30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{60}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ کیا جو کچھ میں سن رہا ہوں ، تم بھی سن رہے ہو؟ آسمان چِرچِرااُٹھا ہے اوروہ اس کا حق بھی ہے کیونکہ اس پر ہر چار انگلیوں کی جگہ پر ایک فرشتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے سجدہ میں یاقیام یا رکوع میں ہے، جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم بھی جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے پہاڑوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے اوراس کی عظیم پکڑ اور سخت انتقام سے ڈرتے ہوئے اس کی پناہ مانگتے۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے : ’’ اور تم اس بات سے بے خبر ہوتے کہ تمہیں نجات ملے گی یانہیں ۔ ‘‘ (کنز العمال ،کتاب العظمۃ ، من قسم الاقوال ، رقم ۲۹۸۲۴ ، ۲۹۸۲۸ ، ج ۱۰ ، ص ۱۶۶،ملخصاًً)
حضرت سیدنا بکر بن عبداللہ مزنی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ جو ہنستے ہوئے گناہ کرتاہے وہ روتا ہوا جہنم میں داخل ہوگا۔ ‘‘
{61}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اگر مؤمن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس والے عذاب کو جان لیتا تو جہنم سے بے خوف نہ رہتا۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الرقاق، باب الرجاء مع الخوف،الحدیث: ۶۴۶۹،ص۵۴۳)
{62}…بخاری ومسلم شریف میں ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ (۲۱۴) (پ۱۹،الشعراء: ۲۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اے محبو ب اپنے قریب تر رشتہ دار وں کوڈراؤ۔
تو دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: ’’ اے گروہِ قریش! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اپنی جانوں کو خرید لو کیونکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا ،اے بنی عبد مناف! میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا، اے عبا س رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ! اللّٰہ کے رسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا! میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پھوپھی صفیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ا! میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا، اے فاطمہ بنت محمد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! میرے مال میں سے جوچاہو مجھ سے مانگو مگرمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مقابلہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب ھل یدخل النسائ…الخ،الحدیث: ۲۷۵۳،ص۲۲۱،بدون ’’ بعض الالفاظ ‘‘ )
{63}…حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’ میں نے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! (اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے)
وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ (۶۰) (پ ۱۸،المؤ منون : ۶۰)
ترجمۂ کنزالا یمان : اوروہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اوران کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے۔
تواے اللہ کے رسول عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! جو شخص زنا کرتا، چوری کرتا اور شراب پیتا ہے کیا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتا بھی ہے؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ نہیں ! اے بنت ابوبکر! اے بنت صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما! اس سے مراد وہ شخص ہے جونماز پڑھتا، روزے رکھتااور صدقہ کرتا ہے اور اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں اس کے اعمال قبول ہونے سے نہ رہ جائیں
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند السیدۃ عائشۃرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا ،الحدیث: ۲۵۳۱۸،ج۹،ص۵۰۵،بدون ’’ الرجل ‘‘ )
حضرت سیدنا حسن بصریرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا گیا : ’’ اے ابو سعید! ہم ایسی قوم کی مجلس کے بارے میں کیا کریں جو ہمیں اتنی اُمید دلاتی ہے کہ ہمارے دل اُڑنے لگ جاتے ہیں یعنی ہم خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ ‘‘ تو آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! تمہارا ایسی قوم کی صحبت اختیار کرنا جوتمہیں خوف دلائے یہاں تک کہ تمہیں آخرت میں اَمن حاصل ہوجائے تمہارے لئے اس قوم کی صحبت اختیارکرنے سے بہترہے جو تمہیں اتنا امن دلائے کہ آخرت میں تمہیں خوف زدہ کرنے والے امور لاحق ہو جائیں ۔ ‘‘
جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطا ب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو رخمی کیا گیا اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کا وقت آگیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے سے ارشاد فرمایا: ’’ میرے رخسار کو زمین سے ملا دو، اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میری حسرت کا عالم کیا ہوگا؟ ‘‘ حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا نے عرض کی: اے امیر المومنین! یہ خوف کیسا؟ ‘‘ حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھوں فتوحات کے در کھول دیئے اور بہت سے شہر آباد کئے، کیاوہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ ایسا معاملہ فرمائے گا؟ ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ میں اس بات کو پسند کرتاہوں کہ میری اس طرح نجات ہوجائے کہ نہ وہ مجھ سے مؤاخذہ فرمائے اور نہ مجھ پر انعام فرمائے۔ ‘‘ ایک اور روایت میں ہے : ’’ نہ مجھے اجر ملے اور نہ ہی میرے ذمہ کوئی گناہ ہو۔ ‘‘
حضرت سیدنا امام زین العابدین علی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا جب وضو کرکے فارغ ہوتے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پر لرزہ طاری ہوجاتا۔ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ تم پر افسوس ہے! کیا تم نہیں جانتے کہ میں کس کی بارگاہ میں کھڑا ہو رہا ہوں او رکس سے مناجا ت کرنا چاہتا ہوں ؟ ‘‘
امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ مجھے کھانے ، پینے اور خواہشات کی تکمیل سے روک دیتا ہے۔ ‘‘
{64}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ان سات افرادکا تذکرہ فرمایا جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا اور ان خوش نصیبوں میں اس شخص کا بھی ذکر فرمایا جس نے تنہائی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وعیدوں اور اس کے عقاب کو یاد کیا تو اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کو یاد کر کے اس کی آنکھیں بہہ پڑیں ۔ ‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الاذان،باب من جلس فی المسجد…الخ،الحدیث: ۶۶۰،ص۵۳، ’’ تحت ظل عرشہ ‘‘ بدلہ ’’ فی ظلہ ‘‘ )
{$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع