دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

دن انہیں پانی پلانے لے جایا جائے توان کا دودھ دوہا جائے  (اورمساکین کو پلایا جائے)  تو (زکوۃ ادانہ کرنے والے)  ایسے شخص کو قیامت کے دن اوندھے منہ لٹایا جائے گا اور وہ اونٹ خوب فربہ ہو کر آئیں گے ان کا کوئی بچہ بھی پیچھے نہ رہے گا وہ اسے اپنے قدموں سے روندیں گے اور اپنے مونہوں سے کاٹیں گے جب ان کا ایک گروہ گزر جائے گا تو دوسرا آ جائے گا اور یہ عمل اس پورے دن ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار  (50,000) سال ہے یہاں تک کہ بندوں کا فیصلہ ہو جائے اوروہ جنت یا جہنم کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے۔ ‘‘  

                عرض کی گئی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! اگر گائے اور بکریاں ہوں تو (کیاحکم ہے) ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ گائے اور بکریوں والا اگر ان کا حق ادانہ کرے گا تو قیامت کے دن اسے چٹیل میدان میں لٹایا جائے گا اور گائے، بکری میں کوئی چیز کم نہ ہو گی  (یعنی ان کے سب اعضاء سلامت ہوں گے ) خواہ اُلٹے سینگوں والی ہو یا بغیر سینگوں والی یا ٹوٹے ہوئے سینگوں والی، سب اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی جب ان کی ایک جماعت گزر جائے گی تو دوسری آجائے گی اور یہ عذاب اس پورے دن میں ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار  (50,000)  سال ہو گی یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے اور وہ جنت یا جہنم کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے۔ ‘‘

                پھر عرض کی گئی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! اگر گھوڑے ہوں تو  (کیاحکم ہے) ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ گھوڑے تین قسم کے ہیں :   (۱) وہ جو اپنے مالک کے لئے بوجھ (یعنی گناہ)  ہیں  (۲) وہ جو اس کے چھٹکارے کا سبب ہیں اور  (۳) وہ جو اجر و ثواب کا باعث ہیں ۔ جو گھوڑے مالک پر بوجھ ہوتے ہیں وہ یہ ہیں :  جنہیں مالک نے دکھاوے، تکبر اور مسلمانوں سے دشمنی کے لئے باندھا ہو یہ اس کے لئے بوجھ ہیں ، جو گھوڑے مالک کے لئے نجات کا سبب ہیں  وہ یہ ہیں :  جنہیں مالک نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں باندھا ہو اوروہ ان کی گردنوں اور پشتوں کے حقوق ادا کرتا ہو ایسے گھوڑے مالک کے لئے عذاب سے نجات کا سبب ہیں اورجو گھوڑے اجر و ثواب کا باعث ہیں وہ یہ ہیں :

 جنہیں کسی نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں مسلمانوں کی خاطر اپنی چراگاہ یا باغ میں باندھا ہو، یہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں سے جو کچھ کھائیں گے ان کے مالک کے لئے ان کے کھانے ، ان کی لید اور پیشاب کی مقدار  (یعنی جو گھاس وہ وہاں سے کھائیں گے اور پھرلید وغیرہ کریں گے اس)  کے برابر نیکیاں لکھ دی جائیں گی، یہ گھوڑے اگر کبھی رسیاں توڑ کر ایک یا دو گھاٹیوں کا چکر لگائیں تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان کے مالک کے لئے ان کے قدموں کے نشانات کی تعداد اور لید کی مقدار کے برابر نیکیاں لکھے گا اور اگر ان کا مالک انہیں لے کر کسی نہر کے قریب سے گزرے اور  انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ بھی رکھتا ہو پھر بھی اگر ان گھوڑوں نے کچھ پانی پی لیا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ا س مالک کے لئے اس کے پئے ہوئے پانی کے قطروں کے برابرنیکیاں لکھے گا۔ ‘‘

                 عرض کی گئی،  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  گدھوں کے بارے میں ارشاد فرمائیے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا لیکن یہ آیت بہت جامع ہے :

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ (۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ (۸)   (پ۳۰، الزلزال: ۷،۸)

ترجمۂ کنز الایمان :  تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ برائی کرے اسے دیکھے گا۔

 (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ،باب اثم مانع الزکاۃ، الحدیث:  ۲۲۹۰،ص۸۳۳)

{3}…حضورِ نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بڑبڑانے والا اونٹ ہو اور وہ مجھ سے یہ کہہ رہا ہو، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میری فریاد رسی فرمائیے۔ ‘‘  تو میں کہوں گا :  ’’ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے مقابلے میں تیرے لئے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا۔ ‘‘  

                قیامت کے دن میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر ممیانے والی بھیڑ یا بکری ہو اور وہ  مجھ سے یہ کہہ رہا ہو، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میری فریاد رسی فرمائیے۔ ‘‘  تو میں کہوں گا :  ’’ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے مقابلے میں تیرے لئے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا۔ ‘‘

                قیامت کے دن میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر ڈکرانے والی گائے ہو اور وہ مجھ سے یہ کہہ رہا ہو، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میری فریاد رسی فرمائیے۔ ‘‘  تو میں کہوں گا ، ’’ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے  مقابلے میں تیرے لئے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا۔ ‘‘

                 (پھرارشاد فرمایا) قیامت کے دن میں تم میں سے کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر کپڑے کے چیتھڑے ہوں اور وہ مجھ سے یہ کہہ رہا ہو، ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میری فریاد رسی فرمائیے۔ ‘‘  تو میں کہوں گا ، ’’ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے مقابلے میں تیرے لئے کچھ نہیں کر سکتا، میں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا تھا۔ ‘‘

                 (پھرارشاد فرمایا) تم میں سے کوئی شخص ایسا نہ ہو کہ جو قیامت کے دن اس حال میں آئے کہ اس کی گردن پرکوئی خاموش شئے  (جیسے سوناچاندی)  ہو، پس وہ شخص کہے :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  میری مدد فرمائیے۔ ‘‘  تو میں کہوں گا،  ’’ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے مقابلے میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ۔ ‘‘   (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ،باب غلظ تحریم الغلول، الحدیث:  ۴۷۳۴،ص۱۰۰۶)

{4}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب  عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ وہی خسارہ پانے والے ہیں ربِّ کعبہ کی قسم!  قیامت کے دن وہی خسار ے میں ہوں گے ربِّ کعبہ کی قسم!  وہ کثیر مال ودولت والے ہیں مگر ان میں سے جو ایسے ایسے خرچ کرے اور ایسے لوگ بہت قلیل ہیں ، اس ذاتِ پاک کی قسم!  جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے جو شخص بکریاں ، اونٹ یا گائے چھوڑ کر مرے اور ان کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو قیامت کے دن وہ جانور پہلے سے بڑے اور فربہ ہو کر آئیں گے یہاں تک کہ لوگوں کا فیصلہ ہونے تک اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ماریں گے جب ان میں سے آخری جماعت گزر جائے گی تو پہلی جماعت دوبارہ لوٹ آئے گی۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل ،الحدیث:  ۲۱۴۰۹،ج۸،ص۸۱،راوی: ابوذر غفاری)

{5}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے :  ’’ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن ایک جہنمی اژدھا اس پر مسلط کردیا جائے گا اور اس کی پیشانی، پہلو اورپیٹھ پر داغا جائے گا یہ عمل اس پورے دن میں ہوتا رہے گا جس کی مقدار 50,000سال ہو گی یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔ ‘‘

 (صحیح ابن حبان، کتاب الزکاۃ،باب الوعید الخ،الحدیث:  ۳۲۴۲،ج۴،ص۱۰۴)

 (سنن النسائی،کتاب الزکاۃ،باب التغلیظ فی حبس الزکاۃ،الحدیث: ۲۴۴۳،ص۲۲۴۵)

{6}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اونٹوں والا اپنے اونٹوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا وہ اونٹ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ  تعداد میں آئیں گے اور اسے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ اسے اپنے اگلے اور پچھلے پاؤں سے روندیں گے، جو گائے والا اپنی گائیوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا وہ گائیں قیامت کے دن پہلے سے زیادہ تعداد میں آئیں گی اوراسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور پچھلی ٹانگوں سے روندیں گی ان میں سے کوئی بھی بغیر سینگ والی نہ ہو گی اور نہ ہی ٹوٹے ہوئے سینگ والی ہو گی اور جو خزانے والا اپنے خزانے کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا وہ خزانہ قیامت کے دن  اَلشُّجَاعُ الْاَقْرَعُ  (یعنی گنجے اژدھے)  کی صورت میں آئے گا، منہ کھولے ہوئے اس کا تعاقب کرے گا جب وہ اس کے قریب آئے گا تو یہ اس سے بھاگے گا، وہ سانپ پکارے گا کہ اپنا خزانہ لے جسے تو نے چھپایا تھا کہ میں تو اس

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن