دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

  (البحر الزخار،بمسند البزار،مسند ابن مسعود،الحدیث:  ۱۹۷۸،ج۵،ص۳۴۸)

{90}…ایک اور روایت میں ہے :  ’’ کیا تم جہنم کی آگ میں بھاپ بلند ہونے سے نہیں ڈرتے۔ ‘‘

 (شعب الایمان، باب التوکل والتسلیم،الحدیث:  ۱۳۴۵،ج۲،ص۱۱۸)

{91}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبعَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بخل نہ کیا کرو تاکہ تم سے بھی بخل نہ کیا جائے۔ ‘‘  (یعنی اپنا مال ذخیرہ کر کے نہ رکھو اسے لوگوں پر خرچ کرنے سے نہ روکو کہیں تم اس مال کی برکت سے محروم نہ ہو جاؤ۔)        (صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی الصدقۃ الخ، الحدیث:  ۱۴۳۳،ص۱۱۳)

{92}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اے بلال رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ! اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے فقیر ہو کر ملنا غنی ہو کر مت ملنا۔ ‘‘  انہوں نے عرض کی :  ’’ میں ایساکیسے کر سکتا ہوں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ تجھے جو رزق ملے اسے مت چھپانا اور تجھ سے کچھ مانگا جائے تو منع نہ کرنا۔ ‘‘ انہوں نے عرض کی :  ’’ میں یہ کیسے کر سکتا ہوں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ایسا ہی کرو ورنہ جہنم (ٹھکاناہوگا) ۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب الرقاق،باب القی اللہ  فقیراًولاالخ،الحدیث: ۷۹۵۷،ج۵،ص۴۵۰)

{93}…حضرت طلحہ بن عبید اللہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ نے آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ پر کچھ ثقل محسوس کیا تو دریافت فرمایا :  ’’ آپ کو کیا ہوا ہے؟ شاید ہم سے کوئی تکلیف پہنچی ہے اس لئے آپ ہم سے ناراض ہیں ۔ ‘‘  تو آپ نے ارشاد فرمایا :  ’’ نہیں ، تم مسلمان مرد کی اچھی بیوی ہو مگر بات یہ ہے کہ میرے پاس بہت سا مال جمع ہو گیا ہے اور میں فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ اس کا کیا کروں ۔ ‘‘  بیوی نے کہا :  ’’ اس میں غمگین ہونے کی کیا بات ہے، اپنی قوم کے لوگوں کو بلا کر وہ مال ان میں تقسیم کر دیں ۔ ‘‘  تو آپ نے اپنے غلام سے ارشاد فرمایا :  ’’ اے غلام!  میری قوم کے لوگوں کو بلا لاؤ۔ ‘‘  اس دن جو مال تقسیم ہُواوہ چارلاکھ 4,00,000 درہم تھے۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۱۹۵،ج۱،ص۱۱۲،بتغیرٍ قلیلٍ)

{94}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے دوبندوں پر وسعت فرماتے ہوئے انہیں کثرتِ مال و اولاد سے نوازا، پھر ان میں سے ایک سے ارشاد فرمایا :  ’’ اے فلاں بن فلاں !  ‘‘  اس نے عرض کی :  ’’ لَبَّیْکَ رَبِّ وَسَعْدَیْکَ!  ‘‘ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’ کیا میں نے تجھے کثرتِ مال و اولاد سے نہیں نوازا؟ ‘‘  اس نے عرض کی :  ’’ کیوں نہیں ، اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ !   ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’ پھر تو نے میری عطا کردہ نعمتوں کے عوض کیا کیا؟ ‘‘  اس نے عرض کی :  ’’ میں محتاجی کے خوف سے اسے اپنی اولاد کے لئے چھوڑ آیا ہوں ۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’ اگر تُو حقیقت جان لیتا تو ہنستا کم اور روتا زیادہ تو ان کے بارے میں جن باتوں سے ڈرتا تھا میں نے وہی آفت ان پر ڈال دی ہے۔ ‘‘

                پھر دوسرے شخص سے ارشاد فرمائے گا :  ’’ اے فلاں بن فلاں !   ‘‘ وہ عرض کرے گا :  ’’ لَبَّیْکَ اَیْ رَبِّ وَ سَعْدَیْکَ!  ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :  ’’ کیا میں نے تجھے کثرتِ مال و اولاد سے نہیں نوازا تھا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا :   ’’  کیوں نہیں ، اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ !   ‘‘ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :  ’’ پھر تو نے میرے عطا کردہ مال کا کیا کیا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا :  ’’ میں نے اسے تیری فرمانبرداری میں خرچ کیا او ر اپنے بعد اپنی اولاد کے لئے تیری وسیع عطا، فضل، قدرت اور بے نیازی پر بھروسہ کیا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’ اگر تو حقیقت جان لیتا تو ہنستا زیادہ اور روتا کم تو نے ان کے لئے مجھ پر جو بھروسہ کیا تھا میں نے انہیں وہ عطا فرما دیا۔ ‘‘  

 (المعجم الاوسط، الحدیث:  ۴۳۸۳،ج۳،ص۲۱۷ / ۲۱۸)

{95}…حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنے ایک غلام کو حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے لئے 400دینار دے کر بھیجا اوراسے ان کے ہاں ٹھہرنے کا حکم دیا تاکہ وہ دیکھ سکے کہ ان دیناروں کا کیا ہوتا ہے، وہ غلام دینار لے کر گیا اور حضرت سیدنا ابو عبیدہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی خدمت میں پیش کر دئیے، آپ نے کچھ غور کیا پھر ان سب کو تقسیم کر دیا، تو وہ غلام حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے پاس لوٹ آیا اور سارا واقعہ عرض کر دیا اور دیکھا کہ انہوں نے ایسی ہی عطا حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے لئے بھی تیار کر رکھی ہے، پھر آپ نے وہ عطا اس غلام کودے کر حضرت سیدنا معاذ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی طرف بھی بھیجی اوراسے ان کے ہاں بھی ٹھہرنے کا حکم دیا تا کہ وہ دیکھ سکے کہ ان دیناروں کا کیا ہوتا ہے، اس نے ایسا ہی کیا حضرت معاذ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے وہ دینارتقسیم کر دئیے، جب آپ کی زوجہ محترمہ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ بولیں :  ’’ خدا کی قسم!  ہم بھی مسکین ہیں ، ہمیں بھی عطا فرمائیے۔ ‘‘  آپ کے خرقہ میں  دودینار بچے تھے آپ نے وہ انہیں دے دئیے، پھر وہ غلام حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے پاس لوٹ آیا اور قصہ عرض کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ لوگ آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ ‘‘  (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۴۶،ج۲۰،ص۳۳،بتغیر)

{96}…جب رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا کو مرض لاحق ہوا، اس وقت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس سات دینار موجود تھے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کو حکم دیا کہ وہ حضرت علیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کوصدقہ کرنے کے لئے دے دیں ، پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر غشی طاری ہو جانے کی وجہ سے اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کو اس حکم پر عمل کرنا یاد نہ رہا، پھر جب بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکچھ افاقہ محسوس فرماتے انہیں یہی حکم دیتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے وہ درہم حضرت سیدنا علیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو دے دئیے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجس رات اس دنیا سے آخرت کی طرف تشریف لے گئے اس وقت اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کے پاس کچھ نہ تھا، جب آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  کو چراغ کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے کسی کوچراغ لینے کے لئے کسی ام المؤمنین کی طرف بھیجا۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر، الحدیث: ۵۹۹۰،ج۶،ص۱۹۸،بتغیرٍ قلیلٍ)

{97}…حضرت سیدنا ابو ذر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنے وظیفے کا مال نکال کر اپنی ضروریات میں خرچ کر لیا اور جب آپ کے پاس سات دینار بچ گئے تو آپ نے انہیں بھی نکالنے  (یعنی خرچ کرنے)  کا حکم دیا، جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا :  ’’ میرے خلیل خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمَینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے مجھے وصیت فرمائی ہے :  ’’ جس سونے یا چاندی پر بخل کیا جاتا ہے وہ راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں خرچ کئے جانے تک اپنے مالک پر انگارا ہے۔ ‘‘  (المسندللامام احمد بن حنبل، حدیث ابی ذر غفاری ،الحدیث:  ۲۱۵۸۴،ج۸،ص۱۲۵)

{98}…حضرت سیدنا ابو ذر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے یہ بھی مروی ہے کہ میں نے سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ جس نے سونے یا چاندی پر بخل کیا اور اسے راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں خرچ نہ کیا تو وہ قیامت کے دن ایک ایسا انگارا ہو گا جس کے ساتھ اسے داغا جائے گا۔ ‘‘          (المعجم الکبیر، الحدیث:  $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن