دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

قرآن پاک کو گندگی سے آلودہ کر دیا تو اس کا یہ فعل کبیرہ ترین گناہ ہے حالانکہ شارع  عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح نہیں فرمائی۔ اور ان کے رَد کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس بد بخت کا یہ عمل اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنے کے زمرے میں آتاہے جو کہ منصو ص علیہ کبیرہ گناہوں میں سرِ فہرست ہے کیونکہ یہاں شرک سے بالاجماع مطلق کفر مراد ہے نہ کہ صرف شرک۔

                علامہ شمس برماوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ یہ سب اس صورت میں ہے جب کبیرہ گناہ کی تفسیر امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکے بیان کردہ معنی کے مطابق نہ ہو بلکہ کفر اور دیگر گناہوں سے عام ہونے کی بناء پر کی جائے اور مَیں  ( مصنفرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہ)  گذشتہ صفحات میں یہ بات بیان کرچکا ہوں کہ امام الحرمین وغیرہ کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کی جوتعریفیں بیان کی گئیں ہیں یہ کفر سے کم تر گناہ کی تعریفیں ہیں کیونکہ اگر کفر کو کبیرہ گناہ کہنا درست ہوتو یہ اکبرالکبائر ہوگا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے۔

                علامہ ابن عبدالسلام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے مذکورہ قول کے بعد چند مثالیں بھی دی ہیں ۔چنانچہ فرماتے ہیں :  

 (۱) …جس نے کسی شادی شدہ پاک دامن عورت کو زنا کے لئے یا کسی مسلمان کوقتل کرنے کے لئے قید کرلیا تو بلاشبہ اس کی برائی یتیم کا مال ناحق کھانے والے سے زیادہ ہے۔

 (۲) …اگر کسی نے یہ جاننے کے باوجود کہ کفار میرے بتانے سے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں گے، ان کی عورتوں اور بچوں کو گالیاں دیں گے اور ان کے اموال کو غنیمت بنا لیں گے، پھر بھی کافروں کو مسلمانوں کی کمزوریاں بتائیں تو اس کی برائی جہاد سے بغیر عذر فرار ہونے سے بہت زیادہ ہے۔

 (۳) …اگر کسی نے مسلمان پر جھوٹا الزام لگایا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ جھوٹے الزام کی وجہ سے اسے قتل کردیا جائے گا تو اس کی  برائی بھی بہت زیادہ ہے۔

                علامہ ابن عبدالسلام رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کئی مثالیں دینے کے بعد ارشاد فرمایا:  ’’ بعض علماء کرامرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہم نے کبیرہ گناہ کی پہچا ن کے لئے یہ قاعدہ بنایا ہے کہ ’’ ہر وہ گناہ جس پر کوئی وعید آئی ہو یا اس کے ارتکاب سے حد یا لعنت لازم آتی ہو تو وہ کبیرہ گناہ ہے۔ لہٰذا راستے کے نشان بدل دینا بھی گناہِ کبیرہ ہے کیونکہ اس پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ اسی طرح ہر وہ گناہ جس کے بارے میں یہ ثابت ہوجائے کہ اس کے مفاسد ان گناہوں کی طرح ہیں جن پر وعید، لعنت یا حدوارِد ہوئی ہے یا اُن کے مفاسد ان سے زیادہ ہیں تو وہ گناہ بھی کبیرہ ہیں ۔ ‘‘  

                علامہ ابن دقیق العید رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ ایسی صورت میں یہ بات شرط قرار پاتی ہے کہ اس برائی اور فساد کو لیا ہی نہ جائے جو کسی دوسرے اَمر سے خالی ہو کیونکہ اس میں غلطی واقع ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر کیا آپ نہیں جانتے کہ خمر  (شراب)  کی جو برائی فوراً ذہن میں آتی ہے وہ نشہ اور عقل کا خلجان ہے اگر ہم فقط ان دو چیزوں کو اس کی برائی میں شمار کریں تواس سے یہ بات لازم آئے گی کہ شراب کا ایک قطرہ پینا گناہِ کبیرہ نہیں کیونکہ اس میں یہ برائیاں نہیں پائی جاتیں حالانکہ یہ بھی گناہ کبیرہ ہے کیونکہ ایک قطرہ پینا زیادہ شراب پینے کاپیش خیمہ ہے جو کہ ان مفاسد میں ڈال دیتاہے لہٰذاقطرے کی یہی حیثیت اسے کبیرہ کردیتی ہے۔ ‘‘  

                علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُاللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  ’’ علامہ ابن دقیق العید رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے شراب کے ایک قطرے کا جو ذکر کیا ہے ان سے پہلے علامہ ابن عبدالسلام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کا ذکر کیاتھا، پھر اپنے قواعد میں یہ بات نقل کرنے کے بعد فرمایا:  ’’ میں نے اس تعریف سے بہتر کسی عالم کی بیان کردہ تعریف نہیں دیکھی۔ ‘‘  شاید ان کی مراد یہ ہے کہ میں نے کوئی ایسی تعریف نہیں دیکھی جو اعتراض سے بھی محفو ظ ہو اورجامع و مانع بھی ہو۔

٭…علامہ ابن صلاح رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاپنے فتاوی میں فرماتے ہیں :  ’’ علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے کبیرہ کی اس تعریف کو اختیار کیاہے کہ ’’ کبیرہ ہراس گناہ کو کہتے ہیں جو اتنا بڑا ہو کہ اسے کبیرہ گناہ کہا جاسکتا ہو اور اسے علی الاطلاق کبیرہ گناہ کے ساتھ متصف کیا جاتا ہو، اس کی چند علامتیں ہیں :  (۱) وہ گناہ حد کو واجب کرتاہو  (۲) اس کے ارتکاب پر عذابِ جہنم کا وعدہ ہو اور اس کی وعید قرآن وحدیث میں بیان کی گئی ہو (۳) اس کے فاعل کو فاسق کہا جاتا ہو اور  (۴) اس پر لعنت وارد ہوئی ہو۔ ‘‘  

                شیخ الاسلام علامہ بارزی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے  ’’ الحاوی ‘‘ کے حاشیہ پرلکھی گئی اپنی تفسیر میں اس کا خلاصہ یوں بیان کیا ہے:   ’’ تحقیق یہ ہے کہ ہر وہ گناہ کبیرہ ہے جس پر قرآن وحدیث میں وعید یا لعنت وارد ہوئی ہو یا جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اس کی برائی مذکورہ گناہ جیسی یا اس سے زیادہ ہے یا منصوص علیہ کبائر کوصغیرہ گناہ جاننے کی طرح اس کے مرتکب کااپنے دین کو ہلکا جاننا  ظاہر ہوتا ہو جیسے کسی کو بے گناہ سمجھ کر قتل کر دیا پھر پتہ چلا کہ وہ قتل ہی کا حق دار تھا یا کسی عورت سے یہ گمان کرتے ہوئے جماع کرنا کہ میں زنا کر رہا ہوں پھر پتہ چلا کہ وہ اس کی اپنی ہی بیوی یا لونڈی تھی۔ ‘‘  

                علامہ بارزی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے جو باتیں آخر میں ذکر کی ہیں انہیں علامہ ابن عبدالسلام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے قواعد کی ابتدا ء میں ان سے پہلے ہی ذکر کردیا تھا اور علامہ بارزی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے جو کلام ابتداء میں کیا ہے، حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کا قول اس کی تائید کرتا ہے کہ ’’ ہر وہ گناہ جس پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے جہنم، غضب، لعنت یا عذاب کی مُہر لگا دی ہو وہ کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘  اسے حضرت ابن جریررَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے روایت کیاہے۔

                جان لیں کہ بیا ن کردہ تمام تعریفات سے ان بزرگوں کا مقصود فقط اِعتدال کی راہ اختیار کرنا ہے ورنہ یہ تعریفات جامع نہیں ہیں اور جس چیز کی معرفت کا کوئی خاص قاعدہ مقرر نہ ہو اس کا شمار کیونکر ممکن ہے؟

                بعض علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے کبیرہ گناہوں کی صرف تعداد بیان کی ہے کوئی تعریف بیان نہیں کی۔ لہٰذا حضرت سیدنا ابن عباس اور دیگر صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ ’’ کبیرہ گناہ وہ ہیں جنہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے سورۂ نِساء کی ابتدائی آیات سے لے کر اس آیت:

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ  (پ۵، النسآء: ۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان : اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے۔

 تک بیان کیاہے۔ ‘‘  ایک قول یہ ہے کہ ’’ کبیرہ گناہ سات ہیں ۔ ‘‘ اس پر صحیحین (یعنی بخاری مسلم)  کی اس روایت سے استدلال کیا گیا ہے چنانچہ،

{1}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ہلاکت میں ڈالنے والے سات گناہوں سے بچتے رہو،وہ یہ ہیں :   (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا شریک ٹھہرانا (۲) جادو کرنا (۳) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ جان کو ناحق قتل کرنا (۴) یتیم کا مال کھانا  (۵) سود کھانا  (۶)  جہاد کے دن میدان سے فرار ہونا اور (۷) سیدھی سادی پاک دامن مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ ‘‘

  (صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب قول اللہ  تعالیٰ ان الذین یأکلون اموال الیتمیالخ،الحدیث: ۲۷۶۶،ص۲۲۲)

{2}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نِشان ہے :  ’’ کبیرہ گناہ یہ ہیں :  (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا شریک ٹھہرانا (۲) جادو کرنا  (۳) والدین کی نافرمانی کرنا اور  (۴) کسی جان کوقتل کرنا۔ ‘‘   (صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب الکبائر واکبرھا، الحدیث: ۲۶۱،ص۶۹۳،بدون ’’ السحر ‘‘ )

{3}…بخاری شریف کی روایت میں یہ اضافہ ہے :  ’’ جھوٹی قسم اٹھانا۔ ‘‘   (صحیح البخاری ،کتاب الایمان والنذور، باب الیمین الغموس، الحدیث: ۶۶۷۵،ص۵۵۸)

{4}…جبکہ مسلم شریف کی روایت میں  ’’ جھوٹی قسم ‘‘  کی جگہ  ’’ جھوٹی گواہی  ‘‘  کاذکر ہے۔ (صحیح مسلم،کتاب الایمان، باب الکبائرواکبرھا،الحدیث: ۲۶۰،ص۶۹۳)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن