30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ (پ ۲۵،الزخرف: ۵۵)
ترجمۂ کنزالایمان: پھرجب انہوں نے وہ کیا جس پر ہمارا غضب ان پر آیا۔
{۲}
فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِىٕیْنَ (۱۶۶) (پ ۹،الاعراف : ۱۶۶)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے ۔
{۳}
وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ (پ ۲۲،فا طر: ۴۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر اللہ لوگوں کواُن کے کئے پر پکڑتا تو زمین کی پیٹھ پرکوئی چلنے والا نہ چھوڑتا۔
{۴}
وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِـعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ (۱۱۵) ( پ ۵،النسآء : ۱۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بر ی جگہ پلٹنے کی
{۵}
مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ-وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا (۱۲۳) (پ ۵، النسآء : ۱۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان : جو برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائے گا نہ مدد گار۔
اس ضمن میں اور بھی بہت سی آیات پیش کی جا سکتی ہیں (مگر انہی کو کافی سمجھتے ہوئے اب اس ضمن میں مروی احادیث مبارکہ پیش کی جائیں گی) ۔
{47}…اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کچھ فرائض مقرر کئے ہیں لہٰذا تم انہیں ہرگز ضائع نہ کرو، کچھ حدیں قائم کی ہیں تم ہرگزان سے نہ گزرو، کچھ چیزیں حرام کی ہیں انہیں ہرگز ہلکا نہ جانو اور اس نے تم پر رحمت فرماتے ہوئے دانستہ کچھ چیزوں سے سکوت فرمایاہے لہٰذا ان کی جستجونہ کرو۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی، کتاب الرضاع، الحدیث: ۴۳۵۰،ج۴،ص۲۱۷)
{48}… شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ غیور ہے اور مؤمن بھی غیرت مند ہے جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی غیرت اس بات پر ہے کہ بندۂ مؤمن اس کے حرام کردہ عمل میں پڑے۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، باب غیرۃ اللہ تعالیٰ …الخ،الحدیث: ۶۹۹۵،ص۱۱۵۶)
{49}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں اسی لئے اس نے پوشیدہ اور ظاہر بدکاریوں کو حرام کردیا ہے اور اس سے بڑھ کر اپنی تعریف کو پسند کرنے والابھی کوئی نہیں ۔ ‘‘ (المرجع السابق،الحدیث۶۹۹۳)
{50}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مؤمن جب گناہ کرتاہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتاہے پھر اگر وہ توبہ کرے اوربخشش چاہے تو اس کا دل صاف ہوجاتاہے اوراگر توبہ نہ کرے تو وہ نکتہ پھیلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو گھیر لیتاہے ۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ ،ابواب الزہد،باب ذکر الذنوب،الحدیث : ۴۲۴۴،ص۲۷۳۴)
یعنی وہ سیاہ نکتہ پورے دل کو ڈھانپ لیتا ہے اور یہ وہی زنگ ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی کتاب میں اس طرح ذکر فرمایا ہے:
كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ (۱۴) (پ۳۰،المطففین: ۱۴)
ترجمۂ کنزالا یمان : کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے۔
{51}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا معا ذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو یمن کی طرف بھیجتے وقت ارشاد فرمایا: ’’ مظلوم کی بددعا سے بچتے رہنا کیونکہ اس کے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔ ‘‘ (صحیح البخاری ،کتاب الزکاۃ ، باب اخذ الصدقۃ من الاغنیاء …الخ،الحدیث: ۱۴۹۶،ص۱۱۸)
{52}… حضرت سیدنا انس بن مالک کی والدہ حضرت سیدتنا اُم سُلیم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا نے عرض کی : ’’ یارسول اللہ عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! مجھے کچھ وصیت فرمائیے۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ گناہوں سے ہجرت کر لو (یعنی انہیں چھوڑ دو) کیونکہ یہ سب سے افضل ہجرت ہے، فرائض کی پابندی کرتی رہو کیونکہ یہ سب سے افضل جہاد ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کثرت سے ذکر کرتی رہو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں کوئی بندہ ذکر سے زیادہ پسندیدہ شے لے کر حاضر نہیں ہوسکتا ۔ ‘‘
(المعجم الکبیر،الحدیث: ۳۱۳،ج۵،ص۱۲۹، ’’ لایأتی العبد ‘‘ بدلہ ’’ لا تأتی اللہ ‘‘ )
{53}…حضرت سیدنا ابو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے عرض کی : ’’ یارسول اللہ عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! کون سی ہجرت (یعنی ہجرت والے) افضل ہیں ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جو گناہوں سے ہجرت کرتے ہیں ۔ ‘‘ (صحیح ابن حبّان ،کتاب البر والصلۃ،باب ذکر الاستحباب للمرئ…الخ،الحدیث: ۳۶۲،جٍ۱،ص۲۸۷)
اور بھی بہت سی احادیث اس معنی پر دلالت کرتی ہیں ،چنانچہ حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع