30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مانتا، تقلیدِ ائمہ ضروری جانتا، اولیائے کرام کا سچا معتقد اور تمام عقائد میں راہِ حق پر مستقیم ہو ۔ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! امیر اہلسنت کے سنی صحیح العقیدہ ہونے پر شارح بخاری فقیہ اعظم ہند، خلیفۂ مجاز صدر الشریعہ ، سابق صدر شعبہ افتا وناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبارک پور (انڈیا) حضرت سیدنا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے یہ تاثرات سند کی حیثیت رکھتے ہیں :
دعوتِ اسلامی خالص سنی جماعت، صحیح العقیدہ لوگوں کی جماعت ہے ، اس جماعت کے بانی جناب مولانا محمد الیاس صاحب مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی سے میں بارہا مل چکا ہوں ، وہ انتہائی خوش عقیدہ سنی، مسلکِ اعلیٰ حضرت کے سختی سے پابند انسان ہیں اور وہ اپنے مخصوص طریقے سے اجتماعات کے ذریعے مسلکِ اعلیٰ حضرت ہی کی ترویج و اشاعت کرتے ہیں ، اس لیے تمام سنی مسلمانوں کو چاہیے کہ اس جماعت میں شریک ہوں ، اس کا تعاون کریں ، اس کے پروگرام پر عمل کریں ۔
مولانا محمد الیا س صاحب اس زمانے میں فی سبیل اللہ بغیر مشاہرے اور نذرانے کی طرف طمع کے ، خالص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا جوئی کے لیے اتنا عظیم الشان عالمگیر پیمانے پر کام کررہے ہیں ، جس کے نتیجے میں لاکھوں بدعقیدہ سنی صحیح العقیدہ ہوگئے اور لاکھوں شریعت سے بیزار افراد شریعت کے پابند ہوگئے ، بڑے بڑے لکھ پتی، کروڑ پتی گریجویٹ نے داڑھیاں رکھیں ، عمامہ باندھنے لگے ، پانچوں وقت باجماعت نماز پڑھنے لگے اور دینی باتوں سے دل چسپی لینے لگے ، دوسرے لوگوں میں دینی جذبہ پیدا کرنے لگے ، کیا یہ کارنامہ اس لائق نہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں قبول ہو ۔
حضرت اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِی عِنْدَ فَسَادِ اُمَّتِیْ فَلَہُ اَجْرُ مِائَۃِ شَھِیْد میری امت کے بگڑنے کے وقت جو میری سنت کا پابند ہوگا اس کو 100شہیدوں کا ثواب ملے گا ۔ ([2])
جب امت کے بگڑنے کے وقت سنت کی پابندی کرنے والے کے لیے سو شہیدوں کا ثواب ہے تو جو بندئہ خدا سنت کا پابند ہوتے ہوئے کروڑوں انسانوں کو ایک نہیں اکثر سنتوں کا پابند بنا دے ، ا س کا اجر کتنا ہو گا ۔ جہاں تک ہو سکے دعوتِ اسلامی کے فروغ اور ترقی کی کوشش کی جائے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شارح بخاری، خلیفۂ مجاز صدر الشریعہ حضرت سیدنا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے یہ خیالات و تاثرات شیخِ طریقت، امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سنی صحیح العقیدہ ہونے کی بین دلیل ہیں ۔ نیز آپ جس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی سنی صحیح العقیدہ ہے ، آپ کے والدین کریمین متقی و پرہیز گار تھے ۔ چنانچہ،
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے والدِ بُزُرگوار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار سلسلہ عالیہ قادِریہ کے صاحبِ کرامت بُزُرگ تھے ۔ 1979ء میں جب شَیخِ طریقت امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کولمبو تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں کو والد صاحب سے بَہُت متأثر پایا کیونکہ انہوں نے وہاں کی عالیشان حَنَفی میمن مسجد کے انتظامات سنبھالے تھے اور اس مسجد کی کافی خدمت بھی کی تھی ۔ وہاں پر امام صاحب کی غير حاضری ميں نمازيں بھی پڑھا ديا کرتے تھے ۔ کولمبو میں قیام کے دوران امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے خالو نے دورانِ گفتگو آپ کو بتایا کہ آپ کے والد صاحب بہت نيک آدمی تھے ، غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بہت چاہنے والے اور قصيدہ غوثيہ کے عامل تھے ۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب کبھی چار پائی پر بیٹھ کر آپ کے والد صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ قصیدہ غوثیہ پڑھتے تو ان کی چار پائی زمین سے بلند ہو جاتی تھی ۔ (سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک بار فرمایا کہ مجھے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ثنا خوانی سے ہوش سنبھالتے ہی لگاؤ ہو گیا تھا اور اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی عقیدت بھی دل میں بیٹھ چکی تھی ۔ لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لکھے ہوئے کلام پڑھنا اور سُننا پسند کرتا تھا ۔ ایک مرتبہ میں بادامی مسجد (بمبئی بازار بابُ المدینہ کراچی) میں شوق ہی شوق میں مائیک پر نعت پڑھنے کھڑا ہو گیا مگر ابھی صرف یہ شعر ہی پڑھ پایا تھا :
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے
یکایک ایک بوڑھے شخص نے جھڑکتے ہوئے مجھے مائیک سے ہٹا دیا، شاید اس لئے کہ میں کم سن تھا اور آواز بھی خاص نہ تھی ۔ میرا دل بہت دُکھا مگر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُلفت اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عقیدت نے سنبھال لیا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو اس وقت اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے لکھے ہوئے اس کلام کو پڑھنے سے تو روک دیا گیا مگر لگتا یوں ہے کہ بارگاہِ رسالت میں کیا جانے والا یہ استغاثہ (یعنی مرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے ) ایسا مقبول ہوا کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قلب مبارَک کووہ چمک عطا ہوئی جس نے لاکھوں زنگ آلود دلوں کے میل کو دور کرکے مَدَنی چمک سے اُجیالا کر دیا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع