30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{65}…حضورِپاک،صاحب ِ لَولاک،سیّاحِ افلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک آسمان کے نیچے پیروی کی جانے والی نفسانی خواہش سے بڑھ کرپوجاجانے والاکوئی خدانہیں ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۷۵۰۲،ج۸،ص۱۰۳)
{66}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جس کے پاس اس کا مسلمان بھائی اپنے کسی گناہ کا عذرپیش کرے اور وہ اس کا عذر قبول نہ کرے تو کل قیامت کے دن حوض کوثر پر نہ آ سکے گا۔ ‘‘
(کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال،باب قبول المعذرۃ، الحدیث: ۷۰۲۸،ج۳،ص۱۵۳)
{67}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جوکسی مستحق یاغیرمستحق کاعذر قبول نہیں کرتا وہ قیامت کے دن حوض کوثرپرنہ آسکے گا۔ ‘‘ (المرجع السابق،الحدیث: ۷۰۲۹)
{68}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ چھ چیزیں عمل کو ضائع کر دیتی ہیں : (۱) مخلوق کے عیوب کی ٹوہ میں لگے رہنا (۲) دل کی سختی (۳) دنیاکی محبت (۴) حیاکی کمی (۵) لمبی امید اور (۶) حد سے زیادہ ظلم ۔ ‘‘ (کنزالعمال، کتاب المواعظ، قسم الاقوال،باب الفصل السادس، الحدیث: ۴۴۰۱۶،ج۱۶،ص۳۶)
{69}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمورَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ قیامت کے دن 8 قسم کے افراد اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہوں گے: (۱) جھوٹ بولنے والے (۲) تکبر کرنے والے (۳) وہ لوگ جو اپنے سینوں میں اپنے بھائیوں سے بغض چھپاکررکھتے ہیں جب وہ ان کے پاس آتے ہیں تویہ ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں (۴) وہ لوگ کہ جب انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی طرف بلایا جاتا ہے تو ٹال مٹول کرتے ہیں اور جب شیطانی کاموں کی طرف بلایا جاتا ہے تو اس میں جلدی کرتے ہیں (۵) وہ لوگ جو کسی دنیوی خواہش کی تکمیل پرقدرت پاتے ہیں تو قسمیں اٹھا کر اسے جائز سمجھنے لگتے ہیں اگرچہ وہ ان کے لئے جائزنہ بھی ہو (۶) چغلی کھانے والے (۷) دوستوں میں جدائی ڈالنے والے اور (۸) نیک لوگوں کے لئے گناہ میں مبتلاء ہونے کی تمناکرنے والے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناپسند فرماتا ہے۔ ‘‘ (المرجع السابق،الحدیث: ۴۴۰۳۷،ج۱۶،ص۳۹)
{70}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ کیامیں تمہیں سب سے بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ یہ وہ شخص ہے جو خود تو کھائے مگر اپنے مہمان کو کھانے سے روک دے، تنہا سفر کرے اور اپنے غلام کو مارے۔ کیامیں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ یہ وہ ہے جو لوگوں سے بغض رکھے اور لوگ بھی اس سے بغض رکھیں کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ یہ وہ ہے جس سے شر کا خوف تو رکھا جائے مگر بھلائی کی اُمیدنہ رکھی جائے، کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ یہ وہ ہے جو دوسرے کی دنیاکے عوض اپنی آخرت بیچ ڈالے، کیا میں تمہیں اس سے بھی بدترشخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ یہ وہ ہے جودین کے بدلے دنیا کھائے۔ ‘‘ (المرجع السابق،الفصل الثامن،الحدیث: ۴۴۰۳۸،ج۱۶،ص۴۰)
{71}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اے ابن آدم! تیرے پاس کفایت کے مطابق مال موجود ہے پھر بھی تو ایسی چیز مانگتا ہے جو تجھے سرکش بنا دے۔ اے ابنِ آدم! تو قلیل پرقناعت کرتا ہے نہ کثیر سے شکم سیر ہوتا ہے،اے ابن آدم! جب تو اس حالت میں صبح کرے کہ تیرا جسم تندرست ہو، تیرا دل بے خوف ہو اور تیرے پاس اس ایک دن کی خوراک بھی موجود ہو تواب دنیا پر خاک پڑے (یعنی پھر تجھے دنیا کی کسی چیز کی تمنا نہیں ہونی چاہئے ) ۔ ‘‘
(شعب الایمان، باب فی الزھد…الخ،الحدیث: ۱۰۳۶۰،ج۷،ص۲۹۴)
{72}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی بندے سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے تو اسے اپنی تقسیم پر راضی کر دیتا ہے اور اس کے لئے اس کے حصہ میں برکت ڈال دیتا ہے۔ ‘‘
(فردوس الاخبارللدیلمی،باب الالف،الحدیث: ۹۴۷،ج۱،ص۱۴۷)
{73}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جب تم میں سے کوئی کسی ایسے شخص کودیکھے جسے اس پرجسم اور مال میں فضیلت حاصل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے سے کمتر پر بھی نظر ڈال لے۔ ‘‘
(شعب الایمان،باب فی تعدیدنعم اللہ وشکرہا،الحدیث: ۴۵۷۴،ج۴،ص۱۳۷)
{74}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جب تم میں سے کوئی کسی ایسے شخص کودیکھے جسے اس پر مال اور صورت میں فضیلت حاصل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے سے کمتر پر بھی نظر ڈال لے۔ ‘‘
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب لینظرالی من ھو اسفل…الخ،الحدیث: ۶۴۹۰،ص۵۴۴)
{75}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کاارادہ فرماتاہے تواس کے نفس کوغنااور دل کوخوف سے بھردیتاہے اور جب کسی بندے سے برائی کاارادہ کرتا ہے تو اس کے فقر کو اس کے سامنے کر دیتاہے۔ ‘‘ (فردوس الاخبارللدیلمی،باب الالف،الحدیث: ۹۴۱،ج۱،ص۱۴۶)
{76}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ تم میں سے کسی کواتناہی کافی ہے جس پراس کا نفس قناعت کر لے، پھر وہ چار گز قبر کی طرف چلا جائے گا اورمعاملہ تو آخرت ہی کی طرف لوٹے گا۔ ‘‘
(جامع الاحادیث للسیوطی،قسم الاقوال، الحدیث: ۸۱۸۹،ج۳،ص۲۰۶،شبر بدلہ ’’ سبع ‘‘ )
{77}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع