30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{21}… امام طبرانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس روایت کی ابتداء میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے : ’’ سب سے بدترین گھر حمام ہیں ان میں آوازیں بلند کی جاتی ہیں اور بے پردگی کی جاتی ہے۔ ‘‘ (المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۰۹۲۶،ج۱۱،ص۲۱)
{22}…حمص یا شام کی کچھ عورتیں اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے ان سے پوچھا: ’’ کیا تم وہی ہو جن کی عورتیں حمام میں جاتی ہیں ؟ میں نے خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ اپنے کپڑے اتارتی ہے تو وہ اپنے اور اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان کا پردہ پھاڑ ڈالتی ہے۔ ‘‘ (جامع الترمذی،ابواب الادب،باب ماجاء فی دخول الحمام، الحدیث: ۲۸۰۳،ص۱۹۳۳)
{23}…ایک اور روایت میں ہے کہ ایسا ہی ایک واقعہ اُم المؤمنین حضرت سیدتنا اُم سلمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے بھی پیش آیا جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا ان سے مخاطب ہوئیں تو ارشاد فرمایا : ’’ (کیا تم وہی عورتیں ہو جو حمام میں جاتی ہو؟) حالانکہ حمام میں حرج ہے؟ میں نے شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو عورت اپنا لباس اپنے گھر کے علاوہ کہیں اُتارتی ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے اپنی رحمت کا پردہ ہٹادیتا ہے۔ ‘‘ (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث اُم سلمہ،الحدیث: ۲۶۶۳۱،ج۱۰،ص۱۹۱)
{24}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ پردہ کئے بغیر حمام میں داخل نہ ہواور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنی بیوی یا لونڈی کو حمام میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے۔ ‘‘ (المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث: ۱۴۶۵۷،ج۵،ص۱۰۱)
{25}…اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ انہوں نے سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے حمام کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب میرے (وصالِ ظاہری کے) بعد حمام ہوں گے اور عورتوں کے لئے حمام میں کوئی بھلائی نہیں ۔ ‘‘ پھر انہوں نے عرض کی : ’’ یارسول اللہ عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! عورتیں اِزار پہن کر حمام میں داخل ہوتی ہیں ۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ نہیں ، اگرچہ ازار، قمیص اور اوڑھنی اوڑھ کر داخل ہوں اور جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ اپنی اوڑھنی اتارتی ہے وہ اپنے اور رب عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان کا پردہ کھول دیتی ہے۔ ‘‘ (المعجم الاوسط،الحدیث: ۳۲۸۶،ج۲،ص۲۷۹)
{26}…رحمتِ کونین، ہم غریبوں کے دل کے چین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ عنقریب تم ایسے علاقے فتح کرو گے کہ جن میں ایسے گھر ہوں گے جن کو حمام کہا جاتا ہو گا، میری اُمت پر ان میں داخل ہونا حرام ہے۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان نے عرض کی : ’’ یارسول اللہ عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! وہ تو مرض کو دور کرتے ہیں اور میل کچیل کو صاف کرتے ہیں ۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ (توپھر) چادر میں جانا میری اُمت کے مردوں پر حلال اور عورتوں پر حرام ہے۔ ‘‘
(المعجم الکبیر، الحدیث: ۶۷۱،ج۲۰،ص۲۸۴)
{27}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں داخل نہ ہو، جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت کے دن پرایمان رکھتا ہے وہ اپنی بیوی کو حمام میں جانے کی اجازت نہ دے، جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت کے دنپر ایمان رکھتا ہے وہ شراب نہ پئے، جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اس دسترخوان پر بھی نہ بیٹھے جس پر شراب پی جاتی ہو اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت کے دنپر ایمان رکھتا ہے وہ کسی اجنبی عورت سے تنہائی میں نہ ملے جس سے ا س کا محرم ہونے کا رشتہ نہ ہو۔ ‘‘ (المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۱۴۶۲،ج۱۱،ص۱۵۳،بتغیرٍ قلیلٍ)
{28}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ حمام ایسا گھر ہے جہاں پردہ نہیں ہوتا اور نہ ہی پانی پاک ہوتا ہے، کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ کپڑا باندھے بغیر اس میں داخل ہو، مسلمانوں کو حکم دو کہ وہ اپنی عورتوں کو آزمائش میں نہ ڈالیں :
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ (پ۵، النسآئ: ۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان : مرد افسر ہیں عورتوں پر۔
عورتوں کوسکھاؤ اور تسبیح کرنے کا حکم دو۔ ‘‘ (شعب الایمان،باب الحیائ،فصل فی الحمام ،الحدیث: ۷۷۷۳،ج۶،ص۱۵۸)
{29}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ حمام بہت ہی برے گھر ہیں ان میں (بیہودہ) آوازیں بلند ہوتی ہیں اور شرمگاہیں ظاہر ہوتی ہیں ۔ ‘‘
(کنزالعمال،کتاب الطہارۃ،قسم الاقوال،فصل فی دخول الحمام،الحدیث: ۲۶۶۱۲،ج۹،ص۱۶۹)
{30}…سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میری اُمت کے مردوں کو حکم دیا ہے کہ وہ حمام میں بغیر چادر کے داخل نہ ہوں اور عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ تو ہر گز ان میں داخل نہ ہوں ۔ ‘‘
(المرجع السابق،الحدیث: ۲۶۶۱۴)
{31}…شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ سب سے برے گھر حمام ہیں کہ ان میں (بیہودہ) آوازیں بلند ہوتی اور شرمگاہیں کھلتی ہیں ، لہذا جو ان میں داخل ہو تو وہ بغیر پردے کے داخل نہ ہو۔ ‘‘
(المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۰۹۲۶،ج۱۱،ص۲۱)
{32}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ جو بغیر پردے کے حمام میں داخل ہو گا اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور ملائکہ کی لعنت ہو گی۔ ‘‘ (جامع الصغیر،الحدیث: ۸۶۶۱،ص۵۲۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع