30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میری لعنت اس کی سات پشتوں تک پہنچتی ہے۔ ‘‘
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان ان آثار کی تائید کرتا ہے:
وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ ۪- فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا (۹) (پ ۴،النسآء : ۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ڈریں وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطر ہ ہوتا تو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کریں ۔
مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالیٰ ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان:
مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ (۳) (پ ۱، الفاتحۃ: ۳)
ترجمۂ کنزالایمان: روزِجزا کامالک۔ـ
کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہاں دین سے مراد ’’ جزاء ‘‘ ہے۔
{56}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔ ‘‘ (مصنَّف عبدُ الرزّاق،باب الاغتیاب والشتم،الحدیث: ۲۰۴۳۰،ج۱۰،ص۱۸۹)
یعنی تم جیسا سلوک کسی سے کرو گے ویساہی سلوک تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔ لہٰذا اگر تم سے قصا ص نہ لیا گیا تو تمہاری اولاد سے لیا جائے گا۔ اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
خَافُوْا عَلَیْهِمْ ۪- فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ (پ۴، النسآء : ۹)
ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہیئے کہ اللہ سے ڈریں ۔
پس اگرتمہیں اپنے چھوٹوں اور محتاج ومسکین اولاد کے بارے میں کوئی ڈر ہو تو اپنے تمام اعمال خصوصا ًدوسروں کی اولاد کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو تاکہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری اولاد کے معاملہ میں تمہاری حفاظت فرمائے اور تمہارے تقویٰ کی برکت سے انہیں حفاظت وخیر اور توفیق میں آسانیاں فراہم کرے جس سے تمہاری موت کے بعد تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور زندگی میں شرحِ صدر حاصل ہو اور اگر تم دوسرے لوگوں کی اولاد اور ان کے حرم کے معاملہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے نہیں ڈرو گے تو جان لو کہ تم سے اور تمہاری اولاد سے اس معاملہ میں مؤاخذہ ہو گا اور جو کچھ تم دوسروں کے ساتھ کرو گے وہی کچھ تمہاری اولاد کے ساتھ کیا جائے گا۔
وسوسہ: جب اولاد نے کچھ نہیں کیا تو ان کے آباؤاجداد کی لغزشوں اور گناہوں کی وجہ سے انہیں کیونکر عذاب ہو گا؟ یا پھران سے انتقام کیسے لیا جائے گا؟
جواب: اس لئے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے پیروکار اور ان کی اولاد ہیں ۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُ جُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖۚ-وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُ جُ اِلَّا نَكِدًاؕ- (پ۸، الاعراف : ۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل۔
اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًاۚ-فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا ﳓ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَۚ-وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْؕ- (پ۱۶، الکھف: ۸۲)
ترجمۂ کنزالایمان : رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا۔
کہتے ہیں کہ ان کاوہ نیک باپ ان کی ماں کاساتواں دادا تھا۔
سوال: ہم، گناہگاروں کی اولاد میں نیکوکار اورنیکوں کی اولاد میں گناہگار پاتے ہیں ۔
کیا آپ حضرت سیدنا نوح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹے اور حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قاتل بیٹے کے بارے میں نہیں جانتے اس پرآپ کیا کہیں گے ؟
جواب: ایک تو یہ کہ ایسا بہت کم ہوتاہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسی خفیہ تدبیر کی وجہ سے ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی جانتا ہے اگر اس سے فقط یہ خبر دینا مراد ہے کہ مخلوق اگر چہ وہ کتنی ہی کامل کیوں نہ ہو اپنے اَقرباء کو ہدایت دینے سے عاجزہے۔ ’’ اِنَّکَ لَاتَھْدِیْ ‘‘ یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجسے چاہیں اسے اپنی مرضی سے ہدایت نہیں دے سکتے۔ جیسا کہ یہ آیت مبارکہ (وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ) اس بات کافائدہ دیتی ہے کہ بعض اوقات آباؤ اجداد کی وجہ سے اولاد پر عقاب ہوتا ہے اور اس سے دونوں صورتوں کا مساوی ہونا لازم نہیں آتا، ہاں ! یہ ضرور ہے کہ بعض اوقات آباء کی نیکی سے اولاد کو نفع حاصل ہوتا ہے اور یہ ان دونوں معاملوں میں کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ۔ بعض اوقات کوئی فاسق ظاہری طور پرنیک اعمال کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان اعمال کے سبب اس کی اولاد کو نفع پہنچاتا ہے لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان سے استدلال کرنامتعین ہوگیا کہ:
وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ ۪- فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا (۹) (پ ۴،النسآء: ۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ڈریں وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتاتو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کریں ۔
{57}… اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو مکتوب لکھا : ’’ امابعد! جب بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کا کوئی عمل کرتا ہے تو اس کی تعریف کرنے والے لوگ اس کی مذمت کرنے لگتے ہیں ۔ ‘‘ (کتابُ الزھد لامام احمد بن حنبل،زھد عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا،الحدیث: ۹۱۷،ص۱۸۶)
حضرت سیدناابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ اس بات سے ڈرو کہ مؤمنین کے دل تم سے نفرت کرنے لگیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو۔ ‘‘
حضرت سیدنا فضیل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ جو بندہ تنہائی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرتاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مؤمنین کے دلوں میں اس کے لئے اپنی ناراضگی اس طرح ڈال دیتا ہے کہ اسے اس کا شعور بھی نہیں ہوتا۔ ‘‘
امام محمد بن سیرین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب مقروض ہوئے اور انہیں قرض کے سبب شدید غم لاحق ہوا توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ میں اس غم کا سبب چالیس سال پہلے سر زد ہونے والے ایک گناہ کو سمجھتا ہوں ۔ ‘‘
حضرت سیدنا سلیمان تیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ آدمی پوشیدہ طور پر ایک گناہ کرتا ہے تو ا س کی وجہ سے اس پر ذلت طاری ہوجاتی ہے۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع