دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

ترجمۂ کنز الایمان : توان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے مگر جو تائب ہوئے۔

                حضرت سیدناابن مسعودرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’ نماز ضائع کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انہیں بالکل چھوڑ دیتے تھے بلکہ وہ وقت گزار کر نماز پڑھتے تھے۔ ‘‘

                امام التابعین حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ وقت گزار کر نماز پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ظہر کی نماز کو اتنا مؤخر کر دے کہ عصر کا وقت شروع ہو جائے اور مغرب کا وقت شروع ہونے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے، اسی طرح مغرب کو عشاء تک اور عشاء کو فجر تک اور فجر کو طلوعِ آفتاب تک مؤخر کر دے، لہٰذا جو شخص ایسی حالت پر اصرار کرتے ہوئے مر جائے اور توبہ نہ کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے ساتھ غَیّ  کا وعدہ فرمایا ہے۔غَیّ  جہنم کی ایک ایسی وادی ہے جس کا پیندہ بہت پست اور عذاب بہت سخت ہے۔ ‘‘   (کتاب  الکبائر،الکبیرۃ الرابعۃفی ترک الصلوٰۃ،ص۱۹)

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (۹)   (پ۲۸، المنافقون: ۹)

ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والوتمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ  کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں ۔

                مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی ایک جماعت کا قول ہے :  ’’ اس آیتِ مبارکہ میں ذِکْرِاللّٰہسے مراد پانچ نمازیں ہیں ، لہٰذا جو اپنے مال مثلاً خرید وفروخت یا پیشے یا اپنی اولاد کی وجہ سے نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنے سے غفلت اختیار کرے گا وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا۔ ‘‘   (کتاب  الکبائر،الکبیرۃ الرابعۃفی ترک الصلوٰۃ،ص۲۰)

{1}…اسی لئے سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بندے سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس عمل کے بارے میں حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہو گی اگر اس کی نماز درست ہوئی تو وہ نجات و فلاح پاجائے گا  اور اگر اس میں کمی ہوئی تو وہ شخص رسوا و برباد ہو جائے گا۔ ‘‘

 (جامع الترمذی،ابواب الصلوٰۃ الخ ،باب ما جاء ان اوّل ما یحاسب الخ،الحدیث : ۴۱۳،ص۱۶۸۳،مختصرًا)

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ (۴) الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ (۵)   (پ۳۰، الماعون: ۵،۴)

ترجمۂ کنز الایمان : تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نمازسے بھولے بیٹھے ہیں ۔

            حضورنبی کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی تفسیرمیں ارشاد فرما یا :  ’’ یہ وہ لوگ ہوں گے جونمازوں کوان کاوقت گزارکرپڑھاکرتے ہوں گے ۔ ‘‘   (کتاب  الکبائر،الکبیرۃ الرابعۃفی ترک الصلوٰۃ،ص۱۹)

                 اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے۔

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا (۱۰۳)   (پ۵، النساء: ۱۰۳)

ترجمۂ کنز الایمان : بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔

{2}…ایک دن مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ  صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ  ’’ جو نماز کی پابندی کرے گا یہ اس کے لئے نور، برہان یعنی رہنما اور نجات ثابت ہو گی اور جو اس کی پابندی نہیں کرے گا اس کے لئے نہ نور ہو گا، نہ برہان اور نہ ہی نجات کا کوئی ذریعہ اور وہ شخص قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور اُبی ّ بن خلف کے ساتھ ہو گا۔ ‘‘              ( المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند عبداللّٰہ بن عمرو بن العا ص ، الحدیث ، ۶۵۸۷، ج۲ ، ص ۵۷۴)

                بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے فرمایا ہے :  ’’ بے نمازی کا حشر ان لوگوں کے ساتھ اس لئے ہو گا کہ اگر اسے اس کے مال نے نماز سے غافل رکھا تو وہ قارون کے مشابہ ہے لہٰذا اس کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور اگر ا س کی حکومت نے اسے غفلت میں ڈالا تو وہ فرعون کے مشابہ ہے لہٰذا اس کا حشر اس کے ساتھ ہو گا یا اس کی غفلت کا سبب اس کی وزارت ہو گی تو وہ ہامان کے مشابہ ہوا لہٰذا اس کے ساتھ ہو گا یا پھر اس کی تجارت اسے غفلت میں ڈالے گی لہٰذا وہ مکہ کے کافر اُبی ّ بن خلف کے مشابہ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ‘‘                                                            (کتاب  الکبائر،الکبیرۃ الرابعۃفی ترک الصلوٰۃ،ص۲۱)

{3}…حضرت سیدنا سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبیٔ کریم ،رء وف رحیم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان :  ’’  الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ (۵)   (پ۳۰، الماعون: ۵) ترجمۂ کنز الایمان : جو اپنی نمازسے بھولے بیٹھے ہیں ۔ ‘‘ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو  اس کا وقت گزار کر پڑھتے ہیں ۔ ‘‘  (مجمع الزوائد ، کتاب الصلاۃ ،باب فی من یوخر الصلاۃ عن وقتھا ، الحدیث ۱۸۲۳ ،ج ۲ ،ص ۸۰)

{4}…حضرت سیدنا مصعب بن سعدرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں : میں نے اپنے والد بزرگوار سے پوچھا :  ’’  آپ کا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان:  ’’ الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ0 (پ: ۳۰، الماعون: ۵) ترجمۂ کنز الایمان : جو اپنی نمازسے بھولے بیٹھے ہیں ۔ ‘‘ کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ہم میں سے کون ہے جو نماز میں نہ بھولتا ہو؟ ہم میں سے کون ہے جو اپنے آپ سے باتیں نہ کرتا ہو؟ ‘‘  تو آپ نے ارشاد فرمایا :  ’’ اس سے مرادیہ نہیں بلکہ اس سے مراد وقت ضائع کر دینا ہے۔ ‘‘

 ( مسند ابی یعلی الموصلی ، مسند سعد بن ابی وقاص ،الحدیث ۷۰۰، ج ۱، ص ۳۰۰)

                                                وَیْل کیاہے؟ ویل سے مراد عذاب کی شدت ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ جہنم میں ایک وادی ہے، اگر اس میں دنیا کے پہاڑ ڈال دئیے جائیں تو اس کی گرمی کی شدت سے پگھل جائیں ، یہ ان لوگوں کا ٹھکانا ہو گی جو نماز کو ہلکا جانتے ہیں یا وقت گزار کر پڑھتے ہیں مگریہ کہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کر لیں اور اپنی کوتاہیوں پر نادم ہوں ۔

{5}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس کی ایک نماز فوت ہو گئی اس کے اہل اور مال میں کمی ہوگئی۔ ‘‘     ( صحیح ابن حبان،کتاب الصلاۃ ،باب الوعیدعلی ترک الصلاۃ،الحدیث ۱۴۶۶ ، ،ج۳ ، ص ۱۴ )

{6}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی عذر کے بغیر دو نمازوں کو (ایک وقت میں )  جمع کیا بے شک وہ کبیرہ گناہوں کے دروازے پر آیا۔ ‘‘

 ( المستد رک ،کتاب الامامۃ وصلاۃ الخ ، باب الزجر عن الجمع الخ ،الحدیث ۱۰۵۸ ،ج۱ ،ص ۴ ۵۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن