال میرے اور کھانے کے درمیان حائل ہو جاتا ہے یہا ں تک کہ میری زوجہ اور بچے بھی رو پڑتے ہیں حالانکہ وہ یہ بھی نہیں جان سکتے کہ کیوں رو رہے ہیں ؟ بسااوقات میری زوجہ بے قرار ہو کر کہتی ہے ہائے افسوس! میں نے آپ کے ساتھ اس دنیوی زندگی میں اتنے غم پائے ہیں کہ میری آنکھوں نے کبھی ٹھنڈک اور قرار پایا ہی نہیں ۔ ‘‘
حضرت سیدنا جعفر بن سلیمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ حضرت سیدنا ثابت بنانی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی آنکھوں میں تکلیف ہوئی تو طبیب نے عرض کی: ’’ آپ مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دیں تو آپ کی آنکھیں ٹھیک ہو جائیں گی۔ ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے دریافت فرمایا: ’’ وہ کیا ہے؟ ‘‘ تو طبیب نے عرض کی: ’’ رویا نہ کریں ۔ ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو آنکھ نہ روئے ایسی آنکھ میں بھلاکون سی بھلائی رہ جاتی ہے۔ ‘‘
حضرت سیدنا حسن بن عرفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے ’’ واسط ‘‘ میں حضرت سیدنا یزید بن ہارون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا، آپ کی آنکھیں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں پھر کچھ عرصہ بعد میں نے انہیں دیکھا تو وہ نابینا ہوچکے تھے، میں نے پوچھا: ’’ اے ابو خالد! آپ کی خوبصورت آنکھوں کوکیا ہوا؟ ‘‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ’’ انہیں سحر کا رونا لے گیا۔ ‘‘
حضرت سیدنا فتح موصلی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکا ایک عقیدت مند آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ کو روتے ہوئے اس حال میں پایا کہ آپ کے آنسوؤں میں پیلاپن واضح تھا۔ تو اس نے دریافت کیا: ’’ کیا آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہخون کے آنسو رو رہے ہیں ؟ ‘‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہاں ! ‘‘ اس نے دوبارہ عرض کی: ’’ کس بات پر رو رہے ہیں ؟ ‘‘ آپ نے جواب دیا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے واجب کردہ حق سے کوتاہی برتنے پر۔ ‘‘ پھر آپ کے انتقال کے بعد اسی شخص نے آپ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا : ’’ مَافَعَلَ اللّٰہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ ‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ اس نے مجھے بخش دیا۔ ‘‘ اس شخص نے پوچھا : ’’ آپ کے آنسوؤں کا کیا ہوا؟ ‘‘ تو آپ نے جواب دیا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے سبب مجھے اپنے قرب سے مشرف فرمایا اور مجھ سے پوچھا : ’’ اے فتح! تُو کس بات پر رویا کرتا تھا؟ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’ میں تیرے واجب کردہ حق کی ادائیگی میں کوتاہی پر روتا تھا۔ ‘‘ پھر پوچھا : ’’ خون کے آنسو کیوں روتا تھا؟ ‘‘ تو میں نے عرض کی: ’’ اس خوف سے کہ کہیں تو میرے لئے توبہ کا دروازہ نہ بند کر دے۔ ‘‘ تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے فتح! اس ( رونے) سے تیرا ارادہ کیا تھا؟ مجھے اپنی عزت کی قسم! چالیس سال تک تیرے محافظ فرشتے آسمانوں پر اس طرح آئے کہ تیرے اعمال نامے میں ایک بھی گناہ نہیں تھا۔ ‘‘
{73}…حضرت سیدناعطا ء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت سیدناعبید بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ، اُم المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرت سیدناعبید بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا: ’’ تمہیں ہماری ملاقات کا خیال کب آگیا؟ ‘‘ تو انہوں نے عرض کی: ’’ اے مادرِمحترم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا ! میں آپ کو وہی جواب دوں گاجو اگلوں نے اس موقع پر دیا : ’’ ملاقات میں دیر کیا کرو محبت میں اضافہ ہو گا۔ ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے ارشاد فرمایا: ’’ ہمیں فضول گفتگو سے معاف ہی رکھو۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبید بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی : ’’ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں جو سب سے انوکھی چیز دیکھی وہ ہمیں بیان فرمائیں ۔ ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے کچھ دیر سکوت فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’ ایک رات شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اے عائشہ (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا ) ! آج رات مجھے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرنے دو۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ مجھے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قربت محبوب ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خوشی بھی عزیز ہے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموضو کر کے نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی گود مبارک تر ہو گئی، پھر اتنا روئے کہ آنسوؤں سے زمین تر ہو گئی، جب حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نماز کا وقت ہوجانے کی خبر دینے حاضر ہوئے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوروتے ہوئے پایا تو عرض کی: ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکیوں رو رہے ہیں ؟ حالانکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع