30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الصلاۃ ، باب اثم من فاتتہ العصر ، الحدیث ۵۵۲ ، ص۴۵)
حضرت سیدنا ابن خزیمہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی صحیح میں یہ اضافہ کیا ہے : ’’ سیدناامام مالک رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ اس سے مراد وقت کا گزر جانا ہے۔ ‘‘
{8}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ نمازوں میں سے ایک نماز ایسی بھی ہے کہ جس سے وہ فوت ہو جائے تو گویا اس کے اہل اور مال میں کمی کر دی گئی۔ ‘‘
( سنن النسائی،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ العصرفی السفر،الحدیث: ۴۸۰، ص۲۱۱۸)
{9}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ بے شک یہ نماز یعنی عصر تم سے پہلی اُمتوں پر پیش کی گئی تو انھوں نے اسے ضائع کر دیا، لہٰذا آج تم میں سے جو اس کی حفاظت کرے گا اس کے لئے دو اَجر ہیں اور اس نماز کے بعد ستارے ظاہر ہونے تک کوئی نماز نہیں ۔ ‘‘ ( صحیح مسلم ،کتاب صلاۃ المسافر ین ، باب الاوقات التی نہی عن الصلاۃ …الخ الحدیث ۱۹۲۷ ، ص ۸۰۷)
{10}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے نمازِ عصر ترک کی تو اس کا عمل برباد ہو گیا۔ ‘‘ ( صحیح البخاری ،کتاب مواقیت الصلاہ ، باب من ترک العصر ، الحدیث ۵۵۳ ، ص ۴۵)
{11}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جس نے نمازِ عصر جان بوجھ کر چھوڑی یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئی تو اس کا عمل ضائع ہو گیا۔ ‘‘
( المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث بر یدۃ الاسلمی ، الحدیث۲۳۱۰۷ ، ج ۹ ، ص ۳۱،بتغیرٍقلیلٍ)
{12}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جس نے نمازِ عصر میں بلا عذر تاخیر کی یہاں تک کہ سورج چھپ گیا تو اس کا عمل برباد ہو گیا۔ ‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الصلاۃ ، باب فی التفریط فی الصلاۃ ، الحدیث ۸ / ۲،ج۱، ص۳۷۷)
{13}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ تم میں سے کسی کے اہل اور مال میں کمی کر دی جائے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے کہ اس کی نمازِ عصر فوت ہو جائے۔ ‘‘
( مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ، باب وقت صلاۃ العصر ، الحدیث ۱۷۱۵ ، ج ۲ ، ص ۵۰)
{14}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے جان بوجھ کر نمازِ عصر میں اتنی تاخیر کی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا تو گویا اس کے اہل اور مال میں کمی کر دی گئی۔ ‘‘
( المسند للامام احمد بن حنبل ،المسند عبداللہ بن عمر الخ ،الحدیث ۵۴۶۸ ، ج۲ ، ص ۳۶۸ )
{15}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس کی نماز فوت ہو گئی تو گویا اس کے اہل اور مال میں کمی کر دی گئی۔ ‘‘
( السنن الکبری للبیہقی،کتاب الصلاہ ، باب کراھیۃ تا خیر العصر، الحدیث: ۲۰۹۵،ج۱، ص۶۵۳)
{16}…حضرت سیدنا سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماکثر اپنے صحابہ کرامعَلَيهِمُ الّرِضْوَان سے فرمایا کرتے : ’’ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ"جس کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہتا وہ اپنا خواب بیان کر دیتا۔ ‘‘ چنانچہ ایک صبح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : آج رات میرے پاس دو فرشتے آئے، انہوں نے مجھے اٹھایا اور کہا : ’’ چلیں ۔ ‘‘ میں ان کے ساتھ چل دیا، ہم ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو لیٹا ہوا تھا جبکہ دوسرا شخص اس کے قریب پتھر لئے کھڑاتھا، وہ اس کے سر پر پتھر مارتا جس سے وہ پھٹ جاتا پھر وہ پتھر لُڑھک کر دور جا گرتا اور وہ شخص پتھر اٹھانے کے لئے چلا جاتا اس کے لوٹنے سے پہلے ہی اس کا سر پہلے کی طرح درست ہو جاتا، پھر وہ واپس آ کر اس کے سر پر اسی طرح پتھر مارتا جس طرح پہلی دفعہ مارا تھا،
میں نے ان دونوں فرشتوں سے کہا ’’ سُبْحَانَ اللّٰہ ! یہ کون ہیں ؟ ‘‘ تو انہوں نے کہا : ’’ آگے چلیں ۔ ‘‘ لہٰذا ہم چل دئیے، پھر ہم ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو چت لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص اس کے پاس کھڑا تھا اور آنکس (یعنی لوہے کا ایسا راڈ جس کا ایک سرا قدرے مڑا ہوتا ہے) کے ذریعے اس کے جبڑے، نتھنے اور آنکھ کو گدی تک چیر دیتا تھا۔ ‘‘ ابو عوف کہتے ہیں کہ کبھی ابو رجاء یوں بیان کرتے : ’’ وہ چیر کر دوسری جانب چلا جاتا اور وہاں بھی ایسا ہی کرتا جیسا پہلی طرف کیا تھا جب وہ ایک جانب چیر کر فارغ ہوتا تو دوسری جانب پہلے کی طرح درست ہو چکی ہوتی، پھر وہ دوبارہ ویسے ہی کرتا جیسے پہلی مرتبہ کیا تھا۔
میں نے پھر کہا: ’’ سُبْحَانَ اللّٰہ ! یہ کون ہیں ؟ ‘‘ تو انہوں نے کہا : ’’ اور آگے چلیں ۔ ‘‘ لہٰذا ہم چل دیئے یہاں تک کہ تنور جیسی ایک چیز کے پاس پہنچے۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بھی فرمایا : ’’ اس میں سے شور و غل کی آوازیں آرہی تھیں ، میں نے اس میں جھانک کر دیکھا تو اس میں ننگے مرد اور عورتیں نظر آئیں جب انہیں نیچے سے آگ کی لپٹ پہنچتی تو چیخنے چلانے لگتے۔
میں نے پوچھا : ’’ یہ کون ہیں ؟ ‘‘ تو انہوں نے کہا : ’’ مزید آگے چلیں ۔ ‘‘ لہٰذا ہم چل دئیے یہاں تک کہ ہم ایک نہر پر پہنچے۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنییہ بھی فرمایاتھا : ’’ وہ نہر خون کی طرح سرخ تھی، نہر کے اندر ایک شخص تیر رہا تھا جبکہ دوسرا شخص نہر کے کنارے کھڑا تھا اور اس کے پاس بہت سے پتھر جمع تھے، جب وہ اندر والا تیرتا ہوا اس شخص کے قریب آتا جس کے پاس بہت سے پتھر جمع تھے تو آ کر اپنا منہ کھول دیتا اور یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا اور وہ تیرتا ہوا واپس چلا جاتا اور جب واپس لوٹ کر آتا تو اسی طرح یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا۔ ‘‘
میں نے ان دونوں سے پوچھا : ’’ یہ کون ہیں ؟ ‘‘ تو انہوں نے مجھ سے کہا : ’’ مزید آگے چلیں ۔ ‘‘ تو ہم چل دئیے یہاں تک کہ ایک نہایت ہی بدصورت آدمی کے پاس پہنچے اتنا بدصورت کہ تم نے کبھی دیکھا نہ ہو، اس کے پاس آگ تھی جسے وہ بھڑکا رہاتھااور اس کے گرد دوڑ رہا تھا۔ میں نے پوچھا : ’’ یہ کون ہے؟ ‘‘ تو انہوں نے کہا : ’’ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآگے چلیں ۔ ‘‘ ہم چل دئیے یہاں تک کہ ایک باغ میں پہنچے اس میں موسمِ بہار کے پھول کھلے ہوئے تھے، باغ کے درمیان ایک دراز قد شخص کھڑا تھا، آسمان سے باتیں کرتی ہوئی اس کی بلندی کے باعث میں اس کا سر نہ دیکھ سکا، اس شخص کے گرد اتنے بچے تھے جتنے میں نے کسی کے نہیں دیکھے۔
میں نے پوچھا : ’’ یہ شخص کون ہے اور یہ بچے کون ہیں ؟ ‘‘ تو انہوں نے کہا : ’’ آگے چلیں ۔ ‘‘ لہذا ہم چل دئیے پھر ہم ایک اتنے بڑے باغ میں پہنچے جتنا بڑا اور خوبصورت کوئی باغ میں نے نہیں دیکھا، انہوں نے مجھ سے کہا : ’’ اس پر چڑھیں ۔ ‘‘ چنانچہ ہم اس پر چڑھ گئے تو ہمیں ایک شہر نظر آیا جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی تھی، جب ہم شہر کے دروازے پر پہنچے اور اسے کھولنے کے لئے کہا تو وہ ہمارے لئے کھول دیا گیا، ہم اس کے اندر داخل ہوئے تو اس میں ایسے لوگوں سے ملے جن کا نصف بدن تو اتنا خوبصورت تھاجتنا تم نے نہ دیکھا ہو اور نصف اتنا بدصورت کہ جتنا تم نے نہ دیکھا ہو، ان فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا : ’’ جاؤ اوراس نہر میں کُود پڑو۔ ‘‘ وہ نہر چوڑائی میں بہہ رہی تھی اور اس کا پانی بالکل سفید تھا وہ لوگ جا کر اس نہر میں کود پڑے، پھر جب وہ لوٹ کر ہمارے پاس آئے تو ان کی بدصورتی دور ہو چکی تھی اوروہ خوبصورت ہو گئے تھے۔
ان فرشتوں نے مجھ سے کہا : ’’ یہ باغِ عدن ہے اور یہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مکان ہے۔ ‘‘ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو وہ سفید ابریعنی بادل کی طرح تھا، میں نے ان سے کہا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں برکت دے مجھے اس کے اندر جانے دو۔ ‘‘ انہوں نے جواب دیا : ’’ ابھی نہیں ، لیکن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس میں ضرور داخل ہو ں گے۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع