30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے لئے بدعتی کو مناظرہ یا دلائل سکھانا بھی جائز نہیں ، نہ ہی فریقین میں سے ایک کو دوسرے کا مال دبا لینے کے لئے حیلہ سکھانا جائز ہے اوراسی طرح جاہلوں کوگناہوں کے ارتکاب اور واجبات چھوڑنے کے طریقوں میں رخصتیں بیان کرنا بھی جائزنہیں ۔
{9}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امینعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ حق داروں سے علم روک کر ان پرظلم نہ کرو اور نااہلوں کو حکمت سکھا کر ان پر ظلم نہ کرو۔ ‘‘ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی،سورۃ البقرۃ،تحت الآیۃ: ۱۵۹،ج۱، ص۱۴۱)
{10}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ خنزیروں کے گلے میں موتیوں کے ہار نہ ڈالو۔ ‘‘ یعنی نا اہلوں کوفقہ نہ سکھاؤ۔ (تاریخ بغداد،الحدیث۴۹۰۷،ج۹،ص۳۵۶ )
(علامہ ابن حجرہیتمی علیہ رحمۃ اللہ الولیفرماتے ہیں ) کافرکے بارے میں جواحکام مذکورہوئے وہ ہمارے قواعد کے مطابق درست نہیں کیونکہ جس کافرکے اسلا م لانے کی اُمید ہو اسے ہمارے نزدیک قرآن سکھانا جائز ہے لہٰذا علم سکھانا بدرجۂ اَوْلیٰ جائز ہے۔
{11}… مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور نااہل کو علم سکھانے والا خنزیر کے گلے میں جواہرات، موتیوں اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے۔ ‘‘
(سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ ، باب فضل العلمائ…الخ ،الحدیث: ۲۲۴،ص۲۴۹۱)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
کبیرہ نمبر45: علم پرعمل نہ کرنا
{1}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدعا کیا کرتے تھے : ’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَایَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَایَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَاتَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَۃٍ لَایُسْتَجَابُ لَھَا۔ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ میں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جو عاجزی وانکساری نہ کرے، ایسے نفس سے جو سَیر نہ ہوتا ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ کی جا سکتی ہو تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعائ، باب فی الادعیہ، الحدیث: ۶۹۰۶،ص۱۱۵۰)
{2}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ قیامت کے دن ایک شخص کو لا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ ان کے گرد اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا اپنی چکی کے گرد گھومتا ہے، تو جہنمی اس کے گرد جمع ہو کر پوچھیں گے اے فلاں ! تجھے کیا ہوا؟ کیا تو ہمیں نیکی کی دعوت نہ دیتا تھا اور کیا توہمیں برائی سے منع نہ کرتا تھا؟ ‘‘ تو وہ کہے گا: ’’ میں تمہیں تو نیکی کی دعوت دیا کرتا تھا مگر خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا اور تمہیں تو برائی سے منع کرتا تھا مگر خود برائی میں مبتلا رہتا تھا۔ ‘‘ (صحیح البخاری ،کتاب بدء الخلق ،باب صفۃ النار وانھا مخلوقۃ،الحدیث: ۳۲۶۷،ص۲۶۴)
{3}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ زَبَانِیَۃ (جہنم پرمؤکل فرشتوں کی ایک جماعت) فاسق قاریوں کی طرف بت پرستوں سے بھی پہلے جائے گی تو وہ کہیں گے : ’’ کیا بت پرستوں سے پہلے ہم سے ابتداء کی جا رہی ہے ؟ ‘‘ تو ان سے کہا جائے گا: ’’ جاننے والے نہ جاننے والوں کی طرح نہیں ۔ ‘‘
(الترغیب والترہیب، کتاب العلم، باب الترہیب من ان یعلم…الخ،الحدیث: ۲۱۰،ج۱،ص۹۱)
حافظ منذری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں : اس حدیث پاک کے ’’ غریب ‘ ‘ہونے کے باجود اس کی ’’ شاہد ‘‘ موجود ہے اور ریاکاری کے بیان میں ایک صحیح روایت گزرچکی ہے کہ،
{4}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ قیامت کے دن سب سے پہلے اس شخص کو بلایا جائے گا جس نے قاری کہلانے کے لئے قرآن یاد کیا ہو گا۔ ‘‘ حدیث مبارکہ کے آخری الفا ظ یہ ہیں ’’ یہ تین شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں وہ پہلا گروہ ہوں گے جن کے ذریعے قیامت کے دن جہنم کو بھڑکایا جائے گا۔ ‘‘ (المرجع السابق)
{5}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جو قرآن پاک کی حرام کردہ اشیاء کو حلال سمجھے اس کا قرآن پاک پر ایمان ہی نہیں ۔ ‘‘ (جامع الترمذی، ابواب فضائل القرآن، باب من قرأ القرآن…الخ، الحدیث: ۲۹۱۸،ص۱۹۴۴)
{6}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ قیامت کے دن بندہ اس وقت تک قدم نہ ہٹاسکے گا جب تک اس سے یہ چارسوالات نہ کرلئے جائیں : (۱) اپنی عمرکن کاموں میں گزاری (۲) اپنے علم پر کتنا عمل کیا (۳) مال کس طرح کمایا اور کہاں خرچ کیا اور (۴) اپنے جسم کو کن کاموں میں بوسیدہ کیا۔ ‘‘
(جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب فی القیامۃ، الحدیث: ۲۴۱۷،ص۱۸۹۴)
{7}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار،باذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن بندہ اس وقت تک قدم نہ اُٹھا سکے گا جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرلیاجائے: (۱) عمر کن کاموں میں گزاری (۲) جوانی کن کاموں میں صرف کی (۳) مال کہا ں سے کمایا اور (۴) کہاں خرچ کیااور (۵) اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا۔ ‘‘
(المرجع السابق،الحدیث: ۲۴۱۶)
{8}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ کچھ جنتی لوگ جہنمیوں کی طرف جائیں گے تو ان سے پوچھیں گے تم جہنم میں کس وجہ سے داخل ہوئے، حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! ہم تو تمہاری ہی تعلیم سے جنت میں داخل ہوئے ہیں ۔ ‘‘ تو وہ کہیں گے ہم جو بات کہا کرتے تھے اس پر خود عمل نہیں کرتے تھے۔ ‘‘
(المعجم الکبیر،الحدیث: ۴۰۵،ج۲۲،ص۱۵۰)
{9}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جو بندہ لوگوں کووعظ ونصیحت کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے پوچھ گچھ ضرور فرمائے گا۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’ یہ ضرور پوچھے گا کہ تو نے اس وعظ سے کیا نیت کی تھی۔ ‘‘ (شعب الایمان،باب فی نشر العلم، الحدیث: ۱۷۸۷،ج
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع