30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{7}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی تو اس نے کھلم کھلا کفر کیا۔ ‘‘ ( المعجم الاوسط ،الحدیث ۳۳۴۸ ، ج ۲ ، ص ۲۹۹)
{8}… رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دل کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ ’’ بندے اور کفر یا شرک کے درمیان فرق نمازکو چھوڑنا ہے لہذا جب اس نے نماز چھوڑ دی تو اس نے کفر کیا۔ ‘‘ (مسندابی یعلٰی الموصلی،الحدیث ۴۰۸۶،ج۳،ص۳۹۷)
{9}… تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ بندے اور شرک کے درمیان سوائے نماز ترک کرنے کے کچھ فرق نہیں لہذا جب اس نے نماز چھوڑ دی تو اس نے شرک کیا۔ ‘‘
(سنن ابن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا،باب ماجاء فیمن ترک الصلاۃ الحدیث،۱۰۸۰، ص۲۵۴۰)
{10}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اسلام کا تاج اوردین کے قواعد (یعنی بنیادیں ) تین ہیں جن پر اسلام کی بنیاد ہے، جس نے ان میں سے کسی ایک کو چھوڑا وہ اس کا منکر ہے اور اس کا خون حلال (یعنی قتل جائز) ہے: (۱) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت کی گواہی دینا (۲) فرض نماز اور (۳) رمضان کے روزے۔ ‘‘
( مسند ابی یعلیٰ الموصلی ، الحدیث ۲۳۴۵ ، ج ۲ ، ص ۳۷۸ بدون ’’ ولا یقبل منہ صرف ولا عدل ‘‘ )
{11}… مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جس نے ان تینوں (یعنی توحید،فرض نماز اور رمضان کے روزے) میں سے ایک کو چھوڑا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا منکر ہوا اور اس کی فرض عبادت قبول ہو گی نہ نفل، بلکہ اس کا خون اور مال حلال ہو گئے۔ ‘‘ (المرجع السابق،الحدیث: ۲۳۴۵،ج۲،ص۳۷۸،بدون ’’ ولا یقبل منہ صرف ولا عدل ‘‘
{12}…حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے خلیل صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے سات کاموں کی وصیت کی اور ارشاد فرمایا : ’’ کسی چیز کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شریک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یامحروم کر دیا جائے یا پھانسی پر لٹکا دیا جائے، جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑنا کیونکہ جو جان بوجھ کر نماز چھوڑے گا وہ ملت سے خارج ہو جائے گا، نافرمانیوں پر کمر نہ باندھو کیونکہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی والے کام ہیں اور شراب نہ پیؤکیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑہے۔ ‘‘
{13}…سیدناامام ترمذی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہروایت کرتے ہیں : ’’ سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان نماز چھوڑنے کے علاوہ کسی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہ سمجھا کرتے تھے۔ ‘‘
(جامع التر مذی ،ابواب الایمان ، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ،الحدیث: ۲۶۲۲، ص ۱۹۱۶)
{14}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ بندے اور کفر وایمان کے درمیان فرق نماز ہے، لہذا جس نے اس کو چھوڑا اس نے شرک کیا۔ ‘‘
( جامع الترمذی ،ابواب الایمان ، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ ،ا لحدیث: ۲۶۲۰ ،۱۸ ۲۶،ص۱۹۱۶،بدون ’’ من ترکہافقد أشرک ‘‘ )
{15}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ جس کی نماز نہیں اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں اور جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں ۔ ‘‘ ( کنزالعمال،کتاب الصلاۃ ، التر ھیب عن ترک الصلاۃ،الحدیث: ۱۹۰۹۴،ج۷ ، ص۱۳۳)
{16}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جس کی امانت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں ، جس کی طہارت نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس کی نماز نہیں اس کا کوئی دین نہیں کیونکہ نماز کا دین میں وہی مقام ہے جو سر کا جسم میں ہے۔ ‘‘ ( المعجم الاوسط ، الحدیث ۲۲۹۲، ج۱ ، ص ۶۲۶)
{17}…حضرت سیدنا ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ میرے خلیل صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے وصیت فرمائی کہ ’’ کسی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شریک نہ ٹھہرانا اگرچہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا جلا دیا جائے، فرض نماز جان بوجھ کر نہ چھوڑنا کیونکہ جو جان بوجھ کر نماز چھوڑ دیتا ہے اس سے امان اٹھا لی جاتی ہے اور شراب ہرگز نہ پینا کیونکہ یہ ہر برائی کی جڑ ہے۔ ‘‘
( سنن ابن ماجہ ،ابواب الاشربۃ ، با ب الخمر مفتا ح کل شر، الحدیث ۴۰۳۴، ص۲۷۲۰)
{18}…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا ارشاد فرماتے ہیں کہ جب میری آنکھوں کی سیاہی باقی رہنے کے باوجود میری بینائی جاتی رہی تو مجھ سے کہا گیا : ’’ ہم آپ کا علاج کرتے ہیں کیا آپ کچھ دن نماز چھوڑ سکتے ہیں ؟ ‘‘ تو میں نے کہا : ’’ نہیں ، کیونکہ دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جس نے نماز چھوڑی تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب فرمائے گا۔ ‘‘ ( مجمع الزوائد،کتاب الصلاۃ،باب فی تارک الصلاۃ،الحدیث: ۱۶۳۲،ج ۲،ص ۲۶)
{19}…ایک شخص نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی ’’ یارسول اللہ عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے میں کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ کسی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شریک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تمہیں عذاب دیا جائے یا جلا دیا جائے، اپنے والدین کی اطاعت کرو اگرچہ وہ تمہیں مال اور تمہاری ہر چیز سے محروم کر دیں اور جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑو کیونکہ جو جان بوجھ کرنماز چھوڑتا ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع