دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

                حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ مجھے اس عاقل پرتعجب ہے جو اپنی دعا میں تویہ کہتا ہے کہ یا اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !  مجھے مصیبت میں مبتلا کر کے میرے دشمنوں کو خوش نہ کرنا۔ حالانکہ وہ خود دشمن کواپنی مصیبت پر خوش کرنے کے اسباب پیدا کرتا ہے۔ ‘‘  آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا گیا :  ’’ وہ کیسے؟ ‘‘  تو آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  ’’ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرتا ہے اوراس طرح قیامت کے دن اپنے دشمنوں کوخوش کرے گا۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا مالک بن دینار رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے ایک نبی عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی :  ’’ اپنی قوم سے کہو کہ وہ نہ تو میرے دشمنوں کے ٹھکانوں میں داخل ہوا کرے، نہ ہی میرے دشمنوں کا لباس پہنا کرے، نہ ہی میرے دشمنوں کی سواریوں پر سوار ہوا کرے اورنہ ہی میرے دشمنوں کے کھانے کھایا کرے کہ کہیں وہ لوگ ان کی طرح میرے دشمن نہ ہو جائیں ۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ لوگو ں نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے حقوق کو ہلکا جانا تو اس کی نافرمانی کرنے لگے اگر وہ اسے معزز جانتے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ انہیں گناہوں سے محفوظ فرما لیتا۔ ‘‘  مزید فرماتے ہیں :  ’’ جب کامل آدمی کوئی گناہ کربیٹھتا ہے تو اسے بھلاتا نہیں اور مسلسل اس گناہ پر ڈرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ ‘‘  

{58}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن اپنے گناہوں کو پہاڑ کی چوٹی پر دیکھتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس پر گر نہ پڑیں اور فاجر گناہوں کوناک پر بیٹھنے والی مکھی کی طرح سمجھتا ہے جب وہ اسے اُڑاتا ہے تو وہ اُڑجاتی ہے۔ ‘‘  (صحیح البخاری ، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، الحدیث: ۶۳۰۸،ص۵۳۱،بدون ’’ فطار ‘‘ وقع بدلہ  ’’ مرّ ‘‘ )  

                حضرت سیدنا کعب الاحبار رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ بنی اسرائیل کے ایک شخص سے گناہ سر زد ہوا تو وہ غمزدہ ہوگیا اوراِدھر اُدھر چکر لگانے لگا کبھی آتا کبھی جاتا اور کہتا :  ’’ میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کوکس طرح راضی کروں ۔ ‘‘  تو اسے صدیقین میں لکھ دیا گیا۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا عمار بن دادا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا کھمس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ  ’’ اے ابو سلمہ!  میں نے ایک گناہ کیا تھااور اس پر چالیس سال سے رور رہا ہوں ۔ ‘‘  میں نے پوچھا:   ’’ وہ گناہ کیاتھا ؟ ‘‘  تو آپ نے ارشاد فرمایا:   ’’ میرا ایک بھائی مجھ سے ملنے کے لئے آیا تو میں نے اس کے لئے ایک دانق  (یعنی درہم کے چھٹے حصے )  کی   مچھلی خریدی جب اس نے کھانا کھا لیا تو میں اپنے پڑوسی کی دیوار کی طرف گیا اور اس میں سے مٹی کا ایک ڈھیلا لیا اوراس مٹی سے  (بطورِ صابن) اس مہمان کے ہاتھ دھلائے میں اپنی اس خطا  (یعنی پڑوسی کی دیوار سے اس کی اجازت کے بغیر مٹی لینے)  پر چا لیس سال سے رورہاہوں ۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنے کسی عامل  ( یعنی صدقات جمع کرنے والے)  کی طرف مکتوب بھیجا (جس  میں لکھا تھا)  :  ’’ اما بعد!  جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تمہیں بندوں پر ظلم کرنے کی قدرت دے تو اس بات کو یاد رکھناکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکو تم پر کتنی قدرت ہے اور جان لو کہ تم ان پر جو بھی ظلم کروگے وہ ظلم ان کی موت کے بعد ان سے دور ہوجائے گا جب کہ اس کی شرمندگی اور آخرت میں جہنم کی آگ تمہارے لئے ہمیشہ باقی رہے گی اور یہ بھی جان لو کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّظالم سے مظلوم کا حق ضرور دلائے گا اورباز آجاؤ اور ایسے لوگوں پر ظلم کرنے سے بچتے رہو جن کا تمہارے مقابلہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ کوئی مددگارنہیں کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّجب اپنی جانب بندے کی سچی التجاء اور اضطرار دیکھتا ہے تو فوراً اس کی مدد فرماتا ہے۔ ‘‘

 چنانچہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:

 اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ  (پ ۲۰، النمل :  ۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان: یاوہ جو لاچار کی سنتاہے جب اسے پکارے اور دور کردیتاہے برائی۔

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن سلام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے جب ملائکہ کو پیدا فرمایا تو انہوں نے آسمان کی طر ف سراٹھا کر عرض کی:  ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ !  تُو کس کے ساتھ ہے ؟ ‘‘ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:  ’’ جب تک مظلوم کا حق نہ دِلادوں اس کے ساتھ ہوں ۔ ‘‘  

                اسلاف رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیمیں سے کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا قول ہے :  ’’ اے گنہگارو!  اپنے اُوپر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طویل بردباری ( یعنی لمبی ڈھیل)  سے دھوکہ نہ کھاؤ بلکہ گناہوں کے سبب اس کی ناراضگی سے ڈرو کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ  (پ ۲۵،الزخرف : ۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب انہوں نے وہ کیا جس پر ہمارا غضب ان پر آیا۔

                حضرت سیدنا یعقوب القاری علیہ رحمۃاللہ  الباری  فرماتے ہیں :  ’’ میں نے خواب میں ایک طویل القامت شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کے پیچھے چل رہے تھے، میں نے پوچھا:   ’’ یہ بزرگ کون ہیں ؟ ‘‘ تو لوگوں نے بتایا:  ’’ یہ حضرت سیدنا اویس قرنی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ہیں ۔ ‘‘  تو میں بھی ان کے پیچھے چل دیا اور عرض کی :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے مجھے کوئی وصیت فرمائیے؟ ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے میری طرف تیوری چڑھائی تومیں نے عرض کی :  ’’ میں ہدایت کا طلب گا ر ہوں ، مجھے ہدایت دیجئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔ ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کرتے وقت اس کی رحمت طلب کرو اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرتے وقت اس کی ناراضگی سے ڈرو اور ان دونوں حالتوں کے درمیان اس سے اپنی امید نہ توڑو۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ ‘‘  

                تورات شریف میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اے بنی اسرائیل!  میں تم سے محبت کرتاتھا، پھر جب تم نے  میری نافرمانی کی تو میں تم سے نفرت کرنے لگا۔ ‘‘

                حضرت سیدنا عبداللہ  بن زید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ میں چاند کی ابتدائی راتوں میں قبرستان کے پاس سے گزرا تو میں نے ایک شخص کو قبر سے نکلتے ہوئے دیکھا وہ زنجیر کھینچ رہا تھا پھر میں نے دیکھا کہ ایک اور شخص اس زنجیر کو پکڑے ہوئے ہے اس دوسرے نے باہر نکلنے والے شخص کو اپنی طرف کھینچا اور اسے قبر میں لوٹا دیا، پھر میں نے اسے اس مردے کو مارتے ہوئے دیکھا او ر مردہ کہہ رہا تھا :  ’’ کیا میں نماز نہیں پڑھتا تھا؟ کیامیں جنابت سے غسل نہیں کرتا تھا؟ کیا میں روزے نہیں رکھتا تھا؟ ‘‘  تو اس مارنے والے نے جواب دیا:   ’’ ہاں ،کیوں نہیں ، (تُو واقعی یہ کام تو کرتا تھا)  مگر جب تُو تنہائی میں گناہ کیا کرتا تھا تو اس وقت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے نہیں ڈرتا تھا۔ ‘‘  

                حضرت سیدنا ابراہیم تیمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ میں موت اور ( مرنے کے بعد ہڈیوں کی )  بوسیدگی کو یاد کرنے کے لئے کثرت سے قبرستان میں آتا جاتاتھا، ایک رات میں قبرستان میں تھا کہ مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سو گیا تو میں نے خواب میں ایک کھلی ہوئی قبر دیکھی اور ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا :  ’’ یہ زنجیر پکڑو اور اس کے منہ میں داخل کر کے اس کی شرمگاہ سے نکالو۔ ‘‘  تو وہ مردہ کہنے لگا:   ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ !  کیا میں قرآن نہیں پڑھا کرتا تھا؟ کیا میں تیرے حرمت والے گھر کاحج نہیں کرتا تھا؟ ‘‘  پھر وہ اسی طرح ایک کے بعد دوسری نیکی گنوانے لگا تو میں نے ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا :  ’’ تو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن