30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے غنی ہوں ، جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کا کوئی چارہ نہیں تو داخل ہو جائے گا ( یعنی اس کے منہ میں اپنا ہاتھ داخل کردے گا پس وہ اسے سانڈ کی طرح کاٹ ڈالے گا) ۔ ‘‘
(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ،باب اثم مانع الزکاۃ، الحدیث: ۲۲۹۶،ص۸۳۴)
{7}…حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جو بھی اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو اس کا وہ مال قیامت کے دن ایک گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اس شخص کی گردن میں ہار بن جائے گا۔ ‘‘ راوی فرماتے ہیں : پھر خاتَم ُالْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ (۱۸۰) (پ ۴، آل عمران: ۱۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان : اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہر گز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے بُرا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبر دار ہے۔ (ابن ماجہ،ابواب الزکاۃ، باب ماجاء فی منع الزکاۃ،الحدیث: ۱۷۸۴،ص۲۵۸۳)
{8}…سیِّدُ المُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے غنی مسلمانوں پر ان کے اموال میں قدرت کے مطابق مسلمان فقراء کا حصہ مقرر کیا ہے اور فقراء اگر بھوکے یا ننگے ہوں تو غنی لوگوں کے برباد کئے ہوئے مال کو ہی پاتے ہیں ، خبردار! یقینا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان لوگوں کا شدید حساب لے گا اور انہیں درد ناک عذاب دے گا۔ ‘‘
(المعجم الاوسط،الحدیث: ۳۵۸۹،ج۲،ص۳۷۴)
{9}…حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا ارشاد فرماتے ہیں : ’’ بروزِ قیامت سودلینے اوردینے والوں اور اس کے گواہوں جبکہ سود کو جانتے ہوں ، گودنے اور گدوانے والی عورتوں ، صدقہ روک لینے والوں یا اس میں ٹال مٹول کرنے والوں اورہجرت کے بعد اَعرابی بن جانے والے لوگوں پر شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی زبانِ اقدس سے لعنت کی جائے گی۔ ‘‘ (المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث: ۴۰۹۰،ج۲،ص۱۲۱)
{10}…مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق و امینعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے سود لینے اور دینے والوں ، اس کے گواہوں ، سودی دستا ویزلکھنے والوں اور گودنے و گدوانے والی عورتوں ، صدقہ روکنے والوں اور حلالہ کرنے والوں اور حلالہ کروانے والوں ان سب لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘ (المرجع السابق،الحدیث: ۶۶۰،ج۱،ص۱۸۹)
{11}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دلوں کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ قیامت کے دن فقراء سے منہ پھیرنے والے اغنیاء کے لئے ہلاکت ہو گی، فقراء کہیں گے : ’’ انہوں نے ہمارے ان حقوق کے معاملے میں ہم پر ظلم کیا جو ان پر فرض تھے۔ ‘‘ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا : ’’ مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! میں تمہیں ضرور ( اپنی رحمت کے ) قریب اور انہیں (اس سے ) دور کروں گا۔ ‘‘ پھر تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے یہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی:
وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌﭪ (۲۴) لِّلسَّآىٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِﭪ (۲۵) (پ۲۹، المعارج: ۲۴،۲۵)
ترجمہ کنزا لایمان: اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے اسکے لئے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے۔
(المعجم الاوسط،الحدیث: ۴۸۱۳،ج۳،ص۳۴۹)
{12}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ سب سے پہلے جنت اور جہنم میں داخل ہونے والے تین تین افراد کو میرے سامنے پیش کیا گیا، جنت میں پہلے داخل ہونے وا لے تین افراد یہ تھے: (۱) شہید (۲) وہ غلام جس نے اپنے رب کی اچھی طرح عبادت کی اور اپنے دنیوی آقا کی خیر خواہی چاہی اور (۳) پاکدامن متوکل۔ ‘‘
(المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث: ۹۴۹۷،ج۳،ص۴۱۲)
{13}…جبکہ ایک روایت میں آخری دو کے بارے میں یہ الفاظ ہیں کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ وہ غلام جسے دنیا کی غلامی نے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت سے نہ روکا اورپاک دامن عیالدار فقیر۔جبکہ سب سے پہلے جہنم میں داخل ہونے والے تین افراد یہ تھے: (۱) زبردستی مسلط ہوجانے والا حاکم (۲) وہ مال دار جو اپنے مال سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حق ادا نہیں کرتا اور (۳) متکبر فقیر۔ ‘‘ (المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الاوائل،باب اول مافعل ومن فعلہ،الحدیث: ۲۳۷،ج۸،۳۵۱)
{14}…حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے : ’’ ہمیں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جس نے زکوٰۃ ادا نہ کی اس کی کوئی نماز نہیں ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۰۰۹۵،ج۱۰،ص۱۰۳)
{15}…جبکہ ایک اورروایت میں ہے : ’’ جس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا نہ کی تو وہ ایسامسلمان نہیں جسے اس کا عمل نفع دے۔ ‘‘ (شرح اصول اعتقاد اھل السنۃوالجماعۃ ،الجزء الرابع،باب جماع الکلام فی الایمان، الحدیث: ۱۵۷۴،ج۱،ص۷۴۳)
{16}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’ جس نے اپنے پیچھے کنز چھوڑا (کنز ایسے خزانے کو کہتے ہیں جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو) اسے قیامت کے دن ایک گنجے سانپ میں بدل دیا جائے گا اس کی آنکھوں پر دو سیاہ دھبے ہوں گے، وہ اس شخص کے پیچھے دوڑے گا، وہ شخص پوچھے گا ، ’’ تو کون ہے؟ ‘‘ سانپ کہے گا، ’’ میں تیرا وہ خزانہ ہوں جسے تواپنے پیچھے چھوڑ کر آیا تھا۔ ‘‘ پھر وہ اس کا پیچھاکرتا رہے گا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ چبا ڈالے گا، پھر اس کو کاٹے گا اور اس کا سارا جسم چبا ڈالے گا ۔ ‘‘
(المستدرک،کتاب الزکاۃ،باب التغلیظ فی منع الزکاۃ،الحدیث: ۱۴۷۴،ج۲،ص۶،بدون ’’ من أنت ‘‘ خلقت بدلہ ’’ ترکتہ بعدک$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع