30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جاتی ہیں اور نہ ہی اس نے سچے مؤمنین کے اخلاق اپنائے ہیں جیسا کہ
{۱} ان اوصاف کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی لاریب کتاب میں کچھ اس طرح کیا ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ (۲) الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ (۳) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ (۴) (پ۹،الانفال: ۲تا۴)
ترجمۂ کنزالایمان: ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں ۔وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں ۔یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لئے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی۔
{۲}
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ (۱) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ (۲) وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ (۳)وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ (۴) وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ (۵) اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ (۶) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ (۷) وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ (۸) وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ (۹) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ (۱۰) الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَؕ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (۱۱)
(پ۱۸، المؤمنون: ۱تا ۱۱ )
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں ۔اور وہ جو کسی بے ہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے۔ اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں ۔اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں ۔ اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں ،اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں ۔یہی لوگ وارث ہیں کہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
{۳}
اَلتَّآىٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآىٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ (۱۱۲) (پ۱۱،التوبۃ: ۱۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان: توبہ والے عبادت والے سراہنے والے روزے والے رکوع والے سجدہ والے بھلائی کے بتانے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدیں نگاہ رکھنے والے اور خوشی سناؤ مسلمانوں کو۔
{۴}
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (۶۳) وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا (۶۴) وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ﳓ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ (۶۵) اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا (۶۶) وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا (۶۷) وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ (۶۸) یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ (۶۹) اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (۷۰) وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا (۷۱) وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا (۷۲) وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا (۷۳) وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (۷۴) اُولٰٓىٕكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ (۷۵) خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا (۷۶) قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْۚ-فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ (۷۷) (پ۱۹،الفرقان: ۶۳تا۷۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اورجب جاہل ان سے بات کرتے ہیں توکہتے ہیں بس سلام، اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کیلئے سجدے اور قیام میں ، اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہم سے پھیر دے جہنم کا عذاب بیشک اس کا عذاب گلے کا غل (پھندا) ہے، بیشک وہ بہت ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ،اوروہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کوجس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا، بڑھایا جائے گا اس پر عذاب قیامت کے دن اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا، مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے، اور جو توبہ کرے اور اچھا کام کرے تو وہ اللہ کی طرف رجوع لایا جیسی چاہیے تھی، اور جوجھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب بیہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں ، اور وہکہ جب کہ انہیں ان کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو ان پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے، اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دے ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا، ان کو جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ انعام ملے گا بدلہ انکے صبر کا اور وہاں مجرے اور سلام کے ساتھ انکی پیشوائی ہو گی، ہمیشہ اس میں رہیں گے کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ، تم فرماؤ تمہاری کچھ قدر نہیں میرے رب کے یہاں اگر تم اسے نہ پوجوتوتم نے جھٹلایا تو اب ہو گا وہ عذاب کہ لپٹ رہے گا۔
جس شخص پر اپنے نفس کی حالت مشتبہ ہو جائے تو اسے ان آیاتِ کریمہ کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے اور پھرغورکرے کہ آیاان آیات میں مذکور اوصافِ حمیدہ مجھ میں پائے جاتے ہیں یا نہیں ،کیونکہ ان تمام اوصاف کا پایا جانا حسنِ اخلاق اور نہ پایا جانا بداخلاقی کی علامت ہے، اور بعض کا پایا جانا بعض عادات پر ہی دلالت کرتاہے نہ کہ مکمل اخلاقِ حسنہ پر۔
{105}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں ان تمام اخلاقِ حسنہ کو جمع فرما دیا ہے ’’ مؤمن اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ ‘‘
(البخاری،کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب …الخ،الحدیث: ۱۳،ص۳)
نیز مؤمن اپنے اسلامی بھائی کو ہمیشہ اپنے مہمان اور پڑوسی کی عزت کرنے کا ہی حکم دے گا اور اس کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ بات کرے گا تو صرف بھلائی کی، ورنہ خاموش رہے گا۔
{106}…نبی ٔ کریم،رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جب کسی مؤمن کو پروقار انداز میں خاموشی کا پیکر پاؤ تو اس کی قربت حاصل کیا کرو کیونکہ وہ (جب بھی بولے گا تو) صرف حکمت آموز باتیں ہی کہے گا۔ ‘‘
(احیاء علوم الدین،کتاب ریاضۃ النفس وتہذیب الاَخلاق،بیان علامات حسن الخلق،ج۳،ص۸۵،یلقی بدلہ ’’ یلقن ‘‘ )
{107}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی طرف ایسی نگاہ سے اشارہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع