دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمرو بن العا ص رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  فرماتے ہیں :   ’’ خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں ایک آنسو بہانا مجھے ہزار  دینار صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ ‘‘  

{68}…حضرت سیدنا عون بن عبداللہ  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ مجھے خبردی گئی ہے کہ خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں نکلنے والے انسان کے آنسو اس کے جسم کے جس حصہ پر پہنچیں گے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس حصے کو جہنم پر حرام فرمادے گا اورنور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے سینہ مبارک سے رونے کی آواز اس طرح نکلتی تھی جیسے کھولتی ہوئی ہنڈیا کے جوش مارنے سے نکلتی ہے۔ ‘‘                    حضرت سیدنا کِندی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں روتے ہوئے بہنے والے آنسوؤں کا ایک قطرہ آگ کے کئی سمندر بجھادیتا ہے۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا ابن سماک رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے فرماتے :  ’’ تیری باتیں توزاہدوں جیسی ہیں لیکن عمل منافقوں جیسا ہے اور اس کے باوجود جنت میں داخلہ چاہتا ہے،دور ہوجا!  دور ہوجا!  جنت کے لئے تودوسرے لوگ ہیں جن کے اعمال ہمارے عملوں جیسے نہیں ۔ ‘‘

                حضرت سیدنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ میں نے حضرت سیدنا جعفر صادق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے پاس حاضر ہوکر عرض کی :  ’’ اے اللّٰہ  کے رسول عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے شہزادے رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  مجھے وصیت فرمائیے؟ ‘‘  تو انہوں نے دو باتیں ارشاد فرمائیں :   ’’ اے سفیان!   (۱) مروّت جھوٹے کے لئے اور راحت حاسد کے لئے نہیں ہوتی اور (۲) اخوت تنگ دل لوگوں کے لئے اور سرداری بداخلاق لوگوں کے لئے نہیں ہوتی۔ ‘‘  میں نے عرض کی:   ’’ اے شہزادۂ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمو رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ ! مزید ارشاد فرمائیے؟ ‘‘  توانہوں نے مزیدارشاد فرمایا:  ’’ اے سفیان!   (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے حرام کردہ کاموں سے رکے رہو، تدبر والے بن جاؤ گے (۲) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارے لئے جو تقسیم مقرر کی ہے اس پر راضی رہو،سرِتسلیم خم کرنے والے بن جاؤ گے  (۳) لوگوں سے اسی طرح ملو جس طرح تم چاہتے ہوکہ وہ تم سے ملیں ، ایمان والے بن جاؤ گے اور  (۴) فاجر کی صحبت میں نہ بیٹھو کہیں وہ تمہیں اپنی بدکاریاں نہ سکھادے، جیسا کہ مروی ہے کہ،

                 سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ دیکھے کس سے دوستی کررہا ہے۔ ‘‘  (جامع الترمذی، کتاب الزھد، باب الرجل علی دین خلیلہ، الحدیث: ۲۳۷۸،ص۱۸۹۰)

                 (۵) اور اپنے معاملات میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا خوف رکھنے والوں سے مشورہ کرلیا کرو۔ ‘‘  میں نے عرض کی:   ’’ اے شہزادۂ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  مزید ارشاد فرمائیے؟ ‘‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا:   ’’ اے سفیان!  جو خاندان کے بغیر عزت اور حکمرانی کے بغیر ہیبت اور رعب ودبدبہ حاصل کرنا چاہتا ہو اسے چاہئے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی ذلت سے نکل کراس کی فرمانبرداری میں آجائے۔ ‘‘  میں نے عرض کی:   ’’ اے شہزادۂ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ !  مزید نصیحت فرمائیے؟ ‘‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا:   ’’ مجھے میرے والد گرامی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے تین باتیں سکھاتے ہوئے مجھ سے ارشاد فرمایا:   ’’ اے میرے بیٹے!   (۱) جو برے آدمی کی صحبت اختیار کرتا ہے، وہ سلامت نہیں رہتا  (۲)  جو برائی کی جگہ جاتاہے، اس پر تہمت لگتی ہے اور  (۳) جو اپنی زبان قابو میں نہیں رکھتا، وہ نادم ہوتا ہے۔ ‘‘

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن مبارک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ میں نے حضرت سیدنا وھیب بن ورد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا:   ’’ کیا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا نافرمان بھی عبادت کی لذت پاتا ہے؟ ‘‘  تو انہوں نے ارشاد فرمایا:  ’’ نہیں ، بلکہ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کے بارے میں سوچتا ہے وہ بھی عبادت کی لذت نہیں پاتا۔ ‘‘  

                حضرت سیدناامام ابن جوزی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ خوف خواہشات کو جلادینے والی آگ کانام ہے اس لئے اس کی اتنی ہی فضیلت ہے جتنا یہ خواہشات کو جلاتا، معصیت سے روکتا اور اطاعت پر اُبھارتا ہے، نیز خوف فضیلت والا کیونکر نہ ہو کہ اسی سے پاکدامنی، تقوی، پرہیزگاری، مجاہدات اور دیگر وہ اعمال حاصل ہوتے ہیں جن کے ذریعے بندہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا قرب حاصل کرتا ہے جیسا کہ اس کی فضیلت قرآنی آیات واحادیث سے بھی ظاہر ہے، مثلا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے یہ فرامین مبارکہ:

{۱}

هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ (۱۵۴)   (پ۹، الاعراف :  ۱۵۴)

ترجمۂ کنزالایمان: ہدایت اور رحمت ہے ان کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔

{۲}

رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠ (۸)             (پ ۳۰، البینۃ: ۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ  ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے ۔

{۳}

وَ  خَافُوْنِ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ (۱۷۵)    (پ ۴، اٰل عمران :  ۱۷۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔

{۴}

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ (۴۶)   (پ ۲۷، الرحمن :  ۴۶)

ترجمۂ کنزا لایمان : اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں ۔

{۵}

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ (۱۰)   (پ ۳۰ ،الاعلٰی :  ۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: عنقریب نصیحت مانے گا جو ڈرتاہے۔

{۶}

اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ-  (پ ۲۲ ،فاطر :  ۲۸ )

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ  سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔

                اور علم کی فضیلت پر دلالت کرنے والی ہر آیت کریمہ یاحدیث مبارکہ خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  کی فضیلت کی بھی دلیل ہے کیونکہ خوف علم ہی کانتیجہ ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن