30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{69}… شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے : ’’ جب بندے کے جسم پر خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ سے لرزہ طاری ہوتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح درخت سے خشک پتے جھڑتے ہیں ۔ ‘‘
(مسندبزّار،ج۴،الحدیث: ۱۳۲۲،ص۱۴۸ ’’ باختلاف الالفاظ ‘‘ )
{70}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ہدایت نشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مجھے اپنی عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر نہ تو دو خوف جمع کروں گا ، نہ ہی دو امن ، اگر میرا بندہ دنیا میں مجھ سے بے خوف ہو گا تو میں اسے قیامت کے دن خوف میں مبتلا کروں گا اوراگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے گا تو میں قیامت کے دن اسے امن عطا فرماؤں گا ۔ ‘‘ (کنز العمال،کتاب الاخلاق من قسم الاقوال، باب حر ف الخاء الخوف والرجاء ،الحدیث: ۵۸۷۵،ج۳، ص۶۰،بتغیرٍ قلیلٍ)
حضرت سیدنا ابوسلیمان دارانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ جس دل میں خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ نہیں وہ دل ویرا ن ہے، کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ (۹۹) ( پ ۹، الاعراف : ۹۹)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اللہ کی خفی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔
حضرت سیدنا مالک بن دینار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ خطا پر رو لینا گناہوں کواس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح ہوا خشک پتوں کو جھاڑ دیتی ہے۔ ‘‘
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہکاقول ہے : ’’ اگر یہ اعلان ہوکہ ایک شخص کے علاوہ تمام لوگ جنت میں جائیں گے تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں ہی وہ شخص نہ ہوں ۔ ‘‘ یہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد افضل انسان حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا قول ہے۔ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے انہیں جنت کی بشارت عطا فرمائی مگر اس کے باوجود آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فتنوں اورمنافقین سے متعلق احوال میں حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راز دار صحابی حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے استفسارفرمایا: ’’ اے حذیفہ! کیامنافقین میں میرا نام بھی ہے؟ ‘‘ تو حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’ اے امیر المؤمنین! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! آپ ان میں سے نہیں ۔ ‘‘ حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے نفس نے میرے احوال کومشتبہ تو نہیں کر دیا اور میرے عیوب کو مجھ سے چھپا تو نہیں لیا اوریہ خوف اتنا زیادہ ہوا کہ انہوں نے رسولِ کائنات ،فخرِ موجوداتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی طرف سے ملنے والی جنت کی بشارت کو چند ایسی شرائط سے مشروط جانا جوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ میں نہ پائی جاتی تھیں ، لہٰذا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس بشارت سے اپنے آپ کو مطمئن نہ کیا ۔
حضرت سیدناحسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ جب ہم سب کے باپ حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جنت سے زمین پر اترے تو تین سوسال تک خوفِ خداعَزَّ وَجَلَّ سے گریہ وزاری کرتے رہے یہاں تک کہ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آنسوؤں سے سراندیپ کی وادیاں جاری ہو گئیں ۔ سراندیپ برصغیر کا ایک خوبصورت ترین ملک ہے (اس کا موجودہ نام سری لنکا (سیلون ) ہے ) ، اس کی فضاباقی تمام شہروں سے زیادہ معتدل ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس شہر میں اترے تا کہ انہیں جنت سے جدائی کی وجہ سے کوئی زیادہ نقصان نہ پہنچے، اگر حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کسی دوسرے شہر میں اترتے جہاں کے موسم میں سردی اور گرمی معتدل نہ ہوتی تو آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس کازیادہ نقصان پہنچتا۔
حضرت سیدنا وہیب بن ورد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جب حضرت سیدنا نوح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ان کے بیٹے کے معاملے میں عتاب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ (۴۶) (پ ۱۲، ھود: ۴۶)
ترجمۂ کنزالایمان: میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن۔
تو حضرت سیدنا نوح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تین سو سال تک روتے رہے یہاں تک کہ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مبارک رخساروں پر کثرتِ گریہ سے لکیریں بن گئیں ۔
حضرت سیدنا وہب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ حضرت سیدنا داؤد عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اتنا روتے کہ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے کی زمین تر ہو جاتی اور اتنا روتے کہ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آنسوؤں سے گھاس اُگ جاتی پھر اتنا روتے کہ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آواز بند ہو جاتی ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا فرماتے ہیں : ’’ حضرت سیدنا یحییٰ بن زکریا علی نبینا و علیہما الصلوٰۃ والسلام اتنا روتے کہ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رخسار پھٹ گئے اور داڑھیں ظاہر ہو گئیں تو آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ نے آپ سے فرمایا: ’’ بیٹا! تم مجھے اجازت دو کہ میں اون کے دو ٹکڑے تمہارے گالوں پر رکھ دوں تا کہ تمہاری داڑھیں چھپ جائیں ۔ ‘‘ آپ نے اجازت دے دی تو انہوں نے آپ کے رخساروں پر انہیں چسپاں کردیا پھر جب آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روتے تو وہ آنسوؤں سے بھرجاتے اور آپ کی والدہ انہیں نچوڑ دیتیں اور آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آنسو اپنے بازو پر بہا دیتیں ۔ ‘‘
{71}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بہت زیادہ رونے والے شخص تھے، جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہتا۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الصلاۃ ،باب المسجد یکون فی الطریق…الخ،الحدیث: ۴۷۶،ص۴۰)
{72}…جب نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممرض میں مبتلا ہوئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تو اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی : ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! حضرت سیدنا ابو بکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بہت نرم دل ہیں جب وہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی جگہ کھڑے ہوں گے تو ( ان پر غم کا غلبہ ہوجائے گا اور) گریہ وزاری کے سبب لوگ تلاوت نہ سن سکیں گے۔ ‘‘ (سنن ابن ماجۃ ،کتاب اقامۃ الصلاۃ ، باب ماجاء فی صلاۃ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فی مرضہ ، الحدیث: ۱۲۳۲،۱۲۳۴، ص۲۵۴۹، بتغیرٍ قلیلٍ)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عیسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے رخساروں پر رونے کی وجہ سے دوسیاہ لکیریں بن گئی تھیں ۔ ‘‘
حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان:
اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآىٕمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖؕ- ( پ ۲۳،الزمر: ۹)
$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع