30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں رہتے ہو اور وہ مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا میں ۔ تم نے ابھی تک انہیں دیکھا تک نہیں ہے ، آخِر تصوُّرِ شیخ کس طرح کرو گے ؟ میں نے کہا : اس میں کون سی بڑی بات ہے اگر پیر کامل ہو تو خواب کے ذَرِیعے بھی یہ مسئلہ حل کرسکتا ہے ظاہِری دُوری فیوض و بَرَکات میں رُکاوٹ نہیں بن سکتی ۔
اُسی رات (یعنی ربیعُ النّور شریف کی دسویں شب) جب سویا تو سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لیکر جاگ اٹھی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سچ مچ میرے ہونے والے پیر ومُرشِد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے خواب میں تشریف لے آئے اور اتنی دیر تک جلوہ افروز رہے کہ ان کا نقشہ میرے ذِہن میں اچّھی طرح محفوظ ہو گیا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آج بھی محفوظ ہے ۔ میں نے خوشی خوشی حضرتِ سیِّدی قطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خلیفۂ مجاز پیرِ طریقت حضرت الحاج علّامہ مولیٰنا حافِظ قاری محمد مُصلحُ الدین صدّیقی القادری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی خدمت میں حاضِر ہو کر اپنا خواب سنایا ۔ انہوں نے مجھ سے حضرتِ سیِّدی قطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا حُلیہ دریافت کیا، میں نے جو دیکھا تھا بیان کر دیا ۔ اُنہوں نے اس کی تصدیق فرمائی کیوں کہ قبلہ قاری صاحِب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بارہا مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا میں حضرتِ سیِّدی قطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضِری دے چکے تھے ۔ پھرقاری صا حِب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہی سے بسلسلۂ بیعت عریضہ لکھوا کر کراچی سے مدینۂ طیِّبہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا روانہ کیا ۔ جواب نہ ملا ۔ چند بار اِسی طرح عریضے بھیجے مگر جواب نَدارَد ۔ میں بھی ہمّت ہارنے والا نہیں تھا ۔ آخِر کار ایک سال اور پانچ روز گزرنے کے بعد پھر قسمت چمکی، رات خواب میں زیارت ہوئی ۔ میں حیران تھا کہ مُرید بھی نہیں بناتے ، توجُّہ بھی نہیں ہٹاتے آخِرمُعامَلہ کیا ہے ؟ مجھے کیا معلوم تھاکہ انتِظار کی گھڑیاں خَتْم ہوچکی ہیں ۔ رات کو زِیارت کی پھر دن آیا اور مغرِب کی نَماز کے بعد پتا چلا کہ مدینۂ پا ک زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا کی مشکبار فَضاؤں کو چومتا ہوا جھومتا ہوا مُرشدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہِ عِطر بیز و عنبر خیز سے قَبولیَّت کا مُژدۂ جانفِزا آپہنچا ہے ۔ اَلحمدُللّٰہِ علٰی اِحسانِہٖ ۔ پھر جب ۱۴۰۰ ھ میں مُقدَّر نے یاوَری کی، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کرم فرمایا تو جَدّہ شریف کے ایئرپورٹ پر اتر کرمُحسن و کرم فرما اور اپنے پیر بھائی ساکنِ مدینہ الحاج صوفی محمد اقبال قادِری رضوی ضیائی سَلَّمَہُ الْبَارِی کی کار میں بیٹھ کر سیدھا مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا حاضِر ہوا ۔ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں صلوٰۃ و سلام عرض کرنے کے بعدمُرشِدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے آستانۂ عالیہ پر حاضِر ہوا، جب بے تاب نگاہیں مُرشِدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے چِہرۂ زیبا پر پڑیں تو دل کو گواہی دینی پڑی کہ یہ تو وُہی نورانی چہرہ ہے جسے بابُ المدینہ کراچی میں خواب میں دیکھ چکا ہوں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ
تصوُّر جماؤں تو موجود پاؤں
کروں بند آنکھیں تو جلوہ نُما ہیں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کم و بیش دو ماہ مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا میں حاضِری کی سعادت حاصِل رہی، اِس دوران تقریبًا روزانہ آستانۂ عالِیہ پر ہونے والی محفلِ نعت میں حاضِری دیتا رہا ۔ بارہا شام کو بھی آستانۂ مُرشِدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر حاضِری نصیب ہوتی رہی ۔ جب مدینۂ طیِّبہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آئی تو سر پر کوہِ غم ٹوٹ پڑا، بارگاہِ رسالت میں سلامِ رخصت عرض کرنے کے لئے چلا تو عجیب حالت تھی، محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی گلی کے درودیوار اور بَرگ و بار چومتا ہوا بڑھا چلا جا رہا تھا ۔ اِسی دوران محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی گلی کے ایک خار (یعنی کانٹے ) نے آنکھ کے پپوٹے پر پیار سے چٹکی بھر لی جس سے ہلکا سا خون اُبھر آیا ۔
یہ زخم ہے طیبہ کا یہ سب کو نہیں ملتا
کوشش نہ کرے کوئی اِس زخم کو سینے کی
بَہَرحال مواجَھَہ شریف پر حاضِر ہوکر سلام عرض کرکے روتا ہوا مسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَام سے باہَر نکلا اور گرتاپڑتا مُرشِد کے آستانۂ عالیہ پر حاضِر ہوا اور مضطرِبانہ سر مُرشِد کے زانوپر رکھ دیا اور روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں ۔ مُرشِدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انتہائی مَحَبَّت کے ساتھ سر پر دستِ شفقت پھیر کر بٹھایا اور ارشاد فرمایا : ’’بیٹا تم مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا سے جا نہیں ، آرہے ہو ۔ ‘‘ اُس وَقت مجھے اپنے ولیٔ کامل پیر و مُرشِد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اِس جملے کے معنٰی سمجھ میں نہیں آئے کیونکہ بظاہِر میں جا رہا تھا اورمُرشِد فرما رہے تھے : ’’ تم جانہیں ، آرہے ہو ۔ ‘‘ لیکن اب اچّھی طرح اِس جملے کے سربَستہ راز کو سمجھ چکا ہوں کیوں کہ یہ مُرشِد کی کرامت تھی اورمیرا حسنِ ظن ہے کہ مُرشِد میرا مستقبل دیکھ چکے تھے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طفیل مُرشِد کے صدقے مدینۂ پاک زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا کی اتنی بار حاضِری نصیب ہوئی ہے کہ مجھے یادبھی نہیں کہ میں نے کتنی بار سفرِ مدینہ کیا ہے ! یہ سب کرم کی بات ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کرے مُرشِد کے صدقے اسی طرح مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا میں آنا جانا رہے اور آخر کار جنَّتُ الْبقیع میں مُرشِد کے قدموں میں مدفن نصیب ہوجائے ۔
رہے ہر سال میرا آنا جانا یارسو لَ اللہ
بقیعِ پاک ہو آخِر ٹھکانا یارسو لَ اللہ
مرشِد سُنّی صحیح العقیدہ ہو ۔ بدمذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک ۔ آج کل بَہُت کھلے ہوئے بددینوں بلکہ بے دینوں نے کہ جو بَیْعَتْ کے سِرے سے منکر و دشمنِ اَولیا ہیں ، مکاری کے ساتھ پیری مریدی کا جال پھیلا رکھا ہے ۔ ہوشیار! خبردار! احتیاط! احتیاط! ۔
اَمِیْرِ اَہْلِسُنَّت اور دوسری شرط
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر اہلسنت کے سنی صحیح العقیدہ ہونے کے متعلق جاننے سے پہلے یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ سنی صحیح العقیدہ سے مراد کون شخص ہے ؟ چنانچہ،
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن فرماتے ہیں کہ سنی صحیح العقیدہ سے مراد وہ شخص ہے جو ائمۂ ہدیٰ کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع