دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

۵۷۱۹،ج۷،ص۵۰۱،بتغیر قلیل)

فرقۂ قدریہ کی پہچان اور ان کی مذمت

                بعض مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیارشاد فرماتے ہیں کہ جَبرِیہ  فرقے کا کہنا ہے :  ’’ جو یہ کہے کہ نیکی اور گناہ میرے اپنے فعل سے ہے وہ قدری ہے کیونکہ وہ تقدیرکامنکرہے۔ ‘‘  جبکہ معتزلہ کا کہناہے :  ’’ جَبرِیہ فرقہ ہی قدری ہے کیونکہ اس فرقے کا کہنا ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ پر خیر وشر مقدر فرمایا ہے، تو چونکہ یہ تقدیر کو ثابت کرتا ہے لہٰذا یہ قدری ہے۔ ‘‘  جبکہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں :  ’’ جوسُنِّیاس بات کا قائل ہو کہ افعال اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق ہیں جبکہ کسب بندے کی جانب سے ہوتاہے وہ قدری نہیں ۔ ‘‘                              (سنن ابن ماجۃ،کتاب السنۃ،باب من کان مفتاحاللخیر،الحدیث:  ۲۳۸، ص ۲۴۹۲)

                اگر یہ بات درست ہو تو اس میں جہنم کی طرف جاتے ہوئے معتزلہ کے عَلمبردار علامہ ز مخشری کا بھی رد ہے کہ جس نے اپنے گمان میں بہت سے مقامات پر کہا ہے :  ’’ قَد ْرِیَہہی اہلسنت ہیں ۔ ‘‘  حالانکہ یہ اس کی کذب بیانی اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّوسیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اور ان کے صحابہ وتابعین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م اجمعین پر بہتان ہے، اور اسے اس بہتان پر اس کے خبیث عقیدے اور عقل کی خرابی نے ہی ابھارا ہے، لہٰذا یہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس پر یہ آیاتِ مبارکہ پڑھی جائیں :

{۱}

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً  (پ۵،النسآء: ۸۹)

 ترجمۂ کنز الایمان : وہ تویہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافرہو جاؤ جیسے وہ کافرہوئے توتم سب ایک سے ہوجاؤ۔

 {۲}

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا ۚۖ-حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ  (پ۱، البقرۃ: ۱۰۹)   

 

ترجمۂ کنز الایمان : بہت کتابیوں نے چاہا کا ش تمہیں ایمان کے بعد کفرکی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے۔

 {۳}

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ-فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا (۵۴) فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُؕ-وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا (۵۵)

  (پ۵، النسآء: ۵۴۔۵۵)

ترجمۂ کنز الایمان : یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ  نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتا ب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا اور کسی نے اس سے منہ پھیرا اور دوزخ کا فی ہے بھڑکتی آگ۔

                سیدناامام فخرالدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ حق یہ ہے کہ قدری اس شخص کو کہتے ہیں جو تقدیر کا انکار کرتا ہو اور حوادث کو ستاروں کے اتصال کی طرف منسوب کرے، کیونکہ قریش کے بارے میں مروی ہے کہ وہ تقدیر میں جھگڑتے تھے اور ان کا مذہب یہ تھا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے بندے کوا طاعت اور معصیت پر قدرت دی ہے، لہٰذا وہ مخلوق میں یہ صلاحیتیں پیدا کرنے پر قادر ہے اور فقیر کو کھانا کھلانے پر بھی قادر ہے، اسی لئے انہوں نے محتاجوں کو کھانا کھلانے کے معاملہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی قدرت کاانکارکرتے ہوئے یہ کہاتھا :

اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ ﳓ  (پ۲۳،یٰسٓ: ۴۷)  

ترجمۂ کنز الایمان :  کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ  چاہتا تو کھلا دیتا۔

{8}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قَدْرِیَہ اس اُمت کے مجوسی ہیں۔ ‘‘                                                        (سنن ابی داؤد،کتاب السنۃ،باب فی القدر،الحدیث: ۴۶۹۱،ص۱۵۶۷)

                اس حدیثِ پاک میں اگر اُمت سے مراد اُ مّتِ دعوت ہے تو اس سے مراد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیاتِ ظاہری کے مشرکین ہیں جو حوادث پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی قدرت کے منکر تھے۔ اس صورت میں معتزلہ اس میں داخل نہ ہوں گے، اور اگر اس سے اُمتِ اجابت مراد ہے تو اس صورت میں قَدْرِیَہ کی ا س اُمت کی طرف نسبت اسی طرح ہے جیسے پچھلی اُمتوں کی طرف مجوس کی نسبت ہے، کیونکہ شبہ کے اعتبار سے یہ تمام اُمتوں میں کمزور اور عقل کی مخالفت کے اعتبار سے سب سے سخت ہیں ۔ اسی طرح اس اُمت میں قَدْرِیَہ اوران کا مجوسی ہونا ان کے کفر پر جزم کو ختم نہیں کرتا، لہٰذا حق یہ ہے :  ’’ قدری اسی کو کہتے ہیں جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت کا انکارکرتاہے۔ ‘‘

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّکافرمان کلاشتغال کی بناء پر منصوب ہے اور قراء تِ شاذ میں اسے رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے مگر چونکہ یہ ایسی چیز کا وہم پیدا کرتا ہے جو اہلِ سنت کے نزدیک جائز نہیں لہٰذا اسے مرفوع پڑھنا مردود ہے، کیونکہ  (رفع دینے کی صورت  میں )  کل مبتدا ہے اور خلقنٰہاس کی یاشیء کی صفت ہے، اور بقدراس کی خبر ہے یعنی کل شیء ،خلق کے ساتھ موصوف ہے اور خلق اپنی ماہیت اور زمانہ میں تقدیر سے متصف ہے۔

                اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ جو چیز اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی پیدا کردہ نہیں وہ تقدیر سے نہیں اور یہی معتزلہ کا مذہب ہے کہ جو چیز اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق نہیں وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے علا وہ دوسروں کی مخلوق ہے جیسے انسان اپنے افعال کا خالق ہے، جبکہ اسے منصوب پڑھنے کی صورت میں جو کہ مجمع علیہ ہے یہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ہر شئے کو خلق فرمانے کے عموم کا افادہ کرتی ہے، کیونکہ تقدیر عبارت یہ ہے کہ ’’  انا خلقنا کل شی خلقناہ ‘‘  دوسرا ’’  خلقناہ ‘‘  پہلے خلقنا کی تفسیر اور تاکید ہے کسی شئے کی صفت نہیں ، کیونکہ صفت موصوف سے ماقبل شے میں عمل نہیں کرتی، اس لئے یہ  کلکے نصب کو ختم نہیں کر سکتی، لہٰذا یہ بات متعین ہو گئی کہ اس کا ناصب یعنی نصب دینے والا پوشیدہ ہے، اور یہ کہ دوسراخلقناہ پہلے کی تفسیر اور تاکید ہے، لہٰذا کل شیء اپنے تمام مخلوق کو شامل ہونے کے عموم پر باقی ہے اوربقدرحال ہے۔ یعنی ہم نے ہر چیز کواس حال میں پیداکیا ہے کہ وہ ہماری تقدیر سے ملی ہوئی ہے یا اپنی ذات وصفات کی مقدار میں ہماری تقدیر سے ملی ہوئی ہے اور یہی اہل سنت وجماعت کا مذہب ہے۔لہٰذا یہ آیتِ مبارکہ اہلِ سنت کے مذہب کے حق

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن