30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیدناامام نووی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہمسلم شریف کی شرح میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’ یہ حدیثِ پاک نسب پر طعن کرنے اور نوحہ کرنے کی حرمت کے سخت ہونے پر دلالت کرتی ہے اس کے بارے میں چار اقوال منقول ہیں : (۱) سب سے صحیح تر قول یہ ہے کہ یہ کفار کے اعمال اور جاہلیت کی عادات میں سے ہیں (۲) یہ اعمال کفر کی طرف لے جانے والے ہیں (۳) یہ نعمت و احسان کی ناشکری ہے اور (۴) یہ وعید انہیں حلال جاننے والے کے لئے ہے۔ ‘‘ (شرح النووی علی صحیح مسلم،تحت الحدیث: ۲۲۷)
اوریقینی طورپریہ بات لازم ہے کہ جس نے حرمت کا علم ہونے، نہی یاد ہونے اور اس میں وارد سخت وعیدوں کے باوجود نوحہ کرنے، گریبان چاک کرنے اور چیخ و پکار کے افعال کاجان بوجھ کر ارتکاب کیا تو وہ ان قبیح کاموں کو جمع کرنے اور ان کے ذریعے میت کو ایذاء پہنچانے کی وجہ سے عدالت (یعنی گواہی دینے کی صلاحیت) سے نکل گیاجیسا کہ احادیثِ مبارکہ اس پر گواہ ہیں ۔ ‘‘
سیدنا اذرعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ نوحہ گری اور دیگر افعال اگر تقدیر پر ناراضگی اور عدمِ رضا کی وجہ سے ہوں تب تو ظاہر ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہیں اور اگر ناراضگی کی نیت کے بغیر شدتِ غم اور مصیبت کا صدمہ برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے ہو تو اس میں احتمال ہے، اور کیا اس معاملہ میں جاہل کا عذر قبول ہو سکتا ہے؟ یہ محلِ نظر ہے، پھر خود ہی اَلْخَادِم میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’ حدیثِ پاک میں مذکور وعید کے تقاضا کی بناء پرنوحہ گری اور دیگر افعال کبیرہ گناہ ہیں ۔ ‘‘
نُدْبَہ یعنی میت کے محاسن شمار کرنا اور نَوْحَہ یعنی بلند آواز سے رونا حرام ہے۔ اسی طرح روتے ہوئے آواز کو بلند کرنے میں افراط سے کام لینایوں کہ مردے کی خوبیاں بیان کرنا، نوحہ کرنا، رخسار پیٹنا، گریبان چاک کرنا، بال پھیلا دینا، سر منڈوا دینا، بال اکھیڑ ڈالنا، چہرہ کالا کرلینا، سر پر مٹی ڈالنا اور اپنی ہلاکت کی دعا کرنا نیز ہر ایسا کام کرنا جس سے حلیہ بگڑ جائے مثلاًایسا لباس پہننا جو عادتاً نہ پہنا جاتا ہو یا اس طریقے سے نہ پہنا جاتا ہویا لباس میں سے کوئی چیز کم کر دینا اور اس کے بغیر نکلنا خلافِ عادت ہو (سب حرام ہے) ،اوربہت سے لوگ (کسی کے مرنے پر) اپناحلیہ بگاڑلیتے ہیں حالانکہ ان کاحرام ہونابلکہ بیان کردہ امورپرقیاس کرتے ہوئے کبیرہ گناہ اورفسق ہوناثابت ہوچکاکیوں کہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰینے اس کی جووجہ بیان فرمائی ہے وہ مذکورہ ہر گناہ کو شامل ہے، اور وہ اس بات کاواضح طورپر شعور دلاتی ہے کہ یہ افعال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی اورقضائے الہی عَزَّ وَجَلَّ سے راضی نہ ہونے کوظاہرکرتے ہیں ۔
ان تمام خرافات سے بچتے ہوئے رونا موت سے پہلے اور بعد دونوں صورتوں میں جائز ہے جیساکہ حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اپنے شہزادے (حضرت سیدناابراہیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) کے انتقال پر آنسو بہائے ہیں ۔مگر جہاں تک ممکن ہو موت کے بعد اس کا ترک کرنا مناسب ہے، ایک جماعت کہتی ہے : ’’ موت کے بعد رونا مکروہ ہے۔چنانچہ،
{28}… سرکارِمدینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ جب موت واجب یعنی واقع ہو جائے تو کوئی رونے والی نہ روئے۔ ‘‘ ( سنن ابی داؤد،کتاب الجنائز،باب فی فضل من مات باالطاعون ، الحدیث: ۳۱۱۱،ص۱۴۵۷)
{29}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان کی ایک جماعت کے ہمراہ حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرونے لگے، صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان بھی حضورنبی ٔکریم،رء ُوف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا گریہ دیکھ کر رونے لگے، تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم نہیں سنتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّآنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر عذاب نہیں دیتا بلکہ ’’ اس ‘‘ کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یارحم فرماتا ہے ۔ ‘‘ اور یہ فرماکر اپنی زبانِ اقدس کی جانب اشارہ فرمایا۔ ( صحیح مسلم ،کتاب الجنائز،باب البکاء علی المیت،الحدیث: ۲۱۳۷،ص۸۲۲)
{30}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار،بِاذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ایک نواسے کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرکیا گیا جس پر نزع کا عالم طاری تھا، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آنکھیں نم ہو گئیں ، تو حضرت سیدنا سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’ یا رسولَ اللہ عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! یہ کیا؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ یہ رحمت ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے رحم دل بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے۔ ‘‘ (صحیح البخاری ،کتاب الجنائز،باب قول النبی عَلَیْہِ السَّلَام…الخ،الحدیث: ۱۲۸۴،ص۱۰۰)
{31}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے شہزادے حضرت سیدنا ابراہیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس تشریف لائے جبکہ حضرت سیدنا ابراہیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نزع کے عالم میں تھے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی چشمانِ کرم نم ہو گئیں ،تو حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمبھی روتے ہیں ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اے عوف کے بیٹے ! یہ رحمت ہے۔ ‘‘ انہوں نے دوبارہ عرض کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ آنکھیں بہہ رہی ہیں اور دل غمگین ہے حالانکہ ہم وہی کہہ رہے ہیں جو ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ کو پسند ہے اور یقینا اے ابراہیم (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) ! ہم تمہاری جدائی سے غمزدہ ہیں ۔ ‘‘
(صحیح البخاری ،کتاب الجنائز،باب قول النبی عَلَیْہِ السَّلَام انا بک لمحزونون،الحدیث: ۱۳۰۳،ص۱۰۲)
ہمارے شافعی اصحابِ رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰینے ان احادیثِ مبارکہ سے یہ استدلال کیا ہے کہ ’’ بے آواز آنسو بہنا مکروہ نہیں بلکہ مباح ہے۔ ‘‘ اور گذشتہ صفحات میں جو یہ بات بیان ہوئی کہ ’’ میت پر اس کے اہلِ خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ ‘‘
اس میں اختلاف ہے کہ اسے کس صورت پر محمول کیا جائے۔ ‘‘
ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ ’’ یہ حکم نوحہ کی وصیت کر کے مرنے کی صورت پر محمول ہے اور اگر اس نے اس کے بارے میں کوئی بات نہ کی، نہ ہی حکم دیا اور نہ ہی منع کیا (اور مرنے کے بعد اس پر نوحہ کیا گیا) تو اس صورت میں اسے عذاب نہ ہوگا، البتہ اگر اس نے نوحہ کا حکم دیا تو اسے حکم دینے اور لوگوں کو حکم کی تعمیل کرنے کی وجہ سے عذاب ہوگا، کیونکہ جو برا طریقہ جاری کرے اس پر اس کا اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ہو گا، لہٰذااس کے گناہ میں اضافہ ہوتا جائے گا جب تک اس پر عمل ہو گا اور اگر عمل نہ ہو تو گناہ بھی نہ ہو گا۔ ‘‘
ایک قول یہ ہے کہ ’’ اگر وہ (بوقت موت یامرضِ موت میں ) خاموش رہا اور انہیں نوحہ خوانی سے منع نہ کیا تب بھی اسے اس سبب سے عذاب ہو گا کیونکہ اس کا انہیں منع کرنے سے خاموش رہنا ان کے اس فعل پر رضا مندی ہے، لہٰذا اسے اس کے سبب اسی طرح عذاب ہو گا جس طرح اگر وہ اس چیز کاحکم دیتا،توجو اس قول کی پکڑ سے بچنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ جب وہ بیمار ہو تو اپنے اہلِ خانہ کو بدعات اور دیگر حرام اور برے کاموں سے منع کر دے ۔ ‘‘
ہمارے اصحابِ شوافع رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیاور دیگر علماء کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان فرماتے ہیں : ’’ جو میت یا اپنی ذات، اہل یا مال کی مصیبت میں گرفتار ہو اگرچہ وہ مصیبت کم ہی کیوں نہ ہو تو اسے چاہئے کہ ’’ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ،اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَ اَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَاترجمہ: بے شک ہم اللہ کے لئے ہیں اوراسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ،اے اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے اس مصیبت میں صبر اور اس سے بہتربدل عطافرما۔ ‘‘ کی کثرت کرے، کیونکہ مسلم شریف کی ایک روایت میں ایساکہنے والے کے بارے میں فرمایاگیا ہے کہ ’’ جو ایسا کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اس مصیبت سے نجات عطا فرمائے گا اور اس سے بہتر بدلہ عطا فرمائے گا۔ ‘‘
(صحیح مسلم،کتاب الجنائز،باب مایقال عندالمصیبۃ،الحدیث: ۲۱۲۶،ص۸۲۲)
اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایسا کہنے والوں کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے کہ ان پر ان کے رب عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے رحمت اور مغفرت ہو اور انہی کو ترجیع (یعنی اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ) کہنے یا ثواب اور جنت کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع