دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (۸۸)   (پ۱۴، الحجر: ۸۸)

ترجمۂ کنز الایمان : اورمسلمانوں کواپنے رحمت کے پروں میں لے لو۔

{1}… حضرت سیدنا انس اورحضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے، خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ ذیشان ہے :  ’’ جس نے میرے کسی ولی کی توہین کی بے شک اس نے میرے ساتھ جنگ کا اعلان کیا مجھے کسی کام میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا اس مومن بندے کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے جو موت کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اپنے بندے کو تکلیف دینے کو ناپسند جانتا ہوں مگر اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ، میرا مؤمن بندہ دنیا سے بے رغبتی جیسے کسی اور عمل سے میرا قرب حاصل نہیں کرسکتا اور میرے فرض کردہ احکام کی بجاآوری جیسی میری کوئی دوسری عبادت نہیں کر سکتا۔ ‘‘       (کنزالعمال،کتاب الایمان والاسلام، قسم الاقوال،الحدیث:  ۱۶۷۶،ج۱،ص۲۰۰،بتقدم وتأخر)

{2}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :  ’’ جس نے میرے کسی ولی سے عداوت رکھی میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کروں گا ، میرے کسی بندے نے میرے فرض کردہ احکام کی بجاآوری سے زیادہ محبوب شے سے میرا قرب حاصل نہیں کیا اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو  مَیں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا فرماتا ہوں اور اگر کسی چیز سے میری پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ عطا فرماتا ہوں ۔ ‘‘             (صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب التواضع،الحدیث:  ۶۵۰۲،ص۵۴۵)

{3}…حضرت ابوسفیان حضرت سیدنا سلمان، حضرت سیدنا صہیب اورحضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م کے گروہ کے پاس آئے تو ان حضرات رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م نے ان سے کہا :  ’’ ابھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی تلواروں نے اس کے دشمنوں سے اپنا پورا حق وصول نہیں کیا۔ ‘‘   (کیونکہ ابوسفیا ن اس وقت مسلمان نہ ہوئے تھے)  تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ کیا یہ بات تم قریش کے بزرگ اور ان کے سردار سے کہہ رہے ہو؟ ‘‘  پھر جب حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نبی ٔکریم،رء ُوف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کی خبر دی تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اے ابوبکر!  شاید تم نے انہیں ناراض کر دیا ہے اگر تم نے انہیں ناراض کر دیا ہے تو بے شک اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کو ناراض کر دیا۔ ‘‘  لہٰذا حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ان تین صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کے پاس تشریف لائے اور ان سے اِستفسار فرمایا:  ’’ اے میرے بھائیو!  کیا تم مجھ سے ناراض ہو؟ ‘‘  انہوں نے عرض کی :  ’’ اے بھائی !  نہیں ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تمہاری مغفرت فرمائے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل سلیمان وبلال وصہیب ،الحدیث:  ۶۴۱۲،ص۱۱۱۸)

                فقراء خصوصاً ایمان لانے میں سبقت لانے والے فقراء صحابہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م کے احترام کی عظمت کا اندازہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے اُس فرمان سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب مشرکین نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ان فقراء صحابہ کے پاس بیٹھنے سے جدا کرناچاہا اور کہا :  ’’ انہیں چھوڑ دیجئے کیونکہ ہم اس بات کوپسند نہیں کرتے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے ساتھ بیٹھیں اور اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں چھوڑ دیا تو قریش کے معزز سردار آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لے آئیں گے۔ ‘‘  تواللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:  

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-  (پ۷، الانعام: ۵۲)

ترجمۂ کنز الایمان : اور دور نہ کروانہیں جواپنے رب کوپکارتے ہیں صبح اورشام اس کی رضا چاہتے۔

                جب کفار اس بات سے مایوس ہو گئے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان فقراء صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کو خود سے دور نہیں کریں گے تو انہوں نے مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے درخواست کی :  ’’ ایک دن ہمارے لئے مقرر فرما دیں اور ایک دن ان کے لئے۔ ‘‘  اس پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی:

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْۚ-تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-  (پ۱۵، الکہف: ۲۸)

ترجمۂ کنز الایمان : اوراپنی جان ان سے مانوس رکھوجوصبح وشام اپنے رب کوپکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں اورتمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اورپرنہ پڑیں کیاتم دنیا کی زندگانی کا سنگار چاہو گے۔

                یعنی ان سے منہ پھیر کراور اپنی نظرِکرم نہ فرما کر ان پر زیادتی نہ کیجئے اور دنیا پرست لوگوں کی صحبت کو طلب نہ کیجئے۔

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ- فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْۙ-  (پ۱۵، الکھف: ۲۹)

ترجمۂ کنز الایمان : اورفرمادوکہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے توجوچاہے ایمان لائے اورجوچاہے کفرکرے۔

{۱}پھران کے لئے اپنے اس فرمان سے غنی اور فقیرکی مثال بیان فرمائی:

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ (۳۲) كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْــٴًـاۙ-وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ (۳۳)   (پ۱۵، الکھف: ۳۲،۳۳)

ترجمۂ کنز الایمان : اوران کے سامنے دومردوں کا حال بیان کرو کہ ان میں ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیئے اور ان کو کھجوروں سے ڈھانپ لیا اور ان کے بیچ میں کھیتی رکھی۔ دونوں باغ اپنے پھل لائے اور اس میں کچھ کمی نہ دی اور دونوں کے بیچ میں ہم نے نہر بہائی۔

{۲}

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌۚ-فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا (۳۴) وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖۚ-قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ (۳۵) وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىٕمَةًۙ-وَّ لَىٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا (۳۶)   (پ۱۵،الکھف۳۴تا۳۶)

ترجمۂ کنز الایمان : اور وہ پھل رکھتا تھا تواپنے ساتھی سے بولا اور وہ اس سے ردوبدل کرتا تھا میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اورآدمیوں کا زیادہ زور رکھتا ہوں ۔اپنے باغ میں گیا اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا بولا مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فنا ہو۔ اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو اور اگر میں اپنے رب کی طرف پھر گیا بھی تو ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گا۔

{۳}

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ (۳۷) لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا (۳۸) وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُۙ-لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِۚ-اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ (۳۹) فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ (۴۰)   (پ۱۵، الکھف: ۳۷تا۴۰)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن