30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بغداد،باب اللام الف، الحدیث: ۷۴۴۳،ج۱۴،ص۱۰۲۔۱۰۳)
{44}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگارعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکوئی کام کرنا چاہتا ہے تو وہ کام کرنے تک لوگوں کی عقلیں چھین لیتا ہے پھر جب وہ کام ہو جاتا ہے تو ان کی عقلیں لوٹا دیتا ہے اور صرف ندامت باقی رہ جاتی ہے۔ ‘‘ (کنزالعمال،کتاب الایمان والاسلام، باب الفصل السادس فی الایمان بالقدر،الحدیث: ۵۰۷،ج۱،ص۷۰)
{45}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرما لے تو کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب النکاح،باب حکم العزل،الحدیث: ۳۵۵۴،ص۹۲۰)
{46}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ عمل کرو کیونکہ جسے جس کا م کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کے لئے وہ کام آسان ہوتا ہے، عمل کرو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہ کام آسان ہے جس کی اسے قول سے ہدایت دی گئی ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّجسے دوٹھکانوں یعنی جنت اور جہنم میں سے کسی ایک کے لئے پیدا فرماتاہے اسے اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ ‘‘ (المعجم الاوسط،الحدیث: ۴۸۷۸،ج۳،ص۳۷۶) (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند البصریین،الحدیث: ۱۹۹۵۶،ج۷،ص۲۱۷)
{47}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ ہر شخص کو جس کام کے لئے پیدا کیا گیا اس کے لئے وہ کام آسان ہوتا ہے۔ ‘‘ (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث ابی الدرداء عویم،الحدیث: ۲۷۵۵۷،ج۱۰،ص۴۱۷)
{48}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جو شخص جس کام کے لئے پیدا کیاگیا اس کے لئے وہ کام آسان ہے۔ ‘‘ (صحیح البخاری، کتاب التوحید،باب قول اللہ تعالیٰ ولقدیسرناالقرآن…الخ،الحدیث: ۷۵۵۱،ص۶۳۰)
{49}…حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایک قوم (کے لوگوں ) پر احسان فرمایا تواُنہیں بھلائی کاالہام فرما کر اپنی رحمت میں داخل کر لیا اور ایک قوم (کے لوگوں ) کو آزمائش میں مبتلا فرما کررُسوا کیا اوراُن کے برے کاموں پر ان کی مذمت فرمائی ، جب وہ اس آزمائش سے نکلنے میں کامیاب نہ ہوئے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں عذاب میں مبتلا فرما دیا اوریہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ان کے بارے میں عدل ہی ہے۔ ‘‘ (جمع الجوامع ، قسم الاقوال،الحدیث: ۵۴۷۵،ج۲،ص۲۹۱)
{50}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّآسمان وزمین والوں کو عذاب میں مبتلا فرما دے تب بھی وہ انہیں عذاب دیتے وقت ظالم نہ ہو گا اور اگر ان پر رحم فرمائے تو اس کا ان پر رحم فرمانا ان کے اعمال سے بہتر ہے، اور اگر تم اُحد پہاڑ جتنا سونا راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں خرچ کرو تو جب تک تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ وہ تمہارا یہ عمل ہر گز قبول نہ فرمائے گا، لہٰذا یقین کر لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچنے والا ہے وہ ہر گز تم سے خطا نہ کرے گا، اور جو تم سے خطا ہونے والاہے وہ ہر گز نہ تمہیں پہنچے گا اور اگر تم اس طریقے کے علاوہ مروگے (یعنی تقدیر پر تمہارا ایمان نہ ہو گا) تو جہنم میں داخل ہو گے۔ ‘‘
(سنن ابی داؤد،کتاب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث: ۴۶۹۹،ص۱۵۶۸)
{51}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہر جاندار نفس کا جنت یا جہنم میں ٹھکانا لکھا ہوا ہے، اورسن لو! یہ بھی لکھا ہے کہ وہ خوش بخت ہے یا بدبخت۔ ‘‘ عرض کی گئی ’’ توکیا پھر ہم توکل نہ کریں ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ نہیں ، بلکہ عمل کرو تقدیر ہی پر تکیہ نہ کرو کیونکہ جسے جس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کے لئے وہ کام آسان ہوتا ہے، سعادت مندوں کے لئے سعادت والے کام آسان ہیں جبکہ بدبختوں کے لئے بدبختی والے کام آسان ہیں ۔ ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الجنائز ، باب موعظۃالمحدث…الخ،الحدیث: ۱۳۶۲،ص۱۰۶) (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث: ۷۸،ص۲۴۸۲)
{52}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جو تقدیر کے بارے میں کوئی بات کرے گا اس سے بروزِ قیامت اس کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور جو تقدیر کے بارے میں بات نہ کرے گا اس سے نہیں پوچھا جائے گا۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث: ۸۴،ص۲۴۸۲)
{53}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ طاقتور مؤمن بہتر ہے اور کمزور مؤمن کے مقابلے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکوزیادہ پسندہے اور ہر بھلائی کے معاملے میں اپنے لئے زیادہ نفع بخش چیز کو اختیار کرو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مدد چاہواور مدد مانگنے سے عاجز نہ آؤ، اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو: ’’ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوتا۔ ‘‘ بلکہ یہ کہو : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایسا ہی لکھاتھا اور اس نے جو چاہا وہی کیا۔ ‘‘ کیونکہ: ’’ اگر ‘‘ کا لفظ شیطانی عمل کی ابتداء کرتا ہے۔ ‘‘
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب الایمان بالقدر…الخ،الحدیث: ۶۷۷۴،ص۱۱۴۲)
{54}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اچھی، بری تقدیر پر ایمان نہ لے آئے، اس بات پر یقین نہ کرے کہ اسے جو مصیبت پہنچنے والی ہے وہ اس سے خطا نہ ہو گی اور جو اس سے خطا ہونے والی ہے وہ اسے نہیں پہنچ سکتی۔ ‘‘ (جامع الترمذی، ابواب القدر،باب ماجاء ان الایمان بالقدرخیر…الخ،الحدیث: ۲۱۴۴،ص۱۸۶۷)
{55}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوہریرہ! جو کچھ تمہیں پہنچنے والا ہے وہ لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے۔ ‘‘
(صحیح البخاری، کتاب النکاح،باب مایکرہ من التبتل…الخ،الحدیث: ۵۰۷۶،ص۴۳۹)
{56$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع