30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہونے اور معتزلہ کے مذہب کے بطلان پرصریح دلالت کرتی ہے۔
یہاں پر حسبِ عادت رفع کی دلیل کے ضعیف ہونے کی وجہ سے علامہ زمخشری کے تعصب میں شدت پیدا نہیں ہوئی بخلاف اس قوم کے جس کا گمان ہے : ’’ اختیار سے مراد صناعت ہے۔ ‘‘ بلکہ بعض کا گمان ہے : ’’ عربی میں یہی طریقہ ہے۔ ‘‘ حالانکہ یہ درست نہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس سے فعل کا مطالبہ کیا جاتا ہے، لہٰذا صناعت کے اعتبار سے بھی نصب ہی مختار ہے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہم یہاں مرفوع پڑھنا تسلیم کر بھی لیں تب بھی اس میں معتزلہ کے لئے کوئی دلیل نہیں کیونکہ خلقناہ جس طرح کل کا وصف ہونے کااحتمال رکھتاہے اسی طرح خبر ہونے کا احتمال بھی رکھتا ہے، اور یہ دونوں خبریں ہیں تویہ وہ افادات ہیں جو عموم کی صورت میں نصب کا فائدہ دیتے ہیں تو جب عموم اور غیرِ عموم کا احتمال پیدا ہو گیا تو اس بات پر دلالت نہ رہی اور عَلیٰ سَبِیْلِ التَّنَزُّل اگر اسے صفت تسلیم کر بھی لیا جائے تب بھی امر کی غایت یہی ہو گی کہ اس سے وہی مفہوم حاصل ہو گا جسے معتزلہ اور اہلسنّت دونوں کے مذہب پر محمول کرنا ممکن ہے کیونکہ ہمارے نزدیک جو مخلوق نہیں وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات ہے، اور آیتِ مبارکہ کا یہی مفہوم ہے تو ایسی صورت میں اس بات پر کون سی دلیل ہے کہ اس آیت سے اس معنی کے علاوہ کوئی اور معنی مفہوم یعنی سمجھا جاتا ہو؟ حالانکہ مفہوم کی دلالت تو نہایت ہی ضعیف ہوتی ہے کیونکہ جب ظنیات میں مفہوم کے حجت ہونے میں اختلاف ہے تو آپ کا قطعیات کے بارے میں کیا خیال ہے؟
علمِ عربی کے لطائف میں سے یہ بھی ہے کہ یہ اس کی جلالت پر دلالت کرنے کے ساتھ ساتھ اس آیت میں رفع اور نصب دونوں اعراب پڑھنے اوراگلی آیت یعنیکُلُّ شَیْئٍ فَعَلُوْہُ فِی الذُّبُرِمیں صرف رفع پڑھنے کی صورت میں کچھ دقیق معانی بھی سمجھا دیتا ہے کیونکہ اگر یہاں کل پر نصب پڑھا جائے تو معنی فاسد ہو جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں معنی یہ ہو گا : ’’ انہوں نے ہر وہ کام کیا جو صحیفوں میں ہے۔ ‘‘ جو کہ خلاف واقع ہے کیونکہ بہت سی ایسی چیزیں بھی صحیفوں میں ہیں جو انہوں نے نہیں کیں جبکہ رفع کی صورت میں معنی یہ ہو گا : ’’ انہوں نے جوکام بھی کیا ہے وہ صحیفوں میں لکھ دیا گیا ہے۔ ‘‘ جو کہ واقع کے عین مطابق ہے۔
اہلِ سنت کہتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اشیأ کو مقدّر فرما دیا یعنی ان کی تقدیریں ، ان کے احوال، زمانوں اور ان کے وجود میں آنے سے پہلے ان پر آنے والے احوال کو جان لیا، پھر اپنے سابقہ علم کی بناء پرانہیں وجود بخشا لہٰذا عالم علوی اورسفلی میں جو چیز بھی پیدا ہوگی فقط اس کے علم، قدرت اورارادے ہی سے وجود میں آئے گی۔اوران انواع میں بندوں کے لئے کوئی کسب، محاولہ، اورنسبت واضافت نہیں اوریہ تمام چیزیں تو مخلوق کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے آسانی میسر کرنے، اس کی قدرت اور الہام سے حاصل ہوئی ہیں جیسا کہ کتاب وسنت اس پر دلالت کرتے ہیں ، ایسا نہیں جیسا قدریہ وغیرہ افترأ کرتے ہیں کہ اعمال تو ہمارے ہاتھ میں ہیں جبکہ ان کا انجام غیر کے ہاتھ میں ہے۔
{9}…جب سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی گئی : ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہم پر گناہ لکھ دیئے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی وجہ سے عذاب بھی ہو گا؟ ‘‘ توآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ قیامت کے دن تم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مخالف ہو گے۔ ‘‘ (تفسیر قرطبی، سورۃ القمر،تحت الآ یت ۴۸،ج۹،الجز۱۷، ص۱۰۹)
{10}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تقدیر کے منکر اس اُمت کے مجوسی ہیں ، جب وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت نہ کرو، مر جائیں تو ان کے جنازے میں نہ جاؤ اور جب ان سے ملو تو انہیں ہر گز سلام نہ کرو۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب فی القدر، الحدیث: ۹۲،ص۲۴۸۳)
{11}…حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس اور حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ م سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ میری اُمت میں دوگروہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ، وہ مُرْجِئَہ اور قَدْرِیَہہیں ۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب فی الایمان، الحدیث: ۷۳،ص۲۴۸۱)
مُرْجِئَہ وہ لوگ ہیں جوکہتے ہیں : ’’ ایمان کی موجودگی میں کوئی گناہ نقصان نہیں دیتاجیسے کفر کی صورت میں کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی۔ ‘‘ اور قَدْرِیَہ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکا مخالف اس لئے کہا گیا کیونکہ وہ اس بات میں جھگڑ تے ہیں کہ بندوں پر گناہ مقدّر کر دینے کے بعد اس گناہ کے سبب انہیں عذاب دینا جائز نہیں ۔
{12}…حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن مخلوق کو جمع (کرنے کا ارادہ) فرمائے گا تو ایک منادی کو اعلان کرنے کا حکم دے گا، وہ ایسی آواز سے اعلان کرے گا کہ جسے اگلے پچھلے سب سن لیں گے، وہ کہے گا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مخالفین کہا ں ہیں ؟ ‘‘ تو قَد ْرِیَہ کھڑے ہوں گے، پھر انہیں جہنم میں لے جانے کا حکم ہو گا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:
ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ (۴۸) اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ (۴۹) (پ۲۷، القمر: ۴۸۔۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اورفرمایا جائے گا چکھودوزخ کی آنچ بے شک ہم نے ہرچیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔
(تفسیر الخازن ، سورۃ القمر،فصل فی سبب النزول ،آیت،۴۹،۵۰،۵۱،ج۴،ص۲۰۶)
{13}…سیدناامام طبرانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے معجم الاوسط میں یہ روایت ان الفاظ سے نقل کی ہے : ’’ قیامت کے دن ایک منادی ندا دے گا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مخالفین کھڑے ہو جائیں اور وہ قَد ْرِیَہ ہوں گے۔ ‘‘ (المعجم الاوسط، الحدیث: ۶۵۱۰ ، ج ۵ ، ص ۹ ۳ )
{14}…اسی لئے حضرت سیدنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا : ’’ اگر کوئی قدری اتنے روزے رکھے کہ سوکھ کر رسی کی طرح ہو جائے اور پھر اتنی نمازیں پڑھے کہ کمان کی طرح ٹیڑھا ہو جائے تب بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے منہ کے بل جہنم میں ڈالے گا اور اس سے کہا جائے گا:
{۱}
ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ (۴۸) اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ (۴۹) (پ۲۷،القمر: ۴۸۔۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اورفرمایا جائے گا چکھودوزخ کی آنچ بے شک ہم نے ہرچیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔
{۲}
وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ (۹۶) (پ۲۳، الصّٰٓفّٰت: ۹۶)
ترجمۂ کنز الایمان : اوراللہ نے تمہیں پیدا کیا اورتمہارے اعمال کو۔
یعنی تمہیں اورتمہارے اعمال کو پیدا کیا یا مراد یہ ہے کہ تم اپنے ہاتھ سے جو عمل کرتے ہوانہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی نے پیدا فرمایا ہے، اس میں اس بات پر دلیل ہے : ’’ بندوں کے تمام افعال اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے پیدا کردہ ہیں چنانچہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع